’حکومت گرانے کے لیے خفیہ فنڈ سے سوا کروڑ دیے گئے‘

Image caption سابق فوجی سربراہ کے تعلقات موجودہ حکومت سے خوشگوار نہیں رہے ہیں

بھارتی اخبار انڈین ایکسپریس نے محکمہ دفاع کی ایک خفیہ رپورٹ شائع کی ہے کہ جس میں کہا گیا ہے کہ فوج کے سابق سربراہ جنرل وی کے سنگھ نے بھارت کے زیر انتطام کشمیر میں عمر عبداللہ کی حکومت کو گرانے کی کوشش کی تھی اور اس کے لیے انہوں نے خفیہ سروس کے فنڈ کا غلط استعمال کیا تھا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عمر عبدللہ کی جگہ کسی اور کو وزیر اعلیٰ بنانے کے لیے ملٹری کی خفیہ یونٹ سے سوا کروڑ روپے ان کی کابینہ کے ایک وزیر کو دیےگئے تھے۔

روزنامہ انڈین ایکسپریس کی اس رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ریٹائرڈ جنرل سنگھ نے اپنے جانشیں جنرل بکرم سنگھ کو بّری فوج کا سربراہ نہ بننے دینے کے لیے ایک غیر سرکاری تنظیم کو فنڈز فراہم کیے تھے۔ اس تنظیم نے ایک دیگر این جی او کے ذریعے جنرل بکرم سنگھ کے خلاف کشمیر میں فرضی تصادم کے ایک کیس کے سلسلے میں مفاد عامہ کی ایک درخواست داخل کی تھی۔

رپورٹ کے مطابق جنرل وی کے سنگھ نے فوج میں ایک خفیہ یونٹ تشکیل دی تھی جس نے کشمیر میں فون ٹیپ کرنے کے لیے مشینین خریدیں۔ رپورٹ کے مطابق ان مشینوں کا استعمال ملٹری کی خفیہ یونٹ نے دہلی کے اہم علاقوں میں غیر قانونی ٹیپنگ کے لیے کیا۔ اس خبر کے انکشاف کے بعد یہ مشینیں ضائع کر دی گئیں۔

اخبار نے لکھا ہے کہ وزارت دفاع کی ایک انکوائری کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں سفارش کی ہے کہ ان تمام معاملات کی جانچ سی بی آئی جیسے محکمہ دفاع کے باہر کے کسی ادارے سے کرائی جائے۔

جنرل وی کےسنگھ نے ان الزامات کو مسترد کر دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ انہیں بدنام کرنے کی ایک کوشش ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ قانونی ماہرین سے صلاح و مشورہ کے بعد تمام سوالوں کا جواب دیں گے۔

اس دوران وزارت دفاع نے اخبار کی رپورٹ کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے اسے فوج کے صدر دفتر سے ایک رپورٹ موصول ہوئی ہے۔ ’اس رپورٹ کا تعلق قومی سلامتی کے پہلوؤں سے ہے۔ حکومت اس رپورٹ کا جائزہ لینے کے بعد اس کے بارے میں کوئی فیصلہ کرے گی اور قدم اٹھائے گی۔‘

اطلاعات اور نشریات کے وزیر منیش تیواری نے ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ حکومت نے فوج کی ایک انکوائری رپورٹ کا جائزہ لیا ہے۔ ’ایک اخبار میں شائع ہونے والی اس رپورٹ کا حکومت بغور جائزہ لے رہی ہے اور اگر کسی موجودہ یا سبکدوش افسر کو کسی بے ضابطگی میں ملوث پایا گیا تو اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔‘

حکومت نے ایسے اقدامات بھی کیے ہیں جن کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ وہ حرکتیں دوبارہ کبھی نہ کی جا سکیں جن کا انکوائری رپورٹ میں الزام لگایا گیا ہے۔

جنرل وی کے سنگھ گزشتہ برس مئی میں سبکدوش ہوئے تھے۔ وہ گزشتہ ہفتے بھارتی جنتا پارٹی کے زیر اہتمام سبکدوش فوجیوں کی ایک ریلی میں نریندر مودی کے ساتھ شریک ہوئے تھے۔

بی جے پی نے الزام لگایا ہے کہ اس رپورٹ کا انکشاف سیاسی سازش معلوم ہوتی ہے۔ پارٹی کی ترجمان نرملا سیتا رمن نے کہا ’یہ رپورٹ ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب جنرل سنگھ نریندر مودی کے ساتھ ان کی ریلی میں شریک ہوئے۔‘

جنرل وی کے سنگھ اپنی سبکدوشی کے بعد بدعنوانی کے خلاف تحریک میں انا ہزارے کے ساتھ رہے ہیں اور اب نریندر مودی کی ریلی میں شرکت کے بعد ان کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ جلد ہی باضابطہ طور پر بی جے پی میں شامل ہونے والے ہیں۔

اسی بارے میں