وشو ہندو پریشد کے 1696 کارکن زیرِ حراست

Image caption رام جنم بھومی بابری مسجد کو اب اسے دوبارہ سرخیوں مں لانے کی کوشش کی جا رہی ہے

بھارت کی شمالی ریاست اتر پردیش میں پولیس نے ایودھیا میں ایک مجوزہ یاترا کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے وشو ہندو پریشد کے کئی رہنماؤں سمیت 1696 افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔

اترپردیش حکومت نے کہا ہے کہ وی ایچ پی کی یاترا کو روکنے کے لیے سیکوریٹی کے سخت انتظامات جاری رہیں گے کیونکہ ابھی تک وی ايچ پی نے یاترا کو واپس لینے کا اعلان نہیں کیا ہے۔

واضح رہے کہ وشو ہندو پریشد سنگھ پریوار میں شامل ایک ہندو قوم پر ست جماعت ہے جس نے سب سے پہلے ایودھیا میں بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر کے لیے تحریک شروع کی تھی۔

بھارتی خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کے مطابق اتر پردیش کے انسپکٹر جنرل آر کے وشوکرما نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’ریاست میں اشوک سنگھل اور پروین توگڑیا سمیت 1696 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔‘

ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ ’حراست میں لیے گئے تمام افراد کو 14 دنوں تک حراست میں رکھا جائے گا اور انھیں ابھی رہا نہیں کیا جائے گا۔‘

’رام مندر بھارتی شناحت کے قیام کے لیے ہے‘

’فیصلے کا احترام کرنا چاہیے‘

نئی دہلی سے نامہ نگار سہیل حلیم کے مطابق وی ایچ پی نے 25 اگست سے ایودھیا کے آس پاس کے چھ اضلاع میں یاترا نکالنے کا اعلان کیا تھا لیکن ریاستی حکومت نے نقصِ امن کے خطرے کے پیش نظر اس پر پابندی لگا دی تھی۔ ان چھ اضلاع میں مسلمان بھی بڑی تعداد میں آباد ہیں۔

ریاست کے داخلہ سیکریٹری کمل سکسینا نے کہا: ’چونکہ اس پروگرام کا 13 ستمبر تک جاری رکھنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے اس لیے حراست میں لیے گئے افراد کو رہا نہیں کیا جاسکتا۔ جو لوگ اس یاترا میں شرکت کی کوشش کریں گے ان کو حراست میں لیا جائے گا۔‘

حکام کا کہنا ہے کہ چونکہ وی ایچ پی نے سوموار کو مظاہرے کا اعلان کیا ہے اس لیے ضلع کے پولیس سربراہوں کو نظم و نسق قائم رکھنے کے لیے آگاہ کردیا گیا ہے۔

دریں اثناء یاترا کے راستے میں پڑنے والے مختلف اضلاع میں عارضی جیلیں قائم کی گئی ہیں۔

اس سے قبل چوراسی کوس کی مجوزہ کوسی پریکرما یاترا پر پابندی کے حکومت کے فیصلے کے باوجود وی ایچ پی نے اعلان کیا تھا کہ یاترا حسبِ پروگرام جاری رہے گی۔

وی ایچ پی کے سینیئر لیڈر پروین توگڑیا کو ایودھیا کے گولہ گھاٹ سے اتوار کی صبح گرفتار کیا گیا جبکہ تنظیم کے سربراہ اشوک سنگھل کو لکھنؤ ایئر پورٹ سے باہر آنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ وہ ایودھیا جانے کے لیے نئی دہلی سے اتوار کو لکھنؤ پہنچے تھے۔

ریاستی پولیس کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ارون کمار کے مطابق ریاست میں وی ایچ پی کے تقریباً پانچ سو کارکنوں کوگرفتار کیا گیا ہے۔

ان میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے ایک سابق رکن پارلیمان اور ریاستی اسمبلی کے موجودہ رکن بھی بتائے جاتے ہیں۔ رام جنم بھومی ٹرسٹ کے سربراہ مہنت گوپال داس کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔ ان[یں اس یاترا کی قیادت کرنی تھی۔

Image caption ایودھیا میں سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں

ایودھیا، فیض آباد اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں سکیورٹی کے سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں اور وہاں نیم فوجی دستوں اور پولیس کے ہزاروں جوان تعینات ہیں۔

یاترا کو روکنے کے لیے علاقے میں دفعہ ایک سو چوالیس بھی نافذ ہے اور کئی علاقوں میں کرفیو جیسا ماحول ہے۔

بھارتیہ جنتا پارٹی نے کھل کر یاترا کی حمایت نہیں کی ہے لیکن بہت سے تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ یاترا کو بی جے پی کی درپردہ حمایت حاصل ہے کیونکہ ملک میں اب پارلیمانی انتخابات ہونے والے ہیں اور وہ دوبارہ رام مندر کا مسئلہ اٹھا کر اپنا ووٹ بینک متحد کرنا چاہتی ہے۔

وی ایچ پی اور بھارتیہ جنتا پارٹی کا الزام ہے کہ یاترا پر پابندی غیر قانونی ہے اور ہندوؤں کو ان کا مذہبی فریضہ ادا کرنے سے روکا جا رہا ہے لیکن ریاستی حکومت کا موقف ہے کہ اس یاترا سے مذہبی منافرت پھیلے گی اور اس وقت یاترا نکالنے کا کوئی جواز نہیں ہے کیونکہ روایتاً یہ مارچ اور اپریل میں ہوتی ہے۔

وی ایچ پی کے اعلان کے بعد سے علاقے میں خوف و ہراس کا ماحول ہے کیونکہ رام جنم بھومی بابری مسجد کا تنازع کافی عرصےسے پس منظر میں تھا اور اب اسے دوبارہ سرخیوں مں لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

مغلوں کے دور کی اس مسجد کو ہندو قوم پرستوں نے چھ دسمبر سنہ 1992 کو مسمار کر دیا تھا۔

ہندو مانتے ہیں کہ یہ ان کے بھگوان رام کی جائے پیدائش ہے۔ مسجد کی مسماری کے بعد ملک بھر میں مذہبی فسادات ہوئے تھے جن میں سینکڑوں لوگ مارے گئے تھے۔ مرنے والوں میں زیادہ تر مسلمان تھے۔

دو سال پہلے الہ آباد ہائی کورٹ نے ایک حیرت انگیز فیصلہ سناتے ہوئے کہا تھا کہ متنازعہ آراضی کو تین حصوں میں تقسیم کرکے تینوں فریقوں کو دے دیا جائے لیکن اس فیصلے کے خلاف تینوں فریقیوں نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا جہاں یہ مقدمہ اب بھی زیرِ سماعت ہے۔

اسی بارے میں