مظفر نگر فسادات: بی جے پی کے رہنما گرفتار

بھارتی ریاست اتر پردیش کے ضلع مظفر نگر میں ہندو مسلم فسادات کے معاملے میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے رکنِ اسمبلی سریش رانا کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

انہیں جمعہ کو ریاستی صدر مقام لکھنؤ کے علاقے گومتي نگر سے اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ بی جے پی کے دفتر سے باہر نکلے۔

اس معاملے میں گرفتار ہونے والے وہ پہلے سیاستدان ہیں۔

سریش رانا کو اشتعال انگیز تقریر کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے تاہم وہ اپنے خلاف لگائے جانے والے الزامات کی تردید کرتے ہیں۔

رانا کے خلاف کیس درج ہونے کے بعد بھی وہ اسمبلی سیشن میں شامل ہونے لکھنؤ پہنچ گئے تھے اور اسمبلی کا سیشن ختم ہونے کے بعد ہی انہیں گرفتار کیا گیا۔

مظفرنگر فسادات کے معاملے میں سریش سمیت چار بی جے پی ممبران اسمبلی پر الزامات عائد کئے گئے ہیں۔

ان کے خلاف مظفرنگر میں ایف آئی آر درج ہے۔ اس کے علاوہ بی ایس پی ممبر پارلیمنٹ قادر رانا، بی ایس پی ممبر اسمبلی سلیم رانا اور جمیل احمد سمیت کئی رہنماؤں کے خلاف فسادات بھڑکانے کا کیس درج ہے.

بھارتیہ کسان یونین کے راکیش ٹکیت بھی ان 16 لیڈروں میں شامل ہیں جن کے خلاف وارنٹ جاری کیے گئے تھے۔

ضلع میں ہونے والے فرقہ وارانہ تشدد میں 47 افراد ہلاک اور سینکڑوں لوگ بے گھر ہو گئے ہیں۔ تشدد سے متاثرہ بہت سے لوگوں کو عارضی کیمپوں میں ٹھہرایا گیا ہے۔

اسی بارے میں