جوہری بم کی ہوم ڈیلیوری اور سپنوں کے سوداگر

جوہری بموں کی ہوم ڈیلیوری

اتوار کو انڈیا نے اگنی فائیو نامی میزائل کا دوسری مرتبہ کامیابی سے تجربہ کیا۔ اخبارات کے مطابق ’یہ میزائل چین میں پانچ ہزار کلومیٹر کے فاصلے تک کہیں بھی ایک ٹن کاجوہری بم پہنچا سکتا ہے۔‘

خبر سے تو ایسا لگتا ہے جیسے انڈیا جوہری بم کی ’ہوم ڈیلیوری‘ یا کوریئر سروس شروع کر رہا ہو! لیکن اس طرح کے تجربات کی خبریں پڑھنے کے بعد کچھ سوال ہیں جو اکثر ذہن میں آتے ہیں۔

کیا چین اور انڈیا کے درمیان کبھی جوہری جنگ ہوسکتی ہے؟ اگر ہوئی تو ان لوگوں سے ہماری کیا زیادہ دشمنی ہے جو انڈیا کی سرحد سے پانچ ہزار کلومیٹر دور رہتے ہیں؟

ان بے چاروں کا قصور ان لوگوں سے زیادہ کیسے ہے جو چینی تو ہیں لیکن سرحد سے صرف سو پچاس کلومیٹر دور ہیں؟ کیونکہ یہ تو ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ اگر کبھی میزائل داغنے کی نوبت آئی تو فوج اسے جتنا دور تک پہنچا سکتی ہے اتنا ضرور پہنچائے گی، کیونکہ ایندھن تو برابر ہی لگنا ہے! تو پیسہ وصول کرنے کے لیے کیوں نہ سواری پوری کی جائے؟

زمانۂ جنگ میں تو یہ میزائل جوہری بم ’ڈیلیور‘ کرنے کے لیے استعمال ہوں گے، لیکن زمانۂ امن میں کیا انہیں دیگر ساز و سامان کی سپلائی کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا؟ آخر دونوں ملکوں نے باہمی تجارت کا حجم دو سال میں سو ارب ڈالر تک پہنچانے کا فیصلہ کیا ہے، یہ ہدف حاصل کرنے کے لیے ہر ہتھیار استعمال کیا جانا چاہیے!

سپنوں کے سوداگر

Image caption آئندہ الیکشن میں بھارت کی وزاتِ عظمیٰ کے لیے راہول گاندھی اور نریندر مودی مدِمقابل ہوں گے

راہل گاندھی کا کہنا ہےکہ وہ غریبوں کے سپنے پورے کرنے کے لیے اپنے سپنے کچلنا چاہتے ہیں اور نریندر مودی اپنے سپنے پورے کرنے کے لیے سب کے سپنے کچلنا چاہتے ہیں۔

فی الحال مودی دلی کی طرف دوڑ رہے ہیں اور لگتا ہے کہ راہل دلی سے دور! یہ بات اب تک سب کی سمجھ سے باہر تھی لیکن جب سے انہوں نے غریبوں کے لیے اپنے سپنے کچلنے کا ذکر کیا ہے، بات ذرا کچھ سمجھ میں آنے لگی ہے۔

راہل گاندھی چاہیں یا نہ چاہیں، مودی اگلے الیکشن کو اپنے اور ’دلی سلطنت کے ولی عہد‘ کے درمیان ریفرینڈم میں تبدیل کر دیں گے۔

راہل بھی اپنے ’وچن‘ کے پکے ہیں، شاید مودی کو چیلنج بھی نہ کریں کیونکہ خود مودی کا تعلق ایک غریب گھر سے ہے، وہ کبھی سڑک کے کنارے چائے بیچا کرتے تھے، اور راہل غریبوں کے لیے اپنے سپنے کچلنے کا پہلے ہی اعلان کر چکے ہیں!

آپ تو ایسے نہ تھے!

وزیراعظم کے لیے بی جے پی کا امیدوار بنائے جانے کے بعد اپنی پہلی تقریر میں مودی نے پاکستان کو کچھ مشورے دیے ہیں۔

ان کا کہنا تھا ’میں پاکستان کے حکمرانوں کو بتانا چاہتا ہوں کہ وہ غربت، جہالت اور قدامت پسندی کے خلاف جنگ لڑیں۔۔۔ آپ دس سالوں میں اتنی ترقی کر سکتے ہیں جتنی آپ نے گزشتہ ساٹھ برسوں میں نہیں کی۔‘

مودی صاحب، جن لوگوں کو پاکستان اور ’میاں مشرف‘ کے بارے میں آپ کے پرانے بیانات یاد ہیں، وہ شاید آپ سے صرف اتنا ہی کہیں گے کہ: آپ تو ایسے نہ تھے۔

اسی بارے میں