مظفرنگر ہنگامے، ہلاکتوں کی تعداد 38 ہوگئی

Image caption تشدد کی لہر شہری علاقے سے پھیلتی ہوئی دیہی علاقوں تک پہنچ گئی ہے جہاں زبردست کشیدگي کا ماحول ہے

بھارتی ریاست اتر پردیش میں حکام کا کہنا ہے کہ ضلع مظفر نگر میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات میں مرنے والوں کی تعداد 38 ہوگئی ہے جبکہ درجنوں افراد زخمی ہیں۔

تاہم آل انڈیا ریڈیو کے مطابق مرنے والوں کی تعداد 41 ہے اور علاقے میں کشیدگی برقرار ہے۔

ادھر متاثرہ علاقوں میں غیر معینہ مدت کا کرفیو جاری ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ فسادات کے سلسلے میں اب تک 90 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

ہوش کی دوا لو، شریفہ بی!

تشدد کی لہر شہری علاقے سے پھیلتی ہوئی دیہی علاقوں تک پہنچ گئی ہے جہاں زبردست کشیدگي کا ماحول ہے۔ انتظامیہ نے حالات سے نمٹنے کے لیے فوج کو تعینات کر دیا ہے جو متاثرہ علاقوں میں گشت کر رہی ہے۔انتظامیہ نے بلوائیوں کو دیکھتے ہی گولی مارنے کا حکم دیا ہے۔

ادھر مختلف علاقوں میں کھیتوں سے اب بھی اکا دکا لاشیں برآمد ہورہی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق بہت سے خاندانوں نے حملے کے خوف اور دہشت کے سبب گنے کے کھیتوں میں پناہ لی ہوئی ہے جبکہ کئی گاؤں کے لوگوں کو اپنا گاؤں چھوڑ کر اس علاقے میں پناہ لینی پڑی ہے جہاں وہ محفوظ سمجھتے ہیں۔

حکام نے کشیدگي کے سبب پڑوسی اضلا‏ع میرٹھ، شاملی اور سہارنپور ‏ جیسے اضلاع میں بھی فورسز کو تعینات کیا ہے جب کہ میرٹھ شہر میں فوج نے مارچ کیا ہے۔

اس درمیان بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ نے ریاست کے وزیر اعلی اکھیلیش سنگھ یادو سے بات کی ہے اور فسادات روکنے میں ان کی ہر ممکن مدد کرنے کی یقین دہانی کرائي ہے۔

ریاستی وزیر اعلیٰ اکھیلیش سنگھ نے میڈیا سے بات چيت میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ علاقے میں قتل کا ایک چھوٹا سا واقعہ پیش آيا تھا ’اور اپوزیشن نے سیاسی مفاد کے لیے اسے طول دیا‘۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے فسادات روکنے کی پوری کوشش کی ہے اور جو فساد کرنے کے قصوروار ہیں ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائیگي۔

’میں نے یقین دہانی کرائی ہے کہ جو بھی کچھ مظفر نگر میں ہورہا ہے اس پر قابو پالیا جائیگا اور امن و قانون کی صورت حال بہتر ہوگي۔‘

لیکن بہوجن سماج پارٹی، بی جے پی اور دیگر جماعتوں نے فسادا ت کے لیے حکمراں جماعت ایس پی کو ذمہ دار ٹھہرایا اور حکومت کو برخاست کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

ریاست کے اے ڈی جی (قانون اور نظام) ارون کمار نے ایک نیوز کانفرنس میں صحافیوں کو بتایا کہ اتوار کی دوپہر کے بعد سے ابھی تک کوئی ناخوش گوار واقعہ نہیں ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے میں اگر کوئی پولیس اہلکار مجرم پایا گیا تو اس کے خلاف کارروائي کی جائے گي۔

انہوں نے بتایا کہ سب سے زیادہ تشدد اور ہلاکتیں ضلع کے پھوگانا تھانے میں ہوئی ہیں اس لیے وہاں کے ایس ایچ او کو معطل کر دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا سكھیرا تھانے میں بھی مقدمہ درج کیا گیا ہے جہاں پنچایت کے بعد تشدد شروع ہوا تھا۔

اس سے پہلے اتوار کو ریاست کے داخلہ سکریٹری کمل سکسینہ نے بتایا تھا کہ تشدد کو قابو کرنے کے لیے سیکورٹی فورسز کو تعینات کیا گيا ہے۔

ستائس اگست کو مظفرنگر کے كوال گاؤں میں ایک مسلم لڑکے اور دو ہندو لڑکوں کے درمیان کسی بات پر جھگڑا ہوا اور پھر مسلمان لڑکے کو ہلاک کردیا گيا۔ جوابی کارروائی میں دونوں ہندو لڑکے بھی مارے گئے۔

اس کے بعد ایک جعلی ویڈیو انٹرنیٹ اور موبائل پر آگ میں جنگل طرح پھیلا جس میں دولڑکوں کو پیٹ پیٹ کر مارتے ہوئے دکھایا گيا تھا۔

اطلاعات کے مطابق یہ ویڈیو بھارتیہ جنتا پارٹی پارٹی کے ایک رہنما کی جانب سے سرکولیٹ کیا گيا تھا جس سے لوگوں کے جذبات بھڑکے۔ چند روز قبل ہزاروں کی تعداد ہندو برادری کے لوگوں نے ایک بڑی پنچائیت کی جو ختم ہونے کے بعد فسادات کے روپ میں پھوٹ پڑی۔

اسی بارے میں