جموں:شدت پسندوں کا حملہ، لیفٹیننٹ کرنل سمیت 8 ہلاک

Image caption حملہ آوروں نے تھانے کے بعد ایک فوجی چھاؤنی کو بھی نشانہ بنایا

بھارت کے زیر انتظام جموں و کشمیر میں ایک تھانے اور فوجی کیمپ پر شدت پسندوں کے حملے میں ایک فوجی افسر سمیت آٹھ افراد ہلاک ہوگئے ہیں جبکہ شدت پسندوں اور فوج کے مابین تصادم ابھی جاری ہے۔

بی بی سی اردو کے نامہ نگار کے مطابق جموں کے جنوبی علاقے کاٹھواہ میں ہیرا نگر پولیس سٹیشن پر سکیورٹی فورسز کی وردی میں ملبوس شدت پسندوں نے جمعرات کی صبح حملہ کیا جس میں چار پولیس اہلکاروں کے علاوہ دو عام شہری بھی مارے گئے۔

حملے بات چیت کے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتے: منموہن

پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ اس کارروائی کے بعد حملہ آور وہاں سے فرار ہو کر کاٹھواہ سے ملحقہ ضلع سامبا پہنچے جہاں انہوں نے ایک فوجی کیمپ کے قریب واقع چوکی پر حملہ کر دیا۔ اس حملے کے جواب میں فوجیوں نے بھی فائرنگ کی اور یہ تصادم آخری اطلاعات ملنے تک جاری تھا۔

اس حملے کے دوران کچھ شدت پسند فوج کے افسران کے میس یا ریستوران میں چھپ گئے تھے تاہم فوج نے اب اس عمارت کو خالی کروا لیا ہے۔

نامہ نگار ریاض مسرور کے مطابق فوجی حکام کا کہنا ہے کہ اس کارروائی میں فوج کا ایک لیفٹیننٹ کرنل اور ایک نوجوان ہلاک ہوا ہے جبکہ ذرائع کے مطابق کارروائی میں دو شدت پسند بھی مارے گئے ہیں لیکن ابھی اس کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں کی گئی ہے۔

Image caption زخمی پولیس اہلکاروں کو مقامی ہسپتال منتقل کر دیا گیا

تھانے پر حملے کی تفصیلات بتاتے ہوئے جموں رینج کے آئی جی راجیش کمار نے کہا ’جمعرات کی صبح تقریباً پونے سات بجے فوجی وردی میں ملبوس تین سے چار شدت پسندوں نے ہيرا نگر پولیس تھانے پر حملہ کیا۔ سب سے پہلے انہوں نے تھانے کے باہر موجود سپاہي کو مارا پھر اس کے بعد تھانے میں داخل ہو کر انہوں نے تین پولیس اہلکاروں کو ہلاک کر دیا۔

راجیش کمار نے بتایا کہ تھانے پر حملے کے بعد شدت پسندوں نے فرار ہوتے ہوئے ایک ٹرک پر قبضہ کیا اور اس کے کلینر کو مار کر اور ڈرائیور کے ساتھ قومی شاہراہ پر سامبا کی طرف بھاگ گئے۔

نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر ایک پولیس اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ شدت پسند تھانے کے دروازے پر ایک شہری کو ہلاک کر کے تھانے میں گھسے اور اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔

گزشتہ پانچ سال سے جموں و کشمیر میں شدت پسندی میں کمی آئی تھی لیکن اس سال پارلیمان پر حملے کے مجرم افضل گرو کی پھانسي کے بعد ایک مرتبہ پھر حملوں میں تیزی دیکھی گئی ہے۔

خیال رہے کہ یہ حملہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب لائن آف کنٹرول پر ہلاکتوں، سیز فائر معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیوں کے باوجود بھارت اور پاکستان کے وزرائے اعظم امریکہ میں اقوام متحدہ کے سالانہ اجلاس کے دوران اتوار کو ملاقات کرنے والے ہیں۔

جس علاقے میں تھانے کو نشانہ بنایا گیا ہے وہ بھی کشمیر میں پاکستان اور بھارت کو جدا کرنے والی لائن آف کنٹرول سے ایک کلومیٹر کی دُوری پر ہے۔

لائن آف کنٹرول پر دونوں ممالک کے درمیان گزشتہ کچھ عرصے کے دوران فائرنگ کے تبادلے کے متعدد واقعات پیش آئے ہیں جن میں دونوں جانب سے ہلاکتوں کے دعوے بھی کیے گئے۔

ہیرا نگر حملہ بھارتی وزیراعظم کے اُس اعلان کے صرف ایک دن بعد ہوا جس میں انہوں نے تصدیق کی تھی کہ وہ اپنے پاکستانی ہم منصب سے دوبدو ملاقات کریں گے جس کے جواب میں پاکستانی وزیراعظم نے کہا تھا کہ انہیں امید ہے کہ بات چیت وہیں سے شروع ہوگی جہاں سنہ 1999 میں ان کے گزشتہ دورِ حکومت میں ختم ہوئی تھی۔

اسی بارے میں