بھارت کو مطلوب ترین شدت پسند رہنما گرفتار

Image caption 30 سالہ يٰسین بھٹکل کا اصلی نام احمد ہے اور وہ ریاست کرناٹک کے رہنے والے ہیں

شدت پسند تنظیم انڈین مجاہدین کے مبینہ بانی يٰسین بھٹکل کو بھارت نیپال کے سرحدی علاقے سے گرفتار کر لیا گیا ہے۔ اس بات کی تصدیق وزیرِ داخلہ سشیل کمار شندے نےکی ہے۔

جمعرات کو دہلی میں صحافیوں کے ساتھ بات چیت میں شندے نے کہا: ’بھٹکل کو کل رات بہار میں نیپال کے سرحدی علاقے سے گرفتار کیا گیا ہے۔ اس وقت بھٹکل بہار پولیس کی حراست میں ہیں اور ان سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔‘

انہوں نے کہا: ’فی الحال میرے پاس بس اتنی ہی معلومات ہیں، میں یہ نہیں بتا سکتا کہ انھیں کس انٹیلی جنس ایجنسی نے گرفتار کیا ہے۔‘

بھارتی پولیس کو بھٹکل کئی مقدمات میں مطلوب تھے، جن میں سات ستمبر 2011 کو دہلی ہائی کورٹ کے باہر ہونے والا دھماکہ بھی شامل ہے۔ اس حملے میں 12 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

قومی انٹیلی جنس ایجنسی این آئی اے کی انتہائی مطلوب فہرست میں بھٹکل بھی شامل ہیں اور ان پر دس لاکھ روپے کا انعام ہے۔

2008 میں کولکتہ پولیس نے بھٹکل کو جعلی کرنسی کے کیس میں گرفتار کیا تھا، لیکن بعد میں انہیں چھوڑ دیا گیا تھا۔

این آئی اے کا یہ بھی الزام ہے کہ بھٹکل نے ہی پونے کی جرمن بیکری میں سال 2010 میں بم رکھا تھا، جس سے 17 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

ایجنسی کا کہنا ہے کہ سی سی ٹی وی میں نظر آنے والے حملہ آور ہی ہیں، اور انھوں نے اپنا چہرہ چھپانے کے لیے ٹوپی پہن رکھی تھی۔

30 سالہ يٰسین بھٹکل کا اصلی نام احمد ہے اور وہ ریاست کرناٹک کے رہنے والے ہیں۔

ان پر الزام ہے کہ انہوں نے 2008 میں اپنے بھائی ریاض اور عبدالسبحان قریشی کے ساتھ مل کر انڈین مجاہدین تنظیم کی بنیاد رکھی تھی۔

سیکورٹی ایجنسیوں کا کہنا ہے کہ انڈین مجاہدین کی کمان پاکستان کی شدت پسند تنظیم لشکر طیبہ کے ہاتھوں میں ہے۔

بھٹکل بنگلور میں 2010 میں ایک کرکٹ میچ کے دوران اسٹیڈیم کے باہر ہونے والے دھماکے میں بھی اہم ملزم ہیں۔

اسی بارے میں