مظفر نگر: 10 دن سے جاری کرفیو کا خاتمہ

مظفر نگر
Image caption لوگ تاحال خوف کی وجہ سے اپنےگھروں کو جانے کے لیے تیار نہیں

بھارتی ریاست اترپردیش میں حکام نے رواں ماہ ہندو مسلم فسادات کا نشانہ بننے والے ضلع مظفرنگر میں دس دن سے نافذ کرفیو ختم کر دیا ہے۔

مظفر نگر کے ضلعی مجسٹریٹ كوشل راج شرما نے پیر کو صحافیوں کو بتایا کہ ضلع میں حالات اب پرامن ہیں۔ کئی اہم لوگوں نے علاقے کا دورہ کیا ہے۔ اس لیے ہم نے فیصلہ لیا ہے کہ شام سات بجے کے بعد ضلع میں کرفیو ختم ہو جائے گا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ کرفیو کے خاتمے کے باوجود رات کو سکیورٹی اہلکاروں کا گشت جاری رہے گا۔

کوشل راج شرما کے مطابق ضلع کے تمام سکول بھی کھول دیے گئے ہیں اور جلد ہی اس بات کا فیصلہ بھی ہوگا کہ امن و امان برقرار رکھنے کے لیے بلائی گئی فوج کب واپس بیرکوں میں جائے گی۔

مقامی پولیس کے سینیئر اہلکار پروین کمار کا کہنا تھا کہ حالات پر سختی سے نظر رکھی جائے گی اور سکیورٹی کی تعداد میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی تاکہ کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آئے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ علاقے میں شراب کی تمام دکانوں کو صرف شام سات بجے تک ہی کھلے رہنے دیا جائے گا۔

فسادات کے بعد سے علاقے میں 1700 ہتھیار لائسنس منسوخ کئے گئے ہیں اور آنے والے دنوں میں کچھ اور لائسنس منسوخ کئے جائیں گے۔

مظفرنگر میں سات ستمبر سے پرتشدد واقعات کا سلسلہ شروع ہوا تھا اور ان میں چالیس کے قریب افراد مارے گئے تھے جبکہ ہزاروں افراد نے اپنا گھر بار چھوڑ دیا تھا۔

ضلعی انتظامیہ کے مطابق اس وقت 41 سرکاری امدادی کیمپوں میں 7198 لوگ قیام پذیر ہیں اور ان میں سے زیادہ تر لوگ تاحال خوف کی وجہ سے اپنےگھروں کو جانے کے لیے تیار نہیں۔

ضلع مجسٹریٹ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ افواہیں نہ پھیلائیں اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے لیے کام کریں۔

مظفر نگر میں کشیدگی کا آغاز ستائیس اگست کو مقامی گاؤں كوال میں ایک مسلم لڑکے اور دو ہندو لڑکوں کے درمیان جھگڑے کے نتیجے میں مسلمان لڑکے کی ہلاکت سے ہوا۔

اس کے بعد جوابی کارروائی میں دونوں ہندو لڑکے بھی مارے گئے جن کی ہلاکت کی ایک جعلی ویڈیو انٹرنیٹ اور موبائل پر پھیلی جس سے لوگوں کے جذبات بھڑکے۔

اس پر ستمبر کے آغاز میں ہزاروں کی تعداد ہندو برادری کے لوگوں نے ایک بڑی پنچایت کی جس کے خاتمے کے بعد علاقے میں فسادات پھوٹ پڑے تھے۔

اسی بارے میں