بھارت: 80 کروڑ افراد کے لیے سستا اناج

Image caption بھارت میں پانچ سال سے چھوٹے بچوں میں سے نصف غذا کی کمی کا شکار ہیں

بھارت میں مرکزی حکومت نے ملک کی 80 کروڑ آبادی کے لیے سستے داموں چاول، گندم اور دیگر اناج کی فراہمی کا منصوبہ شروع کر دیا ہے۔

غذائی تحفظ کے اس منصوبے کا آغاز منگل کو ملک کے حکمران اتحاد کی مرکزی جماعت کانگریس کی صدر سونیا گاندھی نے نئی دہلی میں خواتین میں خصوصی کارڈ تقسیم کر کے کیا۔

اس منصوبے کے تحت مستحق افراد کو حکومت کی جانب سے چلائی جانے والی فیئر پرائس شاپ سے سستا اناج فراہم کیا جائے گا۔

گزشتہ برس شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق بھارت میں پانچ سال سے چھوٹے بچوں میں سے نصف غذا کی کمی کا شکار ہیں۔

منصوبے کے آغاز پر سونیا گاندھی کا کہنا تھا کہ ’غذا کی حفاظت کی منصوبہ بندی کا فائدہ ملک کی دو تہائی آبادی کو ملے گا۔‘

انہوں نے کہا کہ ’ہمارے ملک میں اب بھی ایسے لوگ ہیں جنہیں کھانا نہیں ملتا، ان کے بچے غذائی قلت کا شکار ہیں. ہمیں غریبوں کی انمول زندگی کا ذمہ دار بننا ہوگا اور اس لیے غذائی تحفظ کا بل پیش کیا گیا ہے۔‘

نئی دہلی کے علاوہ ہریانہ اور اتراکھنڈ میں بھی خوراک کے تحفظ کا منصوبہ شروع کیا گیا ہے۔

ادھر بھارتی پارلیمان میں ہنگامے کی وجہ سے منگل کو بھی اس بل پر بحث نہیں ہو سکی۔

بھارتی حکومت نے فوڈ سکیورٹی سکیم لاگو کرنے کے لیے آرڈیننس جاری کیا تھا اور اب اسے جاری رکھنے کے لیے اسے اس بل کو پارلیمنٹ میں منظور کروانا ہے۔

لیکن اپوزیشن چاہتی ہے کہ حکومت موجودہ شکل میں بل منظور نہ کروائے۔

اس منصوبے کے ناقدین کا کہنا ہے کہ چوبیس ارب ڈالر کے اس منصوبے سے ملک کا خزانہ خالی ہو جائے گا۔

فوڈ سکیورٹی بل کے تحت ملک کی تقریباً 67 فیصد عوام کو یکساں طور پر پانچ کلوگرام اناج عوامی تقسیم کے نظام کی دکانوں پر ایک سے تین روپے فی کلو گرام کی شرح سے دینے کی تجویز ہے۔

کانگریس امید کر رہی ہے کہ غریبوں کے لیے سستا اناج مہیا کرنے کی سکیم کا فائدہ اسے عام انتخابات میں ملے گا جو اگلے سال ہونا ہیں۔

اسی بارے میں