بھارتی ادیبہ سشمیتا بینرجی افغانستان میں قتل

Image caption سشمیتا بینرجی افغانستان میں ایک ڈسپنسری چلاتی تھیں

بھارتی ادیبہ سشمیتا بینرجی کو افغانستان کے صوبے پکتیکا میں مبینہ عسکریت پسندوں نے گولی مار کر قتل کر دیا ہے۔ انھوں نے 1995 میں طالبان کی قید سے فرار کی کہانی لکھی تھی جو بے حد مقبول ہوئی تھی۔

سشمیتا افغانستان میں ڈسپنسری چلاتی تھیں اور ایک افغان شخص سے شادی کے بعد افغانستان ہی میں رہائش پذیر تھیں۔

ان کی کہانی پر 2003 میں بالی وڈ نے ایک فلم بھی بنائی تھی۔

ایک سینیئر پولیس افسر نے بی بی سی کو بتایا کہ بینرجی، جنھیں سید کاملہ بھی کہا جاتا تھا، پکتیکا صوبے میں صحت کے شعبے میں کام کرتی تھیں اور اپنے کام کے سلسلے میں مقامی عورتوں کی زندگیوں کو فلم بند کرتی تھیں۔

پولیس نے کہا کہ طالبان عسکریت پسند پکتیکا میں ان کے گھر آئے، ان کے خاوند اور خاندان کے دوسرے افراد کو رسیوں سے باندھ دیا اور بینرجی کو باہر لے جا کر گولی مار دی۔ بعد میں ان کی لاش کو ایک مدرسے کے قریب پھینک دیا گیا۔

اب تک کسی نے اس حملے کی ذمےداری قبول نہیں کی۔

49 سالہ بینرجی کو بھارت میں ان کی آپ بیتی ’ایک کابلی والے کی بنگالی بیوی‘ کی وجہ سے جانا جاتا تھا۔ اس میں انھوں نے افغانستان میں اپنے شوہر جانباز خان کے ساتھ زندگی اور طالبان سے فرار کا احوال بیان کیا تھا۔

ان کے بارے میں بالی وڈ نے 2003 میں ’اسکیپ فرام طالبان‘ نامی فلم بنائی، جس میں منشیا کوئرالا نے ان کا کردار ادا کیا۔

بینرجی کی جانباز خان سے کلکتہ میں ملاقات ہوئی تھی۔ ان کے شادی 1989 میں ہوئی جس کے بعد وہ افغانستان منتقل ہو گئیں۔

انھوں نے لکھا کہ 1993 میں طالبان کے آنے سے قبل زندگی کسی حد تک قابلِ برداشت تھی، لیکن اس کے بعد طالبان نے ان کی ڈسپنسری بند کر دی اور’مجھ پر برے کردار والی عورت‘ کا ٹھپا لگا دیا۔

وہ 1994 میں بھاگ کر اسلام آباد آ گئیں لیکن ان کے دیوروں نے انھیں ڈھونڈ نکالا اور واپس افغانستان لے گئے۔

انھوں نے لکھا: ’انھوں نے وعدہ کیا کہ وہ مجھے بھارت بھجوا دیں گے، لیکن اس کے بجائے انھوں نے گھر میں قید کر دیا اور مجھے برے کردار والی عورت کہا۔ وہ مجھے سبق سکھانا چاہتے تھے۔‘

ان کی آپ بیتی کے مطابق ایک رات انھوں نے مٹی کی بنی دیوار میں سوراخ کیا اور فرار ہو گئیں۔ انھیں کابل کے قریب دوبارہ پکڑ لیا گیا۔ اس بار طالبان انھیں سزائے موت دینا چاہتے تھے لیکن پھر انھوں نے بینرجی کو بھارتی سفارت خانے کے حوالے کر دیا، جہاں سے وہ بھارت چلی گئیں، جہاں ان کے خاوند ان کا انتظار کر رہے تھے۔

اسی بارے میں