عام بھارتی پیاز کی قیمت سے پریشان

پیاز
Image caption بھارت میں لوگ ہر سال 15 ملین ٹن پیاز کا استعمال کرتے ہیں

بھارتی معیشت کو ایک دہائی میں بدترین بحران کا سامنا ہے جو اس کی سیاسی اور اقتصادی برادری کے لیے باعثِ پریشانی ہے لیکن عام بھارتی شہری پیاز کی قیمت سے پریشان ہے۔

اتوار کو دلی جے پور شاہراہ پر ڈاکوؤں نے چالیس من پیاز سے لدے ہوئے ٹرک کو اغوا کر لیا۔

بھارت میں لوگ ہر سال 15 ملین ٹن پیاز کا استعمال کرتے ہیں اور اِسے تقریباً ہر کھانے کی ڈش میں استعمال کیا جاتا ہے۔

ایک ماہ قبل ایک کلو پیاز کی قیمت 20 روپے تھی۔ اس کے بعد سے اس قیمت میں پانچ گنا اضافہ ہوا ہے اور یہ قیمت 100 روپے تک پہنچ گئی ہے جس سے سب پریشان ہیں۔

دہلی کے ایک مشہور ترین ریڈیو سٹیشن نے پیاز کے مسئلے پر ایک مباحثہ کرایا جس میں بڑی تعداد میں سامعین شریک ہوئے۔ اس وقت یہ ملک میں ایک انتہائی حساس سیاسی مسئلہ بنا ہوا ہے۔

مشہور ڈی جے نِتن نے بالی ووڈ کے گانے پر پیاز کے بارے میں ایک پیروڈی گیت تیار کیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’ہمیں اس بارے میں بے شمار کالیں موصول ہوتی ہیں، یہاں تک کے مڈل کلاس لوگ جو اسے خریدنے کی استطاعت رکھتے ہیں، بھی کالیں کر رہے ہیں اور اس مسئلے پر کافی غصے میں ہیں۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’پیاز ایک بنیادی چیز ہے۔ کچھ لوگوں نے اس مسئلے پر چٹکلے بنا لیے ہیں۔ ایک کالر کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنی شادی کی سالگرہ پر اپنی بیوی کو ایک انگوٹھی دی جس پر پیاز لگا ہوا ہے۔‘

پیاز کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ پیاز کے ذخیرے میں کمی ہے کیونکہ خشک سالی کے سبب پیاز کی فصلیں تباہ ہو گئی تھیں۔

تازہ پیداوار صرف پانچ ماہ کے لیے دستیاب ہے، اور پھر ذخیرہ کیے گئے پیاز پر انحصار کرے گا۔

سڑک کے کنارے بنے کئی ڈھابوں نے کھانوں کے ساتھ پیاز پیش کرنے کا اپنا روایتی انداز بدل دیا ہے اور اب وہ کھانے کے ساتھ پیاز نہیں رکھتے۔

جنوبی دہلی میں مقامی سبزی منڈی میں فکر مند دکاندار چوروں سے پیاز کے تھیلوں کی حفاظت کر رہے ہیں۔ ایک دکاندار کا کہنا ہے کہ ’میں چوری کرنے والوں کو الزام نہیں دیتا۔ امانگ اتنی زیادہ ہے اور ہمیں مناسب سپلائی نہیں مل رہی۔‘

خریدار پہلے سے کہیں زیادہ سودے بازی کر رہے ہیں۔

دہلی میں مہرولی سے ایک گھریلو خاتون جہاں آرا کا کہنا ہے ’ہم کس طرح پیاز کے بغیر کھانا کھا سکتے ہیں‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’چکن اور پنیر ایک پرتعیش کھانے سمجھے جاتے ہیں۔ انہیں پیاز کے بغیر نہیں پکایا جا سکتا۔ اب انہیں پیاز کے بغیر کیسے بنائیں۔‘

ایک اور خریدار ملیکا کماری کا کہنا تھا کہ اب وہ اپنے بچوں کو روٹی پیاز بھی نہیں دے سکتیں جوکہ ان کا بنیادی کھانا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’حکومت ہم سے کیا چاہتی ہے۔ کیا غریب لوگوں کو کھانا بند کر دینا چاہیے؟ یہ قیمتیں صرف امیر لوگ ہی برداشت کر سکتے ہیں۔‘

’ہم نے مکمل طور پر پیاز کھانا بند کر دیا ہے لیکن ایسا کب تل چل سکتا ہے‘۔

ایسی خبریں ہیں کہ لوگ پیاز کی قیمتوں میں مزید اضافے کے ڈر سے پیاز ذخیرہ کر رہے ہیں جس کی وجہ سے قیمتیں مزید بڑھ رہی ہیں۔

اس وقت پیاز کا مسئلہ سیاسی کھیل میں تبدیل ہوسکتا ہے کیونکہ ممبران پارلیمان نے اس مسئلے پر شدید احتجاج کیا ہے اور حکومت کو پیاز کی قیمتوں میں کمی لانے کے لیے مختلف اقدامات کا اعلان کرنا پڑا ہے۔

حکومت نے دو ہفتے تک پیاز کی برآمد پر پابندی لگا دی ہے اور اب یہ ہمسایہ ملک پاکستان سے پیاز کی درآمد پر غور کر رہا ہے۔

پیاز پر سیاست کا کھیل جاری ہے۔ بھارتی جنتا پارٹی کے ایک رکن وجے جولی نے راکھی کے تہوار پر مٹھائی کے بجائے پیاز تقسیم کیا۔

پیاز کی قیمتوں میں اضافہ اس سے پہلے بھی انتخابات کا رخ بدل چکا ہے۔ 1998 میں اس وقت کی حکمران بی جے پی کو دلی کے ریاستی انتخابات میں بھاری نقصان اٹھانا پڑا تھا۔ اس وقت پیاز کی قیمتوں میں بڑے پیمانے پر اضافے کے لیے حکومت کو ذمہ دار ٹھرایا گیا تھا۔

وجے جولی کا کہنا ہے کہ حکومت اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے کچھ نہیں کر رہی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’اب وہ پیاز کو درآمد کرنے کی بات کرتے ہیں کیوں کہ انہیں اس مسئلے کا اندازہ نہیں تھا۔ یہ ایک بہت بڑا مسئلہ ہے‘۔

دہلی کی فکر مند حکومت نے کم قیمت پیاز فروخت کرنے کے لیے شہر بھر میں خصوصی کاؤنٹر کھولے ہیں لیکن یہاں سکیورٹی گارڈز تعینات کیے گئے ہیں تاکہ ناراض عوام کو کنٹرول کیا جا سکے۔بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام بہت دیر سے کیا گیا ہے۔

اسی بارے میں