ہریانہ:’غیرت کے نام پر قتل‘، 3 گرفتار

غیرت کے نام پر قتل
Image caption پولیس کو شک ہے کہ یہ ’آنر کلنگ‘ کا معاملہ ہے

بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی سے متصل ریاست ہریانہ کے ضلع روہتک میں غیرت کے نام پر قتل کے ممکنہ واقعے میں ایک لڑکے اور لڑکی کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔

قتل کا یہ واقعہ بدھ کی شام روہتک کے گاؤں گھروتي میں پیش آيا۔

پولیس نے اس سلسلے میں لڑکی کے خاندان کے تین افراد کوگرفتار کیا ہے۔

ہریانہ کے پولیس حکام نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ انہوں نے لڑکی کے ماں، باپ اور بھائی کو گرفتار کیا ہے اور پولیس کو شک ہے کہ یہ ’آنر کلنگ‘ یعنی غیرت کے نام پر قتل کا معاملہ ہے۔

ایک سینیئر پولیس افسر کے مطابق اس قتل کے مختلف پہلوؤں کی جانچ ہوگی جس میں ہلاک ہونے والے لڑکے کے خاندان کی شکایت درج کروانے میں پس و پیش بھی شامل ہے۔

اخبار انڈین ایکسپریس نے سینیئر پولیس افسر انل کمار کے حوالے سے لکھا ہے: ’ابتدائی تفتیش اس طرف اشارہ کرتی ہے کہ لڑکی کو اس کے خاندان کے ارکان نے پیٹ پیٹ کر مار ڈالا اور پھر اس کو دفنا دیا گيا۔ اس کے بعد لڑکی کے عاشق کی پٹائی کر کے اس کا سر کاٹ ڈالا گیا۔‘

پولیس افسر کا کہنا تھا کہ دونوں کالج کے طالب علم تھے اور شادی کرنے کا منصوبہ بنا رہے تھے لیکن لڑکی کے گھر والے اس کے خلاف تھے۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ لڑکے کے خاندان والے لڑکی کے گھر والوں کے خلاف شکایت درج کروانے میں ہچكچا رہے تھے اس لیے ہمیں خود ہی مقدمہ درج کرنا پڑا۔

پولیس اس بات کی بھی تحقیقات کر رہی ہے کہ کہیں اس قتل میں لڑکے کے خاندان کی بھی رضامندی تو شامل نہیں تھی۔

اطلاعات کے مطابق متاثرہ لڑکا اور لڑکی گھر والوں کی سختی کے سبب فرار ہوگئے تھے جنہیں بعد میں یہ کہہ کر واپس بلایا گيا کہ وہ واپس آجائیں تو ان کے ساتھ نرمی برتی جائے گی لیکن جب واپس آئے تو انہیں بے رحمی سے قتل کر دیا گيا۔

اسی بارے میں