’بلااشتعال خلاف ورزیوں سے باہمی رشتے متاثر‘

Image caption ایل اور سی پر کئی دنوں سے صورتحال کشیدہ ہے اور سیز فائر کی خلاف ورزیوں کے الزامات ایک دوسرے پر عائد کیے جا رہے ہیں

بھارت نے کہا ہے کہ باہمی اعتماد کو فروغ دینے کے لیے لائن آف کنٹرول کا احترام کیا جانا ضروری ہے کیونکہ ایل او سی کی بلااشتعال خلاف ورزیوں سے باہمی رشتے متاثر ہوتے ہیں۔

دہلی میں ایک پریس بریفنگ کےدوران وزارت خارجہ کے ترجمان سید اکبر الدین نے کہا کہ تعلقات کی استواری کے لیے پاکستان کی جانب سے کیے جانے والے اعلانات کا ہم خیر مقدم کرتے ہیں لیکن موجودہ صورتحال میں لائن آف کنٹرول کا احترام کیا جانا کلیدی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ ایل او سی کی بلااشتعال خلاف ورزیوں سے تعلقات کی بحالی کی کوششیں متاثر ہوں گی۔

’پاک بھارت دوستی اور امن کا خواب‘

’تعلقات بہتر کرنے کی کوشش اور جھڑپیں‘

’انڈیا اور بھارت دونوں قصوروار‘

پاک بھارت مسائل؟

پاک بھارت تعلقات میں اتار چڑھاؤ کی تفصیل

نامہ نگار سہیل حلیم کے مطابق وزارت خارجہ کے ترجمان سید اکبر الدین نے کہا ’ہم توقع کرتے ہیں کہ پاکستان اپنے اس وعدے پر قائم رہے گا کہ وہ اپنے زیر انتظام علاقوں کو بھارت کے خلاف دہشت گردی اور تشدد کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا‘۔

بھارت کا الزام ہے کہ چھ اگست کی صبح پاکستانی فوج کے جوان لائن آف کنٹرول پار کر کے بھارتی خطے میں داخل ہوئے اور بھارتی فوج کے ایک دستے پر حملہ کر کے پانچ جوانوں کو ہلاک کر دیا۔

پاکستان اس الزام سے انکار کرتا ہے۔ گزشتہ چند دنوں میں دونوں ملکوں نے ایک دوسرے پر لائن آف کنٹرول پر بلااشتعال فائرنگ کرنے کا الزام بھی لگایا ہے اور اپنی ناراضگی ظاہر کرنے کے لیے دونوں حکومتوں نے ایک دوسرے کے سفارتکاروں کو بھی طلب کیا ہے۔

لیکن اکبر الدین نے اس بارے میں کوئی واضح جواب نہیں دیا کہ آیا دونوں ملکوں کے وزرا اعظم کےدرمیان نیو یارک میں ملاقات ہوگی یا نہیں۔ پہلے یہ خبریں تھیں کہ دونوں وزرا اعظم کے درمیان نیو یارک میں ستمبر میں ہونے والے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران ملاقات ہو سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’ آپ کو معلوم ہے کہ ملاقاتوں کا اعلان چند روز پہلے ہی کیا جاتا ہے۔ میں کہوں گا کہ آپ ذرا صبر سے کام لیں (ستمبر میں) ابھی کافی وقت باقی ہے، ہم دیکھے گےکہ اس وقت تک حالات کیا شکل اختیار کرتے ہیں، لہذٰا اس وقت ہمیں کوئی نتیجہ اخذ نہیں کرنا چاہیے۔‘

سیکریٹریوں کی سطح کے مجوزہ مذاکرات کے بارے میں بھی انہوں کوئی واضح جواب نہیں دیا۔

’ہمیں اس سلسلے میں پاکستان کی جانب سے تجویز حاصل ہوئی تھی لیکن جیسا میں نے کہا کہ مذاکرات پرامن ماحول میں ہی ہو سکتے ہیں۔۔۔لیکن بات چیت کے لیے کوئی ٹائم لائن طے نہیں تھی اور ہم مجموعی صورتحال پر غور کر رہے ہیں، جیسے ہی کوئی حتمی فیصلہ ہوگا اس کا اعلان کیا جائے گا۔‘

جنوری سے دونوں ملکوں کے تعلقات کشیدگی کا شکار رہے ہیں۔ اس وقت بھارت نے الزام لگایا تھا کہ پاکستانی فوجیوں نے اس کے خطے میں داخل ہوکر دو بھارتی فوجیوں کو نہ صرف ہلاک کیا تھا بلکہ ان میں سے ایک کا سر کاٹ کر اپنے ساتھ لے گئے تھے۔ پاکستان نے اس الزام کو مسترد کیا تھا۔

اسی پس منظر میں بھارت میں حزب اختلاف کی جماعتیں حکومت پر اس بات کے لیے دباؤ قائم کر رہی ہیں کہ لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزیوں کا سختی سے جواب دیا جائے اور موجودہ حالات میں پاکستان سے بات چیت نہ کی جائے۔

چند روز پہلے پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف نے لائن آف کنٹرول پر ہونے والے حالیہ واقعات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ دوطرفہ فوجی روابط کے موجودہ طریقۂ کار کو مزید بہتر طریقے سے استعمال کرنے کی ضرورت ہے تاکہ غلط فہمیاں پیدا نہ ہوں اور صورتحال کشیدگی کی طرف نہ بڑھے۔

وزیراعظم کے بقول دونوں ممالک کے لیے ضروری ہے کہ وہ لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی کو یقینی اور موثر بنانے کے لیے اقدامات کریں۔

’پاکستان بھارت کے ساتھ سیاسی اور فوجی سطح پر روابط کے موجودہ طریقۂ کار کو مزید موثر بنانے کے لیے بات چیت کرنے پر تیار ہے‘۔

نواز شریف نے کہا کہ فضا کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات کرنا فریقین کی قیادت کی ذمہ داری ہے اور نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر بھارتی ہم منصب سے ملاقات کے منتظر ہیں اور اس میں اعتماد سازی کے اقدامات کو مستحکم کرنے پر تبادلہ خیال کریں گے۔

اسی بارے میں