پونے: کالے جادو کے مخالف کارکن کی ہلاکت

Image caption نریندرہ کو خود ساختہ سادھوؤں پر کھلے عام تنقید کی وجہ سے بھی جانا جاتا تھا

بھارتی پولیس کے مطابق ملک میں توہم پرستی کے خلاف مہم چلانے والے کارکن نریندرہ دابھالکر کو پونے میں گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا ہے۔

وہ کالے جادو پر پابندی عائد کروانے کے لیے قانون سازی کی مہم بھی چلا رہے تھے۔

اکہتر سالہ نریندرہ دابھالکر جب منگل کی صبح اپنی روز مرہ کی چہل قدمی کر رہے تھے تو اس دوران دو مسلح موٹر سائیکل سواروں نے ان پر حملہ کیا۔

انھیں کمیٹی فار ایراڈیکیشن آف بلائنڈ فیتھ یا اندھی تقلید کو ختم کرنے کی کمیٹی بنانے کی وجہ سے جانا جاتا ہے۔ انھوں نے اس کمیٹی کی بنیاد بیس سال پہلے رکھی تھی۔

مہاراشٹرا کے وزیرِاعلیٰ نے ان کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے قاتلوں سے متعلق معلومات فراہم کرنے پر انعام کا اعلان کیا ہے۔

میڈیا رپورٹوں کے مطابق نریندرہ کو ایک ایسے وقت ہلاک کیا گیا ہے کہ جب مہاراشٹر کی ریاستی حکومت کی طرف سے توہم پرستی پر پابندی کے متنازع بل کو پیش کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

نریندرہ کے نقاد ان پر ایک ایسے ملک میں مذہب مخالف ہونے کا الزام عائد کرتے تھے جہاں تصوف اور روحانیت کی بڑی قدر کی جاتی ہے لیکن خبر رساں ادارے اے ایف پی سے دو سال پہلے بات کرتے ہوئے انھوں ان الزامات کو مسترد کر دیا تھا۔

نریندرہ دابھالکر نے کہا تھا کہ ’پورے قانون میں کہیں بھی خدا یا مذہب کے بارے میں ذکر نہیں۔بھارت کا آئین عبادت کی آزادی دیتا ہے جسے کوئی نہیں چھین سکتا۔‘

انھوں نے توہم پرستی کے خلاف اپنے مہم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ’یہ دھوکہ دہی اور استحصالی طرز عمل کے خلاف ہے۔‘

نریندرہ دابھالکر اور ان کی کمیٹی کو بھارت کے نام نہاد ہندو مذہبی رہنماؤں یا خود ساختہ سادھوؤں پر کھلے عام تنقید کی وجہ سے بھی جانا جاتا تھا۔

نریندرہ دابھالکر نے مخصوص رسومات ادا کرنے کے لیے جانوروں کو ذبح کرنے کے خلاف بھی مہم چلائی تھی۔

اسی بارے میں