بھارت: ہندو مسلم فسادات میں 19 ہلاک، کرفیو نافذ

Image caption اتوار کی صبح فوج نے شہر میں فلیگ مارچ کیا لیکن دیہی علاقوں میں کشیدگی کافی پائی جاتی ہے

بھارتی دارالحکومت دہلی سے ملحق ریاست اتر پردیش کے مظفرنگر ضلعے میں حکام کے مطابق ہندو مسلم جھڑپوں میں کم از کم 19 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

بی بی سی کے نمائندے دلنواز پاشا کے مطابق تشدد اور آگ زنی کے واقعات کے بعد حالات کشیدہ ہیں اور پورے شہر میں غیر معینہ کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔

اترپردیش کے داخلہ سیکریٹری کمل سکسینا نے میڈیا کو بتایا کہ سنیچر کو 11 افراد مارے گئے جبکہ اتوار کو مزید آٹھ لوگوں کی موت ہوئی ہے۔

اترپردیش میں حکمراں جماعت سماجوادی پارٹی کو ان فسادات کو روکنے میں ناکامی کے لیے سخت تنقید کا سامنا ہے۔

حزب اختلاف نے انہیں فسادات روکنے میں پوری طرح سے ناکام بتایا ہے۔

ہندو مسلم جھڑپوں کے بعد کشیدگی کے پیش نظر ہفتہ اور اتوار کی درمیانی رات ضلع کی حفاظت کی ذمہ داری فوج نے اپنے ہاتھ میں لے لی تھی۔

کمل سکسینا نے بتایا کہ فوج کو شاملی کے ساتھ مظفر نگر میں تعینات کر دیا گیا ہے۔ اسی دوران مظفرنگر سے متصل ضلع میرٹھ میں بھی فوج نے فلیگ مارچ کیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق فوج نے اتوار کی صبح شہر میں فلیگ مارچ بھی کیا۔

آئی جی وشوکرما کا کہنا تھا ’جلسہ عام میں رہنماؤں نے بے حد غیر ذمہ دارانہ بیان دیےجس کی وجہ سے لوگوں کے جذبات بھڑک گئے اور تشدد کے واقعات رونما ہوئے۔‘

حالات پر قابو پانے کے لیے 27 کمپنی اضافی پولیس فورس طلب کی گئي ہے۔ اس کے ساتھ ہی فساد کو روکنے کے لیے حکام کو ضرورت پڑنے پر گولی چلانے کے احکامات بھی دیے گئے ہیں۔

اے ڈی جی کے مطابق دیہی علاقوں میں بھی پولیس فورس بڑھا دی گئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ تشدد سے علاقے میں کاروبار متاثر ہو رہے ہیں۔

خالہ پور علاقے میں عوام کا کہنا ہے کہ ریاست کی ریپڈ ایکشن فورس کے جوانوں نے گاڑیوں کو نقصان پہنچایا ہے اور گھروں کے شیشے توڑ دیے ہیں۔

مظفرنگر شہر کے زیادہ تر علاقوں میں خاموشی چھائی ہوئي ہے تشدد کی وجہ سے شہری زندگی معطل ہو کر رہ گئي ہے اور افواہوں کا بازار گرم ہے۔

حالات کی سنگینی کے پیش نظر اتورا کی صبح انتظامیہ نے اس علاقے میں اخبار بھی نہیں تقسیم ہونے دیے۔ بہر حال صبح آٹھ بجے کے بعد ہی دیہی علاقوں میں بھیجے جانے والے اخبارات کو اجازت دے دی گئی تھی۔

Image caption آگ زنی کے واقعات میں املاک کو کافی نقصان پہنچا ہے

مظفرنگر ضلع میں دو فرقوں کے تین نوجوانوں کے قتل کے بعد کشیدگی میں اضافہ ہو گیا تھا۔ ہفتہ کو ایک صحافی سمیت نو لوگ ہلاک کر دیے گئے۔

ہمارے نمائندے کا کہنا ہے کہ مظفرنگر کے دیہی علاقوں سے تشدد کے تازہ واقعات کی خبریں موصول ہو رہی ہیں اور انہیں روکنا پولیس کے لیے چیلنج بنا ہوا ہے۔

مظفر نگر میں موجود بی بی سی نمائندے کے مطابق پورباليان گاؤں میں اتوار کی صبح ہوئی تازہ تشدد کی واردات میں دو لوگوں کی موت ہو گئی ہے۔

ادھر، ایک اور گاؤں منصورپور میں بھی دو فرقوں کے درمیان فائرنگ ہوئی ہے۔ اس میں اگرچہ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے لیکن ایک خاتون زخمی ہوگئی ہیں۔

اس سے قبل جانسٹھ قصبے کے قریب نگلا مدوڑ گاؤں کے انٹر کالج کے میدان میں ہفتہ کو وسیع مہا پنچايت ہوئی تھی، جس میں کثیر تعداد میں لوگ شامل ہوئے تھے۔

پولیس کے مطابق مہا پنچايت میں شرکت کے لیے آنے والیے ہجوم نے راستے میں مبینہ طور پر اقلیتی برادری کے ایک شخص کو پیٹ پیٹ کر ہلاک کردیا۔

مظفر کے ابوپیرا علاقے کے لوگوں کے مطابق وہاں کوریج کر رہے ایک مقامی صحافی راجیش ورما کی گولی لگنے سے موت ہو گئی۔ اس سے قبل جمعرات کو بی جے پی نے مظفرنگر بند کا اعلان کیا تھا۔ اس دوران بھی پورے شہر میں سناٹا نظر آیا۔

اسی بارے میں