چارہ سکینڈل: لالو کی درخواست مسترد

Image caption چارہ گھپلے کی وجہ سے ہی لالو پرساد کو وزارتِ اعلیٰ کا عہدہ چھوڑنا پڑا تھا

بھارتی سپریم کورٹ نے راشٹریہ جنتادل کے سربراہ لالو پرساد یادو کا مقدمہ کسی اور عدالت میں منتقل کرنے کی درخواست مسترد کردی۔

لالو پرساد نے ذیلی ‏عدالت سے اپنے مقدمے کی منتقلی کی درخواست اس دلیل کی بنیاد پر کی تھی کہ عد‏الت کے جج ان کے سیاسی حریف کے قریبی رشتےدار ہیں اور وہ ممکنہ طور پر اس مقدمے میں غیر جانبداری سے فیصلہ نہیں کر سکیں گے۔

‏عدالت عظمٰی نے لالو پرساد کی درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان کے اندیشے بے بنیاد اور بے جواز ہیں۔

عدالت نے کہا کہ ’ذیلی عدالت کے جج کا طریقہ کار مسلمّہ ضابطوں کے دائرے میں رہا ہے اور مقدمے کے آخری مراحل میں ان پر جانبداری کا الزام لگانا غلط ہے۔‘

عدالت عظمٰی نے لالو پرساد یادو کو ذیلی عدالت میں اپنی دلیلیں پیش کرنے کے لیے مزید پندرہ دن کی مہلت دی ہے۔ ذیلی عدالت سے کہا گیا ہے کہ وہ بیس دن کے بعد جلد سے جلد اپنا فیصلہ سنائے۔

یادو پر الزام ہے کہ 1996 میں انہوں نے بہار حکومت کے خزانے میں تقریباً 38 کروڑ روپے کا غبن کیا تھا۔ یہ رقم مویشیوں کے چارے کے لیے مختص کی گئی تھی۔

لیکن اس کے استعمال میں بد عنوانی کے انکشافات کے بعد یہ معاملہ سی بی آئی کے حوالے کر دیا گیا تھا۔ چارہ گھپلے کے نام سے مشہور اس مقدمے میں لالو کے علاوہ دیگر 44 افراد ملزم ہیں۔

دلی میں ہمارے نامہ نگار شکیل اختر کا کہنا ہے کہ اگر لالو چارہ گھپلے میں قصوروار پائےگئے تو انہیں فوری طور پر جیل ہو سکتی ہے۔

لالو کے لیے یہ مشکل گھڑی ہے۔ بہار میں حالیہ مہینوں میں موجودہ حکومت کی مقبولیت گھٹی ہے جس سے لالو کو کچھ فائدہ ہوتا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔

آئندہ سال پارلیمانی انتخاب ہونے والے ہیں۔ چارہ گھپلے میں قصور وار پائے جانے پر انہیں سیاسی طور پر شدید نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔

اسی بارے میں