باپ نے بیٹی کو ’قربان کر دیا‘

بھارتی ریاست مدھیہ پردیش میں پولیس نے سوني ضلع میں ایک شخص کو گرفتار کیا ہے جس پر اپنی اکلوتی بیٹی کی قربان کرنے کا الزام ہے۔

یہ واقعہ سوني ضلع کے ترگا گاؤں میں پیش آیا مگر پولیس نے شبہ ظاہر کیا ہے کہ کہ یہ قربانی کی بجائے قتل کا معاملہ ہے۔

قتل کے ملزم ستلال نے پولیس کو بتایا کہ اسکے خواب میں درگا دیوی نے آ کر ان کی بیٹی کی قربانی کی مانگ کی تھی۔

پولیس نے ملزم کو آئی پی سی کی دفعہ 302 کے تحت گرفتار کر لیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق یہ واقعہ منگل کو دوپہر ایک بجے ترگا گاؤں میں واقع ایک مندر میں پیش آیا۔

مقامی تھانے کے انچارج ایم اے قریشی نے بتایا کہ انہیں منگل کو دن کے وقت خبر ملی کہ جھولاگاؤں میں رہنے والے 40 سالہ ستلال اڈپاچے نے اپنی چھ سال کی معصوم بیٹی خزاں کا سر کلہاڑی سے الگ کر دیا ہے اور خود بیٹی کی لاش کے پاس بیٹھا ہے۔

ستلال نے بتایا کہ ’رات میں درگا ماں خواب میں آئی تھی اور انہوں قربانی دینے کا حکم دیا تھا۔‘

جب قریشی جائے حادثہ پر ستلال کو گرفتار کرنے کے لیے پہنچے تو انہوں نے پولیس کو دیکھ کر عبادت کرنا شروع کر دی۔

ستلال اس علاقے سے پچھلی بار ضلع پنچایت کے رکن بھی منتخب ہو چکے ہیں۔

ترگا گاؤں میں ستلال کا سسرال ہے جہاں انہوں نے یہ قربانی دی۔

پولیس کے مطابق خزاں ان کی اکلوتی بیٹی تھی جس کے علاوہ ان کا ایک بیٹا اور بیوی بھی ہے۔

قریشی کا کہنا ہے کہ یہ قربانی کا نہیں قتل کا معاملہ ہے کیونکہ ان کا کہنا ہے کہ قربانی سے پہلے پوجا متن کیا جاتا ہے لیکن لاش کو دیکھ کر نہیں لگتا کہ اس کی عبادت کی گئی ہو۔

قریشی کہتے ہیں کہ ’اگربتي لگانے یا بیٹی کو قمقم لگانے کے نشان بھی نہیں پائے گئے‘

قریشی کے مطابق ملزم کی ذہنی حالت ٹھیک نہیں ہے۔ کبھی وہ کہتا ہے کہ دیوی ماں کے خواب کی وجہ سے بیٹی کی قربانی دی تو کبھی کہتا ہے کہ ثبوت ڈائری میں ہے۔

جب ڈائری دیکھی گئی تو اس میں لکھا پایا گیا کہ مرے ہوئے لوگ ووٹ ڈال رہے ہیں اور زندہ علامت کو ووٹ ڈالنا نصیب نہیں ہو رہا ہے۔

اسی بارے میں