’نہرو نے امریکہ کو ہوائی اڈے کے استعمال کی اجازت دی‘

Image caption 24 مئی 1964 تک چاربتيا سے پہلے مشن کا آغاز نہیں ہو سکا اور اس کے تین دن بعد نہرو کا انتقال ہو گیا اور بعد میں اس آپریشن کو ملتوی کر دیا گیا

بھارت نے 1962 کے جنگ میں شکست کے بعد چین کی سرحد پر نظر رکھنے کے لیے امریکہ کے ’یو ٹو‘ جاسوسی طیاروں کو اپنے ہوائی اڈے کے استعمال کی اجازت دی تھی۔

امریکہ میں جمعہ کو جاری دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ بھارتی وزیر اعظم جواہر لال نہرو نے 11 نومبر 1962 کو چین سے ملحقہ سرحد پر نظر رکھنے کے لیے یو ٹو مشن کو بھارتی علاقے میں پرواز کی اجازت دی تھی۔

امریکہ کے اطلاعات کی آزادی کے قانون کے تحت نیشنل سکیورٹی آرکائیو نے سی آئی اے سے اس سے منسلک دستاویز حاصل کیے ہیں۔ انہی دستاویزات میں یہ معلومات دی گئی ہیں۔

اس کے بعد امریکہ کے دورے پر گئے وقت کے بھارتی صدر ایس رادھا کرشنن اور امریکی صدر جان ایف کینیڈی کے درمیان تین جون 1963 کو اڑیسہ کے چاربتيا ہوائی اڈے کے استعمال پر اتفاق کیا گیا۔

چاربتيا ہوائی اڈہ دوسرے عالمی جنگ کے وقت بنایا گیا تھا۔ لیکن اس کی مرمت میں زیادہ وقت لگنے کی وجہ سے مشن کو تھائی لینڈ سے شروع کیا گیا۔

سنہ 1954 سے 1974 کے درمیان کے جاسوسی مشن کے بارے میں جاری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 10 نومبر 1963 کو یو ٹو مشن نے پونے بارہ گھنٹے کی سب سے طویل پرواز کی۔

اس پرواز میں پائلٹ بری طرح تھک گیا تھا۔ اس کے بعد سے اس پراجیکٹ کے سربراہ نے مستقبل کی پروازوں کی مدت 10 گھنٹے تک محدود کر دیں۔

نیشنل سکیورٹی آرکائیو نے کہا ہے کہ نہرو کے انتقال کی وجہ سے مئی 1964 میں چاربتيا میں پہلی تعیناتی ختم ہو گئی تھی۔

یو ٹو پروگرام کے بارے میں سی آئی اے کے ایک اور دستاویز کی بنیاد پر این ایس اے نے کہا ہے کہ سی آئی اے نے ان یو ٹو جاسوس طیاروں کے کئی مشنز کیے۔

اس کی بنیاد پر ہندوستانی سرحد میں چین کی دراندازی کی معلومات دی گئی تھیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے ’چاربتيا 1964 کے آغاز میں بھی استعمال میں نہیں تھا۔ اس لیے 31 مارچ 1964 کو تھائی لینڈ سے دوسرا مشن ڈیٹیچمنٹ جی سٹیج شروع کیا گیا۔ 24 مئی 1964 تک چاربتيا سے پہلے مشن کا آغاز نہیں ہو سکا۔ اس کے تین دن بعد نہرو کا انتقال ہو گیا اور بعد میں اس آپریشن کو ملتوی کر دیا گیا۔‘

اس کے بعد چاربتيا سے پائلٹ اور طیارے چلے گئے لیکن رقم بچانے کے لیے دوسرے لوگ وہیں رک گئے۔

دسمبر 1964 میں بھارت اور چین کے درمیان سرحد پر تنازع بڑھنے کے وقت چاربتيا میں ڈیٹیچمنٹ واپس آئی اور تین کامیاب مشن کیے۔

حالانکہ اس وقت تک ڈیٹیچمنٹ کے ایشیا آپریشن کے لیے تھائی لینڈ اہم اڈہ بن چکا تھا اور چاربتيا صرف ایک فارورڈ سٹیجنگ بیس تھا۔ جولائی 1967 میں چاربتيا کو بند کر دیا گیا۔

سی آئی اے کی رپورٹ کے مطابق اکتوبر 1962 میں چین نے ہندوستانی سرحد پر فورسز کے خلاف جموں اور کشمیر اور نارتھ - ایسٹ فرنٹیئر ایجنسی میں بڑے پیمانے پر اچانک حملے کیے۔

چینی فوجیوں نے اپنی کارروائی روکنے سے پہلے تک برہم وادی کے شمال میں موجود ہندوستانی سرحد فورسز کو ختم کر دیا تھا۔

اس کے بعد ہندوستان کی حکومت نے امریکی حکومت سے فوجی مدد کی اپیل کی تھی۔

اس وقت بھارت میں امریکی سفیر جان کینتھ نے بھارتی حکومت کو مشورہ دیا تھا کہ متنازع علاقے کے ہوائی سروے سے چین کی دراندازی کے بارے میں درست تصویر مل سکے گی۔

امریکہ دو وجوہات سے سرحدی علاقے کی تصاویر بھارت کے ساتھ شیئر کرنا چاہتا تھا۔ ایک وجہ یہ تھی کہ امریکی پالیسی ساز متنازع علاقے کی تصویر واضح کرنا چاہتے تھے۔ اور دوسری وجہ سوویت یونین کے خلاف بھارت میں مستقل ’الیکٹرانک جاسوسی مشن‘ قائم کرنا تھا۔

اس کے بعد اپریل 1963 میں امریکی سفیر نے بھارت میں مستقل بیس کے لیے پہلی رسمی درخواست کی جس کے بعد امریکی صدر جان ایف کینیڈی اور رادھا کرشنن کے درمیان چاربتيا میں ٹھکانہ بنانے پر اتفاق ہوا۔

اسی بارے میں