بھارت کے زیرِانتظام کشمیر میں’یومِ آزادی‘ پر ہڑتال

Image caption علیحدگی پسندوں کے علاوہ سکھوں کی تنظیم دل خالصہ نے بھی پندرہ اگست کو یوم سیاہ کے طور منانے کی اپیل کی ہے

بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں ہرسال کی طرح جمعرات کو بھی بھارت کے یوم آزادی کے موقع پر مکمل ہڑتال کی گئی ہے۔

بھارت کے یومِ آزادی کے موقع پر کڑے حفاظتی حصار میں بھارتی پرچم لہرانے کی مختلف تقاریب منعقد ہوئیں جن میں وزیراعلیٰ، دیگر وزراء اور پولیس و سول انتظامیہ کے اعلیٰ افسران نے پریڈ سے سلامی لی۔

ہمارے نامہ نگار ریاض مسرور کے مطابق اس موقعہ پر عدیم المثال سکیورٹی پابندیاں نافذ کی گئیں۔ کشتواڑ میں عیدالفظر کے روز فرقہ وارانہ کشیدگی کے بعد اکثر اضلاع میں پہلے سے ہی کرفیو نافذ ہے۔

کشمیر میں کسی پرتشدد ردِعمل کو روکنے کے لیے انتظامیہ نے ایک ہفتے کے لیے وائرلیس انٹرنیٹ پر پابندی عائد کردی تھی لیکن چودہ اگست کی رات سے ہی موبائل فون بھی بالکل بند کردیے گئے۔

سکیورٹی حکام کا کہنا ہے ان پابندیوں کا فیصلہ بھارت کی وزارتِ داخلہ اور کشمیر کی انتظامیہ نے طویل مشاورت کے بعد کیا تھا۔

قابل ذکر ہے مقامی کیبل ٹی وی پر خبروں کی نشریات کئی سال سے معطل ہیں اور فیس بک یا ٹوئٹر پر بھی پولیس کی کڑی نظر ہے۔ انٹرنیٹ پر تبصروں یا ویڈیوز کی باریک بینی سے مانیٹرنگ کی جاتی ہے، اور حکومت نے اس کے لیے باقاعدہ ’سائبر سیل‘ قائم کیا ہے۔

دریں اثنا علیحدگی پسندوں کے علاوہ سکھوں کی تنظیم دل خالصہ نے بھی پندرہ اگست کو یوم سیاہ کے طور منانے کی اپیل کی ہے۔

جمعرات کو ہڑتال اور سکیورٹی پابندیوں کی وجہ سے کشمیر میں عام زندگی معطل ہوکر رہ گئی۔

سری نگر کے بخشی سٹیڈیم میں یومِ آزادی کی سب سے بڑی تقریب منعقد ہوئی لیکن اس میں حسبِ روایت عام لوگ شریک نہیں ہوئے۔ بارش کی وجہ سے کوئی تمدنی پروگرام بھی منعقد نہ ہوا۔

اُدھر جموں میں بی جے پی نے کشتواڑ ضلع میں فرقہ وارانہ کشیدگی کو سیاسی ایجنڈا بناتے ہوئے مزید دو روز تک ہڑتال کی کال دی ہے تاہم حکمران جماعتوں کانگریس، نیشنل کانفرنس اور دوسرے ہندنواز گروپوں نے بی جے پی کو فرقہ وارانہ تشدد کے لیے براہ راست ذمہ دار ٹھہرایا اور الزام عائد کیا کہ یہ تنظیم جموں خطے میں ہندوں اور مسلمانوں کے درمیان نفاق پیدا کرکے سیاسی مفادات حاصل کرنا چاہتی ہے۔ علیحدگی پسندوں نے بھی یہی لہجہ اختیار کیا۔

حریت کانفرنس (گ) کے رہنما گیلانی نے کہا ہے کہ جموں خطے میں عسکریت پسندوں کے خلاف جنگ کا بہانہ بناکر مخصوص فرقہ کے لوگوں کو ہتھیار دیے جارہے ہیں۔

ویلیج ڈیفنس کمیٹیوں کے قیام کو کشمیر کی اکثریتی آبادی کے لیے خطرہ قرار دے کر سید علی گیلانی نے کہا کہ ان کمیٹیوں کو غیرمسلح کرنے کا مطالبہ کرنے کے لیے سنیچر کو ہڑتال کی جائے گی۔

اسی بارے میں