کشمیر: شوپیان میں مسلسل کرفیو سے مارچ ناکام

Image caption فائرنگ کے بعد مقامی افراد پولیس کیمپ کو وہاں سے ہٹانے کا مطالبہ کر رہے ہیں

بھارت کے زیرانتظام کشمیر کے جنوبی قصبہ شوپیان میں دو ہفتوں سے مسلسل کرفیو اور سخت سیکورٹی پابندیوں کے خلاف وادی بھر میں غم و غصہ کی لہر پھیل گئی ہے۔

جمعہ کی نماز کے بعد حریت کانفرنس کے عمرگروپ سے وابستہ کارکنوں نے جب شوپیان کی طرف پیش قدمی کی کوشش کی تو پولیس نے لاٹھی چارج کیا اور آنسو گیس کے گولے پھینکے۔

اس مارچ کی کال حریت کانفرنس کے سربراہ میر واعظ عمرفاروق نے دی تھی۔ میرواعظ اور ان کے ساتھیوں کو گھروں میں ہی نظربند کیا گیا ہے۔

اُدھر سات ستمبر سے شوپیان میں انسانی بحران کی سی صورتحال پیدا ہوگئِی ہے۔ اس سلسلے میں علیحدگی پسند رہنما سید علی گیلانی نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون کو مکتوب بھی ارسال کیا ہے۔

گيلانی کو بھی گھر میں ہی نظربند کیاگیا ہے۔ مسٹر گیلانی نے ہفتے کو وادی بھر میں عام ہڑتال کی اپیل کی ہے۔ پچھلے دو ہفتوں کے دوران کئی مرتبہ ان ہلاکتوں کے خلاف ہڑتالیں کی گئِِیں۔ سید گیلانی نے ایک بیان میں بتایا کہ ہڑتال ان کا شوق نہیں بلکہ دنیا کو بھارت کے خلاف ناراضگی دکھانے کا ایک ذریعہ ہے۔

واضع رہے کہ سات ستمبر کو ہوئے مغربی موسیقی کے ایک کنسرٹ کے انعقاد سے کشمیر میں حالات کشیدہ ہوگئے۔ اسی روز کنسرٹ سے ذار قبل بھارتی فورسز نے دعوی کیا کہ چار مسلح حملہ آوروں کو ایک جوابی کاروائی میں ہلاک کیا گیا۔ لیکن بعد میں پولیس نے انکشاف کیا کہ ان میں تین عام شہری تھے ، چوتھے کی شناخت ابھی تک متنازعہ ہے۔

اس واقعہ کے خلاف شوپیان اور ملحقہ علاقوں میں مظاہرے ہوئے، ایسے ہی ایک مظاہرے کے دودران فورسز نے ایک اور نوجوان کو ہلاک کردیا۔ پچھلے چودہ روز سے شوپیان میں کرفیو نافذ ہے۔

علیحدگی پسند رہنما سید علی گیلانی نے اس سلسلے میں اقوام متحدہ کے فوجی مبصرین کے ہیڈکوارٹر کی طرف مارچ کا بھی اعلان کیا تھا، لیکن اسے ناکام بنا دیا گیا۔ اس کے بعد میرواعظ عمرفاروق نے وادی کے تمام خطوں سے شوپیان کی طرف مارچ کرنے کی کال دی۔

شوپیان کی طرف کسی بھی پیش قدمی کو روکنے کے لئے حکام نے علیحدگی پسندوں کو گرفتار کر لیا اور بعض کے گھروں پر پہرہ لگا کر انہِیں گھروں میں ہی قید کیا گیا۔

شوپیان کشمیر کے جنوبی پیر پینجال خطے سے ملحقہ ایک پہاڑی اور ذرخیز ضلع ہے۔ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق یہاں کی آبادی دو لاکھ پینسٹھ ہزار ہے۔ سیب اور اخروٹ کی کاشت کے لئے دنیا بھر میں مشہور یہ ضلع دو ہزار نو میں بھِی دو خواتین کے پراسرار قتل کے بعد دو ماہ تک شوپیان میں تشدد اور کشیدگی کا ماحول رہا۔

فی الوقت شوپیان کے لوگوں اور علیحدگی پسندوں کا کہنا ہے کہ ضلع کے گاگرن علاقہ میں قائم کیمپ، جہاں چار نوجوانوں پر فائرنگ کی گئی تھی، ایک سیکورٹی رسک ہے۔

اسی بارے میں