بھارت کو مطلوب شدت پسند عبدالکریم ٹُنڈا گرفتار

Image caption ٹُنڈا بھارت کو 40 سے زیادہ بم دھماکوں کے الزام میں مطلوب ہیں

بھارت کو مطلوب ترین شدت پسندوں میں سے ایک سید عبدالکریم عرف ٹُنڈا کو دہلی پولیس نے بھارت نیپال سرحد سے گرفتار کیا ہے۔

ٹُنڈا بھارت کو 40 سے زیادہ بم دھماکوں کے الزام میں مطلوب ہیں۔

دارالحکومت دہلی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے دہلی پولیس کمشنر (سپیشل سیل) ایس این سریواستو نے کہا کہ ’عبدالکریم عرف عبدالقدوس ٹنڈا کو جمعے کو بھارت نیپال سرحد پر بنواسا کے مقام سے گرفتار کیا گیا۔ اور سنیچر کو انہیں عدالت میں پیش کیا گیا۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’ان کے پاس سے پاکستان کا ایک پاسپورٹ ضبط کیا گیا ہے جن پر ان کا نام عبدالقدوس درج ہے۔‘

پولیس کمشنر نے مزید کہا کہ ’انہیں ٹُنڈا کے نام سے اس لیے جانا جاتا ہے کہ انھوں نے اپنا بایاں ہاتھ بم بنانے کے کی کوشش میں گنوا دیا تھا۔‘

جوائنٹ پولیس کمیشنر ایم ایم اوبرائے نے کہا کہ 2004 میں ان کی موت کی ایک خبر آئی تھی لیکن 2005 میں پھر پتہ چلا کہ وہ دہشت گردانہ کاروائیوں میں سرگرم ہیں۔

پولیس کے مطابق انہوں نے چالیس سال کی عمر میں ’شدت پسندی اور دہشت گردی‘ کی کارروائیوں میں حصہ لینا شروع کیا۔

پولیس نے یہ بھی بتایا کہ وہ سرحد پار سے بھارت میں ’دہشت گردانہ‘ کاروائیوں میں ملوث رہے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق انہیں بظاہر ایک خلیجی ملک سے ملک بدر کر کے روانہ کیا گیا ہے۔

ٹُنڈا کا تعلق کالعدم تنظیم لشکر طیبہ سے بتایا جاتا ہے اور انہیں بم بنانے کے ماہر کے طور پر جانا جاتا ہے۔ بظاہر انہیں ٹُنڈا کے نام سے اس لیے جانا جاتا ہے کہ انہوں نے اپنا ایک ہاتھ گنوا دیا تھا۔

دہلی پولیس کے مطابق انہیں سنیچر کو عدالت کے سامنے پیش کیا جائے گا۔

ٹُنڈا کے بارے میں انٹرپول کی جانب سے ایک نوٹس 1996 میں جاری کیا گیا تھا۔

بھارتی خبررساں ادارے پی ٹی آئی کے مطابق بھارت کی شمالی ریاست اترپردیش سے تعلق رکھنے والے 70 سالہ ٹُنڈا ان بیس افراد میں شامل ہیں جنہیں سنہ 2001 میں بھارتی پارلیمان پر ہوئے حملے کے بعد پاکستان سے طلب کیا گیا تھا۔

اس فہرست میں حافظ محمد سعید کے علاوہ جیش محمد کے سربراہ مولانا اظہر مسعود کا نام بھی شامل تھا۔

بھارت کے مرکزی تفتیشی ادارے سی بی آئی نے ٹُنڈا پر جموں کشمیر کے باہر ممبئی کے سلسلہ وار دھماکوں، حیدرآباد، دہلی، روہتک (ہریانہ) اور جالندھر (پنجاب) کے دھماکوں میں جن میں 20 افراد ہلاک اور 400 سے زیادہ زخمی ہوئے تھے، میں مورد الزام ٹھہرایا تھا۔

ٹُنڈا پر لشکر طیبہ کے نیٹ ورک کو بھارت کے زیر انتظام جموں اور کمشمیر میں پھیلانے کا الزام بھی ہے۔