محمد علی جناح کی تقاریر عام کرنے کا حکم

Image caption حکومت یہ کہہ کر یہ ریکارڈنگ دینے سے منع کرتی رہی ہے کہ اس سے دونوں ملکوں کے تعلقات پر اثر پڑ سکتا ہے

بھارت میں ’رائٹ ٹو انفارمیشن‘ کے محکمے کے چیف کمشنر نے ایک درخواست پر سماعت کرتے ہوئے حکومت کو محمد علی جناح سمیت تمام پاکستانی رہنماؤں کی آزادی سے پہلے کی تقاریر کو عام کرنے کا حکم دیا ہے۔

اب تک حکومت یہ کہہ کر یہ تقاریر عام کرنے سے منع کرتی رہی ہے کہ اس سے دونوں ملکوں کے تعلقات پر اثر پڑ سکتا ہے۔

ایک کارکن سبھاش اگروال نے معلومات تک رسائی کے قانون (آر ٹی آئی) کے تحت محمد علی جناح اور 1947 میں پاکستان چلے جانے والے دوسرے اہم رہنماؤں کی تقاریر کی ریکارڈنگز حاصل کرنے کی درخواست کی تھی۔

چیف انفارمیشن کمشنر ستيانند مشرا نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ’کسی بھی سرکاری افسر کے لیے یہ کہہ دینا آسان ہے کہ پاکستان یا پاکستان چلے جانے والے رہنماؤں سے متعلق کسی بھی معلومات کو خفیہ رکھنا چاہیے‘۔

انہوں نے کہا کہ ’لیکن یہ ایک پیچھے لوٹنے والا قدم ہوگا‘۔

ستيانند مشرا نے کہا کہ ’عام آدمی اور تاریخ کے طلباء کی ہندوستانی تاریخ کے اس انتہائی دلچسپ پہلو کے بارے میں جاننے میں ہمیشہ دلچسپی رہی ہے، اس لیے یہ حکومت کا فرض ہے کہ وہ تقاریر کے ایسے تمام ریکارڈز کو عوام کو مفت فراہم کرے۔‘

اس سے پہلے حکومت نے دفعہ 8 (1) (a) کا حوالہ دیتے ہوئے یہ ریکارڈ دینے سے انکار کر دیا تھا۔

اس فیصلے پر اپنے رد عمل میں سبھاش اگروال نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’چیف انفارمیشن کمشنر نے اپنے حکم میں یہ بات صاف لکھی ہے کہ اس طرح کے معاملے میں دفعہ 8 (1) (a) کا حولہ دینا قطعی غلط ہے۔‘

انہوں نے کہا ’محمد علی جناح کی تقاریر سے یہ سچ سامنے آ جائے گا کہ پاکستان کے بانی کے خوابوں کا پاکستان نہیں بنا، بلکہ ایک قدامت پسند پاکستان بن کر رہ گیا ہے۔‘

چیف انفارمیشن کمشنر کے اس فیصلے کے بعد ایسے ریکارڈ رکھنے والے ادارے پراسار بھارتی نے کہا ہے کہ سبھاش اگروال کو یہ ریکارڈز دینے کے لیے انہیں معلومات اور نشریات کی وزارت کی طرف سے منظوری مل گئی ہے اور جلد ہی سبھاش اگروال کو ان ریکارڈنگز کی کاپی فراہم کر دی جائے گی۔

اسی بارے میں