دہلی گینگ ریپ کیس: ’مجرمان کو سزائے موت دی جائے‘

Image caption مکیش سنگھ، وینے شرما، اکشے ٹھاکر اور پوّن گپتا نے ان پر لگائے گئے الزامات کی تردید کی تھی

بھارت کے دارالحکومت دہلی میں گذشتہ روز گینگ ریپ کیس میں مجرم قرار پائے جانے والے چاروں افراد کے لیے بدھ کو استغاثہ نے سزائے موت کا مطالبہ کیا ہے۔

پبلک پراسیکیوٹر دایان کرشنن نے ان افراد کی سزا کے تعین کی سماعت میں کہا کہ اس جرم کے شدید بہیمانہ انداز سے سماج کو جنجھوڑ کے رکھ دیا تھا۔

مکیش سنگھ، وینے شرما، اکشے ٹھاکر اور پوّن گپتا نے ان پر لگائے گئے الزامات کی تردید کی تھی۔ تین مجرمان کے وکلاء نے کہا ہے کہ وہ عدالتی فیصلے کے حلاف اپیل کریں گے۔

گذشتہ سال دسمبر میں ایک تئیس سالہ لڑکی کو ایک بس پر بہیمانہ گینگ ریپ اور تشدد کا نشانے بنایا گیا اور وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دو ہفتوں بعد ہلاک ہوگئیں تھیں۔

ان کی ہلاکت کے بعد بھارت کے کئی شہروں میں احتجاجی مظاہرے ہوئے اور ملک میں خواتین کے ساتھ سلوک پر بحث شروع ہوگئی۔

استغاثہ نے عدالت سے کہا ہے کہ اس مقدمے میں سزائے موت سے کم کوئی سزا موزوں نہیں۔ منگل کے روز عدالت نے چاروں ملزمان کو مجرم قرار دیا تھا۔

تاہم وکیلِ صفائی نے کہا کہ میڈیا کی کووریج کا اس مقدمے پر اثر پڑا ہے۔

دہلی میں بی بی سی کے نامہ نگار سنجے موجامدار نے بتایا کہ اس تاریخی مقدمے میں ایک سو سے زیادہ گواہوں نے اپنے بیانات جمع کروائے ہیں۔

ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ ان ملزمان کو ملک گیر احتجاج کے بعد بنائے گئے نئے قوانین کے تحت سزائے موت کا سامنا ہے۔

ان قوانین کے تحت ایسے ریپ کے کیسز جن میں متاثرہ فرد کی ہلاکت ہو جائے، اُن میں مجرم کو سزائے موت دی جا سکتی ہے۔

ان چار مجرمان کے علاوہ ایک پانچویں ملزم، رام سنگھ، کو مارچ میں اپنے جیل میں ہلاک پایا گیا۔ جیل حکام کا کہنا ہے کہ رام سنگھ نے خود کشی کی تاہم ان کے اہلِ خانہ کا دعویٰ ہے کہ انہیں قتل کیا گیا تھا۔ اس کیس میں ملوث چھ ملزمان میں سے ایک ملزم کو نابالغ ہونے کی وجہ سے علیحدہ مقدمے کا سامنا کرنا پڑا۔ گذشتہ ماہ اس نابالغ ملزم کو عدالت نے مجرم قرار دیا تھا۔

منگل کے روز عدالت کے فیصلے پر متاثرہ لڑکی کے والدین نے اطمینان کا اظہار کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں تبھی سکون حاصل ہوگا جب مجرموں کو موت کی سزا ہو گی۔ پھانسی سے کم ہمیں کچھ قبول نہیں ۔‘

متاثرہ لڑکی کی والدہ نے کہا کہ ’عدالت مجرموں کو ایسی مثالی سزا دے کہ لوگوں کے ذہن میں قانون کا خوف پیدہ ہو اور لوگ ایسے جرائم کا ارتکاب نہ کریں۔‘

بھارت میں ہر برس ریپ کے پچیس ہزار سے زیادہ واقعات درج کیے جاتے ہین ۔ گزشتہ برس پورے ملک میں ریپ کے ایک لاکھ سے زیادہ واقعات عدالتوں میں زیر سماعت تھے ۔

اسی بارے میں