جنسی زیادتی سے متعلق خاموشی کا عہد

بھارت کے دارالحکومت دہلی میں طالبہ سے اجتماعی جنسی زیادتی کے چار مجرموں کو سزائے موت سنائی گئی ہے۔

یہ بات حوصلہ افزا ہے کہ بھارت میں اب اس بات پر بحث کی جا رہی ہے کہ شہروں کو خواتین کے لیے کس طرح محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔

لیکن گھروں میں ہونے والی جنسی زیادتی ایک ایسا موضوع ہے جس پر لوگ خاموش رہتے ہیں۔

مجھے اپنا بچپن زیادہ واضح طور پر یاد نہیں لیکن جنسی زیادتی کے وہ مناظر میرے ذہن سے کبھی نہیں نکلتے۔

میں اس وقت مشکل سے کوئی سات سال کی تھی اور اپنے پانچ بہن بھائیوں اور کئی رشتے داروں کے ساتھ ایک دو کمروں کے فلیٹ میں رہتی تھی۔

میری والدہ ایک گھریلو خاتون تھیں اور اتنی بڑی فیملی کے ساتھ محدود وسائل میں گھر چلانے میں مصروف رہتی تھیں۔

مجھے اتنی بڑی فیملی کا حصہ ہونا بہت پسند تھا۔ یہ مجھے گھر کا سا احساس دلاتا تھا لیکن ساتھ ہی میں جنسی زیادتی کے لیے بھی ایک آسان ہدف تھی۔

دور کے رشتے دار اور کزن اکثر گھر آتے رہتے تھے اور گھر میں سب سے چھوٹی ہونے کی وجہ سے وہ مجھے ’پیار‘ کرتے تھے۔

لیکن اس پیار کا اظہار اسی قت کیا جاتا تھا جب میں اکیلی ہوتی تھی۔

مجھے اس صورتحال سے نفرت تھی لیکن دوسرے لوگوں کی طرح میں بھی اس بارے میں بات کرنے سے خوف زدہ تھی۔

وہ ’پیار‘ چھونا، بوسہ کرنا یا باتھ روم میں بند کر دیے جانا تھا۔

گھر میں ہر وقت کئی افراد ہوتے تھے لیکن اس کے باوجود میں تنہا محسوس کرتی تھی۔

مجھے وہ دن آج بھی یاد ہے۔ اس وقت میں تقریباً دس سال کی تھی۔

کئی سالوں سے یہ زیادتی برداشت کرنے کے بعد ایک دن میں زمین پر بیٹھ کر زور زور سے رونے اور چلانے لگی۔

وہ شخص خوف زدہ ہوگیا کے میں اتنے عرصے کے بعد کیوں ہنگامہ کر رہی ہو؟ ایسا کیا ہوا ہے؟

مجھے یاد ہے کہ میری بڑی بہن اس وقت تک اسے مارتی رہیں جب تک وہ تھک نہ گئیں۔ میرے والدین نے اس شخص کو فوراً گھر سے چلے جانے کا کہا۔

Image caption گزشتہ سال دسمبر میں ایک طالبہ سے اجتماعی جنسی زیادتی کے چار مجرموں کو سزائے موت سنائی گئی ہے

اور بس وہ انجام تھا، اس کے بعد یہ باب بند ہوگیا۔ ہم اپنی زندگیوں میں ایسے مصروف ہوگئے جیسے کبھی کچھ ہوا ہی نہیں۔

مجھے نہیں پتہ کہ اس کا مجھ پر کیا اثر ہوا۔

مجھے مردوں سے نفرت نہیں ہوئی۔ میں نے ایک خوش و خرم بچپن گزارا اور خود مختار ہوگئی۔ میرے والدین کو لگا ہوگا کہ میں ٹھیک ہوں۔

کچھ عرصے بعد میں یہ سوچنےلگی کہ انہوں نے اس معاملے کی پولیس کو رپورٹ کیوں نہیں کی۔ اسے اس طرح آزادی سے کیوں جانے دیا؟

کیا میری لبرل اور ماڈرن فیملی کو اپنی عزت کی فکر تھی؟

خاندان کی عزت کا معاملہ کبھی بھی بحث کا موضوع نہیں رہا تھا لیکن ایسا لگتا ہے کہ میرے معاملے میں حقیقت کا سامنا کرنے کی بجائے یہ زیادہ اہم تھا۔

یا کوئی اور وجہ تھی؟ اس حادثے کو اتنا وقت گزرنے کے بعد بھی میں نے اپنے والدین سے آج تک یہ سوال نہیں کیے اور نہ ہی میرے پاس ان سوالوں کے جواب ہیں۔

لیکن اپنی بہنوں، کزنز اور دوستوں سے بات کرنے کے بعد مجھے پتہ چلا کہ ان میں کئی اسی طرح کے خوفناک تجربات سے گزرے ہیں۔

زیادتی کے اس تجربے کے بعد خاموشی اور بھولنے کا تجربہ اور ایسا ظاہر کرنا کہ جیسے کبھی کچھ ہوا ہی نہیں۔

گذشتہ سال دسمبر میں ایک طالبہ سے اجتماعی جنسی زیادتی کے چار مجرموں کو سزائے موت سنائے جانے کی خبر آئی تو میں سوچنے لگی کہ آخر بھارت میں گھروں میں ہونے والی ان زیادتیوں کے بارے میں خاموشی کا یہ عہد کب ٹوٹے گا؟

نوبیل انعام یافتہ ماہر اقتصادیات امرتیہ سین نے انڈین معاشرے میں بحث کے رواج پر بات کی تھی۔

حال ہی میں ایک تجزیہ کار کا کہنا تھا کہ ہم خود کے علاوہ ہر بات پر بحث کرنا چاہتے ہیں۔

ہمارے خاندان کم عمر لڑے، لڑکیوں اور خواتین کے ساتھ ہونے والی جنسی زیادتی کی بنیادی وجوہات کے بارے میں بحث کرنا کب شروع کریں گے؟

یہ خوش آئند اور حوصلہ افزا ہے کہ اس بارے میں کافی بات ہو رہی ہے کہ خواتین کو عوامی مقامات پر کس طرح تحفظ فراہم کیا جا سکتا ہے۔

تئیس سالہ طالبہ پر حملہ کرنے والے اجنبی تھے لیکن بھارتی پولیس کے ریکارڈ کے مطابق جنسی تشدد کے نوے فیصد معاملوں میں مجرم متاثرہ شخص کا کوئی جاننے والا ہوتا ہے۔

تو اس معاملے میں کیا کیا جا سکتا ہے؟

یہ بات واضح ہے کہ اس معاملے میں گھر اور محلے عوامی مقامات سے زیادہ غیر محفوظ ہیں اور میرا اپنا تجربہ بھی یہی تھا۔ اس لیے یہاں بھی تبدیلی کی ضرورت ہے۔

خواتین کے لیے گھروں کو محفوظ بنانے پر بات کرنے کی ضروت ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ میری چھ سالہ بیٹی کی نسل کو ان سوالوں اور خاموشی کے ساتھ زندگی نہ گزارنی پڑے۔

اسی بارے میں