مظفرنگر: سیاسی رہنماؤں پر فساد پر اکسانے کا الزام

بھارت کی شمالی ریاست اترپردیش کے مظفرنگر ضلع میں فسادات کے دوران مذہبی جذبات بھڑکانے کے الزام میں پانچ مقامی سیاسی رہنماؤں کے خلاف غیر ضمانتی وارنٹ جاری کیے گئے ہیں اور پولیس کا کہنا ہے کہ انہیں 48 گھنٹوں کے اندر گرفتار کر لیا جائے گا۔

مظفر نگر: 10 دن سے جاری کرفیو کا خاتمہ

مظفر نگر: یہ آگ آسانی سے ٹھنڈی نہیں ہوگی

ایک مقامی عدالت نے بھارتیہ جنتا پارٹی کے رکن اسمبلی سنگیت سوم، بہوجن سماج پارٹی کے رکن پارلیمان قادر رانا، بی ایس پی کے رکن اسمبلی نور سلیم رانا، کانگریس کے سابق رکن پارلیمان سعید الزماں صدیقی اور دو دیگر مقامی رہنماؤں کے خلاف وارنٹ جاری کیے ہیں۔ بی جے پی کے دو دیگر اراکین اسمبلی کے خلاف بھی مقدمات درج ہیں لیکن ابھی ان کے خلاف وارنٹ جاری نہیں ہوئے ہیں۔

مسٹر سنگیت پر الزام ہے کہ انہوں نے ایک پرانی ویڈیو انٹرنیٹ پر اپ لوڈ کی تھی جس میں دو نوجوانوں کو قتل ہوتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔ تاثر یہ دیاگیا تھا کہ یہ وہ دو جاٹ نوجوان تھے جنہیں فساد کے پہلے دن ایک مسلمان نوجوان کے قتل کے بعد مشتعل ہجوم نے ہلاک کر دیا تھا۔ لیکن پولیس کا دعویٰ ہے کہ یہ ویڈیو دو سال پرانی ہے اور پاکستان میں بنائی گئی تھی۔

لیکن آج لکھنؤ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر سوم نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی حکومت ’ایک خاص فرقے کو خوش کرنے کے لیے یہ کارروائی کر رہی ہے اور فسادات کے لیے خود سماج وادی پارٹی کی پالیسیاں ہی ذمہ دار ہیں۔‘

باقی رہنماؤں پر الزام ہے کہ انہوں نے تیس اگست کو جمعہ کی نماز کے بعد مظفرنگر میں ایک ہجوم سے خطاب کرتے ہوئے مذہبی جذبات بھڑکائے تھے۔

ضلع کے سینئر پولیس افسر پروین کمار نے ایک خبر رساں ادارے کو بتایا کہ ’ہم نے تمام شواہد جمع کر لیے ہیں، کسی کو بخشا نہیں جائےگا۔‘

فسادات میں تقریباً پچاس لوگ ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے تھے۔ اب بھی ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے آس پاس کے دیہات میں قائم ریلیف کیمپموں میں پناہ لے رکھی ہے کیونکہ وہ مزید تشدد کےخوف سے اپنے گھروں کو لوٹنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

اسی بارے میں