کشمیر: نوجوان ہلاک، مظاہرے کے بعد کرفیو نافذ

Image caption فائرنگ کے بعد مقامی افراد پولیس کیمپ کو وہاں سے ہٹانے کا مطالبہ کر رہے ہیں

بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں حکام کا کہنا ہے کہ بدھ کو ایک نوجوان کی ہلاکت کے بعد بعض علاقوں میں پھر سے کرفیو نافذ کر دیا گيا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ سنیچر کو مظاہرے کے دوران بھارتی سکیورٹی فور‎سز کے ہاتھوں چار لوگوں کی ہلاکت کے بعد سے بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے جنوبی علاقے شوپیان میں حالات کشیدہ ہیں۔

علیحدگی پسند جماعتوں نے بدھ کو نوجوان کی ہلاکت کے بعد ہڑتال اور مظاہروں کا اعلان کیا تھا۔

اطلاعات کے مطابق علیحدگی پسند رہنماؤں کو نظربند کر دیا گیا ہے۔

حزب اختلاف کی رہنما محبوبہ مفتی کو بھی شوپیان جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔

بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ وادی میں ہڑتال کا کافی اثر نظر آ رہا ہے اس دوران سکول اور کاروباری ادارے بند اور عام ٹریفک معطل رہا۔

نوجوان کی ہلاکت کی ذمہ داری سکیورٹی فور‎سز پر عائد کی جا رہی ہے تاہم انھوں نے کسی قسم کی فائرنگ سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس علاقے میں جہاں یہ واقعہ رونما ہوا ہے وہاں ان کی کوئی نفری تعینات نہیں ہے۔

مقامی لوگوں کا دعوی ہے کہ شوپیان میں ایک پولیس کیمپ کے نزدیک مظاہرہ جاری تھا اور یہ مظاہرہ اس وقت پرتشدد ہو گيا جب نیم فوجی دستے نے ان پر فائرنگ کی۔اس کے بعد مقامی افراد نے پتھراؤ کیا اور نعرے بازی کی اور وہاں سے پولیس کیمپ کو ہٹانے کا مطالبہ کیا۔

Image caption کشمیر کے کئی علاقوں میں کرفیو نافذ ہے جبکہ ہڑتال کے اعلان کے بعد عام زندگی معطل ہے

نامہ نگار ریاض مسرور کے مطابق پولیس انسپکٹر جنرل اے جی میر نے واقعہ کی فوری تحقیقات کرانے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

ایک عینی شاہد نے بتایا ’بھارتی نیم فوجی دستوں نے جلوس پر فائرنگ کی‘۔

یاد رہے کہ اس سے قبل سری نگر میں عالمی شہرت یافتہ موسیقار زوبن مہتہ کے کنسرٹ سے پہلے بھارتی سیکورٹی فورسز نے تین مسلح حملہ آوروں کو ایک جوابی کارروائی میں ہلاک کرنے کا دعوی کیا تھا۔

دوسری جانب مقامی افراد کا کہنا تھا کہ زوبن مہتہ کے شو کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف آپریشن کے دوران عام لوگوں پر فائرنگ کی گئی تھی۔

ان واقعات کے بعد وادی میں سول سوسائٹی کے ایک گروپ نے بیان جاری کر کہا ’چونکہ تمام پانچ اموات جرمن سفارت خانے کے تحت منعقد ہونے والے کنسرٹ کے بعد ہوئی ہیں، اس لیے جرمنی کی حکومت کو ان ہلاکتوں پر خاموش نہیں بیٹھنا چاہئے‘۔

اسی بارے میں