کالے جادو کے خلاف آرڈیننس پاس کرنے کا فیصلہ

بھارتی ریاست بہار میں توہم پرستی کے خلاف جدوجہد کرنے والے نریندر دابھولكر کے قتل کے دوسرے دن ہی ریاست مہاراشٹر کی کابینہ نے اینٹی بلیک میجک یا کالے جادو کے خلاف آرڈیننس پاس کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

مہاراشٹرا حکومت اس آرڈیننس کو گورنر کو منظوری کے لیے بھیجے گی۔

یہ فیصلہ ریاستی حکومت کی کابینہ کی میٹنگ میں کیا گیا ہے۔

مہاراشٹرا حکومت کے اس فیصلے کے بعد ریاست میں کالے جادو اور توہم پرستی کے نتیجے میں انسانوں کی قربانی دینے کی روایت پر قابو پانا ممکن ہو جائے گا۔

یہ فیصلہ اس قانون کو پاس کرانے کے لیے طویل عرصے سے جدوجہد کر رنے والے سماجی کارکن نریندر دابھولكر کے قتل کے ایک دن کے بعد لیا گیا ہے۔منگل کو نریندر دابھولكر کو قتل کر دیا گیا تھا۔

نامعلوم حملہ آوروں نے دابھولكر کو اُس وقت گولی ماری جب وہ ٹہلنے کے لیے نکلے تھے۔

دابھولكر نے دو ہفتے پہلے ہی ریاستی حکومت کی پر اس قانون کو پاس کرنے میں دلچسپی نہیں دکھانے پرتنقید کی تھی۔

ریاستی حکومت کی طرف سے پہلے سے یہ اعتماد دیا جاتا رہا ہے کہ یہ قانون بننے کے بعد اس طرح کی مذہبی عبادت کرانے والے کمیونٹی کے لوگوں کو حراساں نہیں کیا جائے گا۔

اس آرڈیننس کی منظوری کے بعد توہم پرستی کو فروغ دینے والے اشتہارات پر پابندی لگ جائے گی۔ اخبار اور ٹی وی چینلز پر اب ایسے اشتہارات کو دکھایا جانا جرم کے دائرے میں آئے گا.

نریندر دابھولكر قتل کے خلاف پونے میں بدھ کو بڑے پیمانے پر احتجاج کیا گیا۔

مہاراشٹر حکومت نے قاتلوں کے بارے میں کوئی بھی معلومات دینے والوں کو دس لاکھ روپے کا انعام دینے کا اعلان کیا ہے۔

اس کے علاوہ پونے پولیس انتظامیہ نے عینی شاہدین سے ملنے والی معلومات کی بنیاد پر قاتلوں کا خاکہ بھی جاری کیا ہے.

اکہتر سال کے دابھولكر نے مہاراشٹرا ادھشرددھا نرمولن کمیٹی تشکیل دی تھی اور توہم پرستی کے خلاف قانون بنانے کا مطالبہ کر رہے تھے۔

دابھولكر دقیانوسی روایات کے خلاف دو دہائیوں سے بھی زیادہ عرصے سے جدوجہد کر رہے تھے. طبی سائنس میں ڈگری حاصل کرنے کے بعد انہوں نے سماج میں توہم پرستی ختم کرنے کے لیے اپنی مہم کی شروعات 1983 میں کی تھی۔

انہوں نے کچھ ہم خیال لوگوں کے ساتھ مل کر ادھشرددھا نرمولن کمیٹی تشکیل دی تھی۔

اسی بارے میں