’مودی کے لیے امریکی ویزہ اب بھی نہیں‘

Image caption گجرات فسادات کے بعد 2005 میں امریکہ نے مودی کو سفارتی ویزا دینے سے انکار کر دیا تھا

بھارت کی سیاسی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے چاہے نریندر مودی کو اگلے انتخابات کے لیے وزیر اعظم کے عہدے کا امیدوار قرار دے دیا ہے لیکن ان کو ویزا دیے جانے کے حوالے سے امریکہ کا رویہ نہیں بدلا۔

امریکی محکمۂ خارجہ کی ترجمان میری ہرف نے صحافیوں کی جانب سے مودی کے ویزے کے سوال کے جواب میں کہا ’اس خاص معاملے میں ہماری طویل وقت سے چلی آ رہی ویزا پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ہے۔ لیکن مودی اگر امریکی ویزے کے لیے درخواست دیتے ہیں تو اس کا جائزہ لیا جائے گا۔‘

امریکہ میں مودی کو ویزہ دینے کی مخالفت

مودی کو ویزہ نہ دینے کی پالیسی برقرار

تاہم انہوں نے یہ بھی صاف الفاظ میں کہہ دیا کہ ’نریندر مودی کے ویزے کی درخواست کا جائزہ بھی عام ویزے کی درخواستوں کی طرح لیا جائے گا۔ یقیناً یہ جائزہ امریکی قانون کے تحت ہوگا۔ جائزے کا نتیجہ کیا نکلے گا اس پر میں کوئی قیاس آرائی نہیں کروں گی۔‘

جب ترجمان سے یہ سوال پوچھا گیا کہ مودی بھارت کی دوسری سب سے بڑی پارٹی کی جانب سے وزارت عظمیٰ کے امیدوار ہیں، تو ان کا جواب تھا کہ وہ بھارت کی اندرونی سیاست پر تبصرہ نہیں کرنا چاہتیں۔

وزارت خارجہ کی ترجمان میری ہرف سے جب پوچھا گیا کہ حال ہی میں بی جے پی صدر راج ناتھ سنگھ واشنگٹن میں تھے، کانگریس سمیت پارٹی کے تمام لیڈروں کا امریکہ آنا جانا لگا رہتا ہے، تو ایسے میں مسئلہ کیا ہے؟کیا مودی کے خلاف کوئی مہم چل رہی ہے یا پھر ان کے ویزے کے حوالے سے کوئی اندرونی مسئلہ ہے؟

امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان نے جواب میں کہا ’ہم بھارت کی اندرونی سیاست میں شامل نہیں ہیں۔ اگر مودی کو ویزا چاہیے تو عام لوگوں کی طرح ہی درخواست دینی ہو گی اور وہ درخواست دینے کے لیے آزاد ہیں۔

یاد رہے کہ گجرات فسادات کے بعد 2005 میں امریکہ نے مودی کو سفارتی ویزا دینے سے انکار کر دیا تھا۔ امریکہ نے مودی کے سیاح اور کاروباری ویزے کو بھی رد کر دیا تھا۔

برطانیہ نے بھی مودی کو ویزا دینے میں انكار کیا تھا تاہم اب برطانیہ نے مودی کو ویزا دینے کے لیے حامی بھر لی ہے۔

اسی بارے میں