کشمیر میں موسیقی متنازع کیوں؟

Image caption 2008 میں موسیقار سلمان احمد نے کشمیر میں کانسرٹ کیا تو اس پر بھی اعتراض کیا گیا تھا

جرمنی اور بھارت کے اشتراک سے اگلے ماہ کشمیر میں عالمی سطح کا میوزیکل کانسرٹ ہو رہا ہے جو 50 ممالک میں ٹی وی پر براہِ راست دیکھا جائے گا۔

اس میں مغربی کلاسیکی موسیقی کے مایہ ناز فنکار زوبن مہتا اپنے فن کا مظاہرہ کریں گے۔ لیکن اس قدر معنی خیز ہونے کے باوجود یہ کانسرٹ فی الوقت تنازعے کا شکار ہوگیا ہے۔

کشمیر کے علیٰحدگی پسند رہنماؤں سید علی گیلانی اور میر واعظ عمرفاروق نے ان کانسرٹ کو کشمیریوں کے زخموں پر نمک پاشی اور عوامی سرمایہ کے ضیاع سے تعبیر کیا ہے۔

لیکن ایسا پہلی بار نہیں ہوا ہے۔ 2008 میں جب عالمی شہرت یافتہ پاکستانی صوفی راک بینڈ ’جنون‘ کے فنکاروں نے کشمیر کا رُخ کیا تو کشمیری عسکریت پسند رہنما سید صلاح الدین نے حکومتِ پاکستان سے اپیل کی کہ وہ جنون کی کشمیر آمد پر پابندی عائد کردے۔

صلاح الدین نے کہا تھا کہ ’کشمیر ایک متنازع خطہ ہے اور اگر پاکستانی فنکار وہاں جاتے ہیں تو یہ عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہوگی۔‘

اس بیان سے کانسرٹ منسوخ نہیں ہوا۔ معروف پاکستانی فنکار سلمان احمد نے مقررہ وقت پر ہی سخت حفاظتی حصار میں گٹار کے تار چھیڑے۔

ہند نواز سیاست دانوں اور سرکاری افسروں کے بیٹوں اور بیٹیوں نے تالیوں کی گونج سے ان کا حوصلہ بڑھایا۔ لیکن چند روز بعد ہی کشمیر میں ہندو مذہبی ادارہ امرناتھ شرائن بورڈ کو سرکاری زمین کی خفیہ منتقلی کا معاملہ ایک ہمہ گیر احتجاجی تحریک بن گیا۔ ساٹھ سے زائد مظاہرین پولیس اور نیم فوجی اہلکاروں کی گولیوں کا شکار ہوگئے۔

زوبن مہتا کے کانسرٹ پر بھی علیٰحدگی پسندوں نے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ سید علی گیلانی نے جرمنی سفارتخانے کو لکھے گئے مکتوب میں 2004 میں یہاں دورے پر آئے یورپی یونین کے وفد کا بیان نقل کیا ہے جس میں کشمیر کو 'خوبصورت قیدخانہ' سے تعبیر کیا گیا تھا۔

انہوں نے نے 1983 کی مثال بھِی دی ہے جب کشمیریوں نے یہاں منعقد ہوئے عالمی کرکٹ مقابلے کی مخالفت کی تھی۔ انہوں نے جرمنی سے اپیل کی ہے کہ وہ کشمیریوں کی ’مقدس تحریک‘ کو زک پہنچانے کی کوششوں میں نہ شامل ہو۔

اعتدال پسند حریت کانفرنس دھڑے نے بھی اس کانسرٹ کو عوامی سرمائے کے اسراف سے تعبیر کیا ہے۔ میرواعظ عمرفاروق نے کہا ہے کہ حکومت کو چاہِیے تھا کہ اس کانسرٹ پر صرف ہونے والے کروڑوں روپے صحتِ عامہ اور تعلیم کے شعبوں پر خرچ کرے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ کشمیر میں احتجاجی لہروں یا پرتشدد حالات کے درمیان جو وقفہ ہوتا ہے اس میں اکثر تمدنی پروگرام اور کھیلوں کے مقابلے منعقد کرکے حکومت قیامِ امن کا دعویٰ کرتی ہے۔

صحافی اور تجزیہ نگار ہلال احمد میر کہتے ہیں کہ اس کانسرٹ میں عام لوگ نہیں بلکہ فوجی جنرل اور پولیس کے اعلیٰ افسر، کچھ گنے چنے مقامی فنکار اور ان کے رشتہ دار ہوں گے۔

ہلال میر کا کہنا ہے: ’زوبن مہتا کے میزبانوں کو سمجھنا چاہیے کہ کشمیری نوجوان نسل مغربی موسیقی اور فن و ادب سے اچھی طرح مانوس ہے۔ اگر لوگوں کی دل جوئی کرنی ہے تو جرمنی نئی دہلی سے کہہ دے کہ کشمیریوں کو وہ سیاسی حقوق دیے جائیں جن کے لیے وہ لڑ رہے ہیں۔‘

قابل ذکر بات ہے کہ گذشتہ برس جب بعض مقامی لڑکیوں نے نیم فوجی ادارے سینٹرل ریزرو پولیس فورس کے زیرِاہتمام موسیقی کے ایک مقابلے میں شرکت کی تو بہت بڑا تنازع کھڑا ہوگیا تھا۔ حکومت نواز مفتی بشیرالدین نے ان لڑکیوں کے خلاف فتویٰ صادر کر دیا تھا جب کہ عمرعبداللہ نے اس فتوے کو چلینج کیا تھا۔

عالمی قانون اور انسانی حقوق کے پروفیسر ڈاکٹر شیخ شوکت حسین کہتے ہیں: ’ایسا نہیں کہ کشمیری موسیقی کے خلاف ہیں۔ ہماری اپنی مقامی تمدنی روایات ہیں۔ لیکن جب موسیقی کو آلۂ جنگ کے طور پر کشمیر کی تحریک کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے تو ایسی سرگرمیاں خودبخود مشکوک بن جاتی ہیں۔ ہمیں نہیں معلوم کہ جرمنی اس کانسرٹ سے کیا حاصل کرنا چاہتا ہے، لیکن لوگ اس کو بہرحال ایک سرکاری تماشا ہی سمجھیں گے۔‘

اسی بارے میں