’مودی چہرے پر نقاب ڈال کر مشہور ہوئے ہیں‘

Image caption مودی کی تاجپوشی کے جشن کے دوران کسی طرح کے ہنگامے سے بچنے کے لیے نرودا پاٹیا کے زیادہ تر باشندے اپنے گھروں میں ہی رہے

بھارتی سیاسی جماعت بھرتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے گجرات کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی کو وزیر اعظم کے عہدے کے امیدوار کے اعلان کے بعد ایک طرف جہاں احمد آباد میں مودی کے حامی خوشیاں منا رہے ہیں، وہیں نرودا پاٹیا میں خاموشی کے بادل ہیں۔

گجرات میں سال 2002 میں ہوئے فسادات میں نرودا پاٹیا نے بدترین فسادات دیکھے۔

نرودا پاٹیا کے نذیر خان پٹھان نے فسادات کے دوران زیر زمین پانی کی ٹینکی میں چھپ کر اپنی جان بچائی تھی۔

نذیر خان پٹھان کا کہنا ہے ’مودی چہرے پر نقاب ڈال کر مشہور ہوئے ہیں۔ ہمیں لگتا ہے کہ وہ اپنا اصلی چہرہ چھپانے کے لیے طرح طرح کے نقاب پہنتے ہیں۔ وہ چہرہ جو ہمیں گزشتہ 11 سالوں سے ستا رہا ہے۔ ایک دہائی گزر جانے کے بعد بھی انہوں نے ہمارے زخموں پر مرہم لگانے کے لیے کبھی کچھ نہیں کہا۔‘

مودی کی تاجپوشی کے جشن کے دوران کسی طرح کے ہنگامے سے بچنے کے لیے نرودا پاٹیا کے زیادہ تر باشندے اپنے گھروں میں ہی رہے۔

راجہ قریشی نے 2002 کے فسادات میں اپنی ماں اور بہن کھوئی۔ ان کا کہنا ہے ’فساد سے متاثر ہونے والے افراد تو ابھی تک اپنی جان کو خطرہ محسوس کرتے ہیں اور انصاف کی امید کرتے ہیں۔ اب جب مودی کو قومی سیاست میں بلند عہدہ دے دیا گیا ہے تو ہمیں اب انصاف کی امید نہیں رہی۔‘

اسی علاقے کے رہائشی بادشاہ صرف دس سال کے تھے جب فسادات ہوئے۔ بادشاہ کا کہنا ہے ’جب تک اسارام باپو آزاد تھے، تب تک کوئی ان کے خلاف خوف کے مارے نہیں بولتا تھا۔ لیکن اب جب وہ جیل میں ہیں تو اب ان کے خلاف روز نئے کیس سامنے آ رہے ہیں۔ اسی طرح اگر مودی کو بھی گھیر لیا جائے تو ان کی کئی زیادتیوں کا پتہ چلے گا۔‘

گجرات کی مودی حکومت میں سابق وزیر مایا كوڈناني کو نرودا پاٹیا قتل عام کیس میں اٹھائیس سال کی سزا سنائی گئی ہے۔ نرودا پاٹیا کیس میں بتیس لوگوں کو پر مقدمہ چلایا گیا تھا۔

پاٹیا میں فسادات کی ایک اور عینی شاہد نجمہ بی بی کہتی ہیں ’ہمیں آج بھی مودی کے حامیوں سے دھمکیاں ملتی ہیں۔ اگر انہیں قومی سیاست میں اور طاقت مل گئی تو ہم اور لاچار محسوس کریں گے۔ اگر مودی گجرات میں ہوئے غلط کو صحیح نہیں کر سکتے تو ہم یہ کیسے مان لیں کہ وہ جب مرکز میں آئیں گے تو تب صحیح کریں گے۔‘

اسی بارے میں