سنت آسارام کو ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا

Image caption آسارام باپو کے لاکھوں مرید ہیں جن میں کئی مقتدر شخصیات بھی شامل ہیں

بھارت میں سرکردہ ہندو روحانی گرو آسارم باپو کو چودہ دن کے ریمانڈ پر جیل بھیج دیا ہے ان پر ایک سولہ سال کی لڑکی کے ساتھ جنسی زیادتی کا الزام ہے۔

سنت آسارام نے اپنی ضمانت کے لیے درخواست دائر کی ہے جس کی سماعت منگل کو ہو گی۔

آسارام باپو نے ان الزامات سے انکار کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ بے گناہ ہیں۔

اس سال کے آغاز میں ان پر شدید تنقید کی گئی تھی جب انہوں نے کہا تھا کہ دہلی میں گینگ ریپ کے نتیجے میں ہلاک ہونے والی لڑکی اگر اپنے حملہ آوروں کو بھائی کہ دیتی اور رحم کی اپیل کرتی تو وہ اسے چھوڑ دیتے۔

ان کے اس بیان پر بھارت میں شدید غم و غصے کا اظہار کیا گیا۔

بہتر سالہ گرو کا آشرم بپارتی ریاست گجرات کے شہر احمد آباد میں ہے اور ان کے لاکھوں پیروکار ہیں۔

راجستھان پولیس نے سنت آسارام باپو کو ریپ کے الزام میں سنیچر کی نصف شب مدھیہ پردیش میں ان کے آشرم سے گرفتار کر کے پولیس کے سخت پہرے میں بذریعہ ہوائی جہاز جودھ پور لیجایا گیا۔

ان کی گرفتاری کے بعد سے ان کے پیروکاروں نے احتجاج کا سلسلہ شروع کر رکپا ہے جن کا کہنا ہے کہ ان الزامات کے پیچھے سیاسی محرکات ہیں۔

اسی طرح آسارام کے خلاف بھی مظاہرے کیے گئے ہیں جن میں مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ ان کے ساتھ بھی وہی رویہ رکھا جائے جو عام شہریوں کے ساتھ ہوتا ہے۔

اس لڑکی کے خاندان والوں کا کہنا ہے کہ وہ گزشتہ بارہ سال سے آسارام کے پیروکار ہیں۔

لڑکی کے خاندان والوں نے الزام عائد کیا کہ آسارام نے اس لڑکی کو عبادت کے بعد رکنے کے لیے کہا اور اس کے بعد ان سے جنسی زیادتی کی جب ان کی والدہ باہر انتظار کر رہی تھیں۔

آسارام نے ریپ کے الزام کی تردید کی تھی اور گذشتہ دنوں یہ الزام لگایا تھا یہ کانگریس کی صدر سونیا گاندھی اور ان کے بیٹے راہل گاندھی کی سازش ہے۔ انھیں جے جے پی کے کئی اعلی رہنماؤں کی حمایت حاصل رہی ہے۔

کئی اعلیٰ سیاسی رہنماؤں اور اہم شخصیات سمیت سنت آسارام کے لاکھوں پیروکار ہیں اور راجستھان دلی، گجرات، مدھیہ پردیش، اتر پردیش اور اتراکھنڈ ریاستوں میں ان کے بڑے بڑے آشرم اور مراکز ہیں۔ ریپ کا مبینہ واقعہ راجستھان کے جودھ پور شہر کے آشرم میں میں پیش آیا ہے۔

ریپ کی رپورٹ لکھانے کے کئی روز بعد بھی پولیس نے انہیں گرفتار کرنے کی کوشش نہیں کی۔ لیکن ممبئی کے حالیہ ریپ کے بعد میڈیا میں یہ بحث چھڑگئی کہ آسارام کو ان کے اثرورسوخ کی وجہ سے بچایا جا رہا ہے۔

متاثرہ لڑکی کے والد نے ان کی گرفتاری کے لیے ہفتے کے روز سے بھوک ہڑتال شروع کر دی تھی اور پولیس پر ان کی گرفتاری کے لیے دباؤ بڑھتا جا رہا تھا۔ جمعے کے دن آسارام کے حامیوں نے آشرم کے باہر جمع صحافیوں پر حملہ کیا تھا جس میں میں متعدد صحافی اور کیمرہ مین زخمی ہو گئے تھے۔

پولیس نے انہیں خود کو حکام کے حوالے کرنے کے لیے 30 اگست تک کا وقت دیا تھا۔ لیکن وہ جمعہ کی شام سے اپنے آشرم میں روپوش ہو گئے۔ ہفتے کے روز بتایا گیا کہ وہ بیمار ہو گئے ہیں۔

سنت آسا رام کا نام پہلے بھی تنازعوں میں آ چکا ہے۔ کچھ عرصے پہلے ان کےگجرات کے ایک آشرم سے دو بچوں کی لاشیں ملی تھیں۔

پولیس سنت آسارام کوراجستھان کے شہر جودھپور لائے گی جہاں انہیں باضابطہ طور پر مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا جائے گا اور پھر تحویل میں لے کر ان سے پوچھ گچھ شروع ہو گی۔

چونکہ الزام کی نوعیت بہت سنگین ہے اور متاثرہ لڑکی نابالغ ہے اس لیے سنت آسارام کوزبردست قانونی پیچیدگیوں سے گزرنا ہو گا۔

اسی بارے میں