مودی بھارت کے سب سے طاقتور سیاست دان

Image caption مودی کا عروج ملک کی دونوں بڑی جماعتوں کی تباہ کن ناکامی کا عکاس ہے۔ بھارتی قومی سیاست کی سمت اب سیاسی جماعتیں نہیں انفرادی رہنماطے کرینگے

غالباً یہ جمہوری بھارت میں پہلا موقع تھا جب کسی سیاسی جماعت نے انتخابات سے قبل وزارتِ عظمی کے لیے باضابطہ طور پر کسی کے نام کا اعلان کیا ہے۔ گجرات کی صوبائی سیاست سے دہلی تک مودی کا یہ سفر بہت مشکل لیکن مستقل رہا ہے۔

مودی نے گجرات کے ریاستی انتخابات کی مہم کے دوران ہی یہ واضح کر دیا تھا کہ اگر وہ تیسری بار انتخابات جیت بھی گئے تو وہ قومی سیاست میں اپنا کردار ادا کریں گے۔ ان کے اس اعلان سے خود ان کی جماعت بی جے پی میں شدید بے چینی رہی ہے۔

ایک منتظم کے طور پر مودی کا طریقہ کار شخصی حکومتوں جیسا ہے۔ سیاسی طاقت ان کے ہاتھوں میں پوری طرح مرکوز ہوتی ہے اور وہ اپنی اس طاقت میں کسی کو شریک نہیں کرتے۔ ہر کوئی ان کا تابع ہوتا ہے۔

وزیر اعلی کے طور پر ان کی تیرہ برس کی حکمرانی میں گجرات میں بی جے پی کے تقریباً سبھی بڑے رہنا ان کے طریقۂ کار سے بدظن ہو کر یا تو پارٹی سے الگ ہو گئے یا پھر مودی کے قد آورسیاسی سائے میں ان کا وجود ضم ہو گیا۔

آر ایس ایس اور وشو ہندو پریشد جیسی بی جے پی کی محاذی تنطیمیں بھی مودیٰ سے نالاں تھیں کیونکہ مودی اقتدار میں حصے داری کے قائل نہیں ہیں۔ ان طاقتور ہندو تنطیموں کی اعلی قیادت اور بی جے پی کی دہلی کی لیڈر شپ نے ایک طویل عرصے سے مودی کو نئی دہلی آنے سے روکنے کی ہر ممکن کوشش کی لیکن انھیں پست ہونا پڑا۔

بھارت کے سیاسی افق پر مودی کا ظہور ان کی کسی غیر معمولی صلاحیت کے سبب نہیں بلکہ مرکز میں کانگریس کی تباہ کن کارکردگی اور خود کو ایک بہتر متبادل کے طور پر پیش کرنے میں بے جے پی کی غیر معمولی ناکامی کے سبب ہوا ہے۔ ایک طویل عرصے سے ایک خاندانی حکومت دیکھتے دیکھتے لوگ گانگریس سے بیزار ہو چکے ہیں۔

کانگریس وقت کی بدلتی ہوئی حقیقتوں اور نئی نسل کی بے چین امنگوں کی تسکین فرسودہ سیاسی پالیسیوں، جاگیردارارانہ طرز حکومت اور بے جوابدہی سے کرنا چاہتی ہے۔ بھارت کے عوام اب یہ محسوس کرنے لگے ہیں کہ کانگریس وقت سے کٹ چکی ہے اور موجودہ قیادت مستقبل کے رہنما نہیں بلکہ ماضی کے مقبرے ہیں۔

دوسری جانب بی جے پی نے پچھلے برسوں میں خود کو ایک ایسی جماعت کے طور پر پیش کیا ہے جس کا کوئی پروگرام اور پالیسی نہیں ہے۔ وہ خود اپنے ابہام کے بھنور میں پھنسی ہوئی جماعت ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب بھارت میں لوگ ایک بہتر سیاسی متبادل کے لیے ترس رہے تھے اڈوانی کی قیادت میں بی جے پی خود کو ایک اعتدال پسند جمہوری اور مستقبل کی جانبب لے جانے والی جماعت کے طور پر پیش نہ کر سکی۔ بی جے پی ماضی میں پھنسی ہوئی ایک نیم مذہبی فرسودہ ، کنفیوزڈ اور بے سمت جماعت بنی ہوئی ہے۔

یہ وہ حالات تھے جن میں ملک کی نظریں مودی کی طرف مرکوز ہوئیں۔ مودی کا سیاسی استعارہ ملک کی تما م سیاسی جماعتوں سے الگ ہے۔ وہ مستقبل کی باتیں کرتے ہیں، ان کی تقریروں میں نئی نسل کی بے چینیوں اور امنگوں کی نمائندگی ملتی ہے۔ برسوں کی بدعنوانی رشوت اور نہ اہلی کے ستائے ہوئے صنعت کاروں کو ان میں امید کی کرن نظر آتی ہے۔ برسوں کی بد انتطامی سے بدحال مایوس عوام فی الحال مودی کے متنازع ماضی کو بھی نظر انداز کرنے کے لیے تیار نظر آتی ہے۔

مودی کا عروج ملک کی دونوں بڑی جماعتوں کی تباہ کن ناکامی کا عکاس ہے۔ بھارت کی قومی سیاست کی سمت اب سیاسی جماعتیں نہیں انفرادی رہنما طے کریں گے۔ مودی بلا شبہ اس سلسلے کے پہلے رہنما ہیں۔

اسی بارے میں