مودی وزارتِ عظمیٰ کے لیے بی جے پی کے امیدوار

Image caption مودی کی زیرِ قیادت بی جے پی ریاست گجرات میں ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے حکمران ہے

بھارت میں حزب اختلاف کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی پارلیمانی کمیٹی نےگجرات کے وزیراعلیٰ نریندر مودی کو ملک کے آئندہ وزیراعظم کے لیے اپنا امیدوار نامزد کر دیا ہے۔

بھارت میں آئندہ برس لوک سبھا کے انتخابات ہونا ہیں اور بی جے پی کی پارلیمانی کمیٹی نے متنازع سیاستدان نریندر مودی کی نامزدگی کا فیصلہ جمعہ کو کیا۔

مودی سیاسی بحث کا محور ہیں

بی جے پی کے سینیئر رہنما لال کرشن اڈوانی نے پارٹی کے اس اجلاس میں شرکت نہیں کی۔

پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جماعت کے صدر راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ یہ فیصلہ عوامی خواہشات کے احترام میں کیا گیا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ نریندر مودی کے نام پر تمام اتحادی جماعتوں نے حمایت کا اعلان کیا ہے۔

اس سے قبل نریندر مودی کو آئندہ انتخابات کے لیے پارٹی کی انتخابی مہم کمیٹی کا سربراہ بھی بنایا گیا تھا۔

نامہ نگار شکیل اختر کے مطابق گجرات کی سیاست سے نکل کر قومی سیاست میں مودی کی آمد نے بھارت کی سیاست میں ہلچل پیدا کر دی ہے۔

نامہ نگار کے مطابق بھارت میں جیسے جیسے پارلیمانی انتخابات قریب آتے جا رہے ہیں نریندر مودی سیاسی بحث کا محور بنتے جا رہے ہیں اور حالیہ تاریخ میں مودی پہلے ایسے رہنما ہیں جن کے لوگ یا تو سخت خلاف ہیں اور یا پھر زبردست حامی اور یہ صورتحال خود ان کی اپنی جماعت کے اندر بھی موجود رہی ہے۔

نریندر مودی کو جہاں بھارتی ریاست گجرات کو ملک کی خوشحال ترین ریاستوں میں سے ایک بنانے کا کریڈٹ دیا جاتا ہے وہیں ان پر 2002 میں گجرات میں ہونے والے مسلم کش فسادات کو روکنے کی کوشش نہ کرنے کا الزام بھی عائد کیا جاتا ہے۔

ان فسادات میں ایک ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے اور مودی پر الزام ہے کہ انہوں نے2002 کے مسلم مخالف فسادات کے دوران پولیس کو مداخلت نہ کرنے کی ہدایت دی تھی۔ نریندر مودی اس الزام کو مسترد کرتے ہیں اور ان کے خلاف کبھی کوئی مقدمہ قائم نہیں کیا جا سکا ہے۔

1950 میں پیدا ہونے والے نریندر مودی 1980 میں بی جے پی کے رکن بنے اور جماعت میں کئی عہدوں پر فائز رہنے کے بعد 2001 میں پہلی مرتبہ گجرات کے وزیراعلی بنے۔ اس کے بعد مودی نے گجرات میں 2002، 2007 اور پھر 2012 کے اسمبلی انتخابات جیتے۔

اسی بارے میں