’جن کے اشارے پر کارروائی کی انہوں نے دھوکا دیا‘

نریندر مودی

عشرت جہاں اور سہراب الدین کے مبینہ جعلی مقابلوں جیسے واقعات کے سلسلے میں جیل میں قیدگجرات کے معطل پولیس افسر ڈی جی ونجارہ نے استعفی دیتے ہوئے گجرات کے وزیرِاعلی نریندر مودی اور سابق ریاستی وزیرِ داخلہ امت شاہ پر پولیس کے غلط استعمال کا الزام لگایا ہے۔

دس صفحات پر مشتمل اپنے استعفے میں ونجارہ نے کہا کہ جن سیاسی رہنماؤں کے اشارے پر انہوں نے کارروائی کی انہوں نے ہی ان کے ساتھ دھوکہ کیا ہے۔

ونجارہ نے گجرات کے وزیرِ اعلی نریندر مودی پر بھی شدید نکتہ چینی کی ہے۔

ونجارہ سہراب الدین پولیس مقابلے کے سلسلے میں 2007 سے جیل میں ہیں اور بعد میں عشرت جہاں جعلی پولیس مقابلے میں بھی ان کا نام آیا تھا۔

اسی سال سی بی آئی نے عشرت جہاں کیس میں احمد آباد میں جارج شیٹ داخل کی تھی جس میں ونجارہ کا نام بھی شامل تھا۔

احمد آباد میں سینئیر صحافی اجے اومٹھ نے بی بی سی کو بتایا کہ گجرات کے سابق ڈی آئی جی ونجارہ نے کہا ہے کہ امِت شاہ کو بچانے کے لیے نریندر مودی نے اپنے وکیل کے ذریعے کہا کہ سہراب الدین مقدمہ احمد آباد سے ممبئی کی عدالت میں منتقل کروائیں۔

اومٹھ کا کہنا ہے کہ ونجارہ کو لگا کے انتخابات میں فائدہ اٹھانے کے لیے اور امِت شاہ کو جیل سے بچانے کے لیے مودی نے گجرات کے باقی 32 افسران کو جیل میں ڈال دیا اور انہیں جو قانونی سہولیات ملنی چاہئیے تھیں وہ نہیں مل رہیں۔

ونجارہ نے لکھا ہے کہ مودی کی وجہ سے جو افسران جیل میں ہیں اب مودی کو ان کی ضروت نہیں ہے۔

ونجارہ نے کہا کہ ان کی خاموشی کو ان کی کمزوری نہ سمجھی جائے وہ اپنی خاموشی توڑ بھی سکتے ہیں۔

ونجارہ نے یہ بھی کہہ دیا کہ مودی امِت شاہ کے اشاروں پر ناچتے ہیں۔

مبصرین کا خیال ہے کہ ونجارہ کےاس خط سے مودی کو سیاسی نقصان پہنچ سکتا ہے کیونکہ ونجارہ مودی کے بہت قریبی ساتھی سمجھے جاتے تھے۔

اسی بارے میں