ووٹروں کو امیدواروں کو مسترد کرنے کا حق

بھارتی سپریم کورٹ
Image caption عدالت نے کہا ہے کہ یہ نظام اس سال ہونے والے اسمبلی انتخابات سے ہی شروع کیا جائے۔

انڈیا کی سپریم کورٹ نے رائے دہندگان کو منفی ووٹ دینے کا حق دیا ہے یعنی وہ انتخابی میدان میں اترنے والے سبھی امیدواروں کو یہ کہہ کر مسترد کر سکتے ہیں کہ وہ ان میں سے کسی کو بھی ووٹ نہیں دینا چاہتے۔

لیکن اگر رائے دہندگان کی اکثریت بھی منفی ووٹ کا استعمال کرتی ہے تب بھی الیکشن کا نتیجہ متاثر نہیں ہوگا اور سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے والے امیدوار کو منتخب قرار دیا جائے گا۔

سپیرم کورٹ کی ہدایت پر اس کے لیے الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں میں ایک نیا بٹن شامل کیا جائے جس پر لکھا ہوگا:’ ان میں سے کوئی نہیں‘۔

عدالت نے یہ حکم شہری حقوق کے لیے کام کرنے والے ادارے پی یو سی ایل کی پٹیشن پر جاری کیا ہے۔ ادارے نے سیاست سے جرائم پیشہ لوگوں کو دور رکھنے کی کوشش میں دو ہزار چار میں عدالت سے رجوع کیا تھا۔

سپریم کورٹ نے کہا کہ ووٹ دینا یا سب امیدواروں کو مسترد کرنا رائے دہندگان کا بنیادی حق ہے۔

عدالت کے مطابق بڑی تعداد میں ووٹر منفی ووٹ کا بٹن دبائیں گے تو سیاسی جماعتوں کو مجبوراً اچھے امیدواروں کو میدان میں اتارنا پڑے گا اور انجام کار اس سے انتخابی عمل میں بہتری آئے گی۔

ووٹروں کو پہلے بھی یہ حق حاصل تھا وہ کسی کو ووٹ نہ ڈالیں لیکن اس کے لیے انہیں رٹرننگ افسر سے ایک فارم لیکر بھرنا پڑتا تھا اور نہ تو عام طور پر لوگوں کو اس قانون کا علم تھا اور نہ ہی پولینگ سٹیشنوں پر یہ فارم دستیاب ہوتے تھے۔ ماہرین کے مطابق اس سے خفیہ ووٹنگ کے اصول کی خلاف ورزی بھی ہوتی تھی۔

اب ووٹنگ مشینوں پر بٹن کی موجودگی سے زیادہ بڑی تعداد میں لوگ امیدواروں کو مسترد کر سکیں گے۔

لیکن مبصرین کے مطابق یہ بڑی حد تک ایک علامتی فیصلہ ہے جس کا زمین پر زیادہ فرق نظر نہیں آئے گا۔

بھارتیہ جنتا پارٹی نے حکم کا استقبال کیا ہے لیکن اس کا کہنا ہے کہ تفصیلی فیصلے کا جائزہ لینے کے بعد ہی اس کے مضمرات کا اندازہ کیا جاسکے گا۔

عدالت نے الیکشن کمیشن کو ووٹنگ مشینوں میں تبدیلی کرنے کا حکم بھی دیا ہے لیکن ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ ملک کی پانچ اسمبلیوں میں جلدی ہی ہونے والے انتخابات سے پہلے اس فیصلے کو عملی شکل دی جاسکے گی یا نہیں۔

انتخابی اصلاحات کا مطالبہ کرنے والوں کا کہنا ہے کہ اگر کسی بھی حلقے میں پچاس فیصد سے زیادہ ووٹر منفی ووٹ کا استعمال کرتے ہیں تو اس حلقے میں دوبارہ الیکشن کرایا جانا چاہیے۔

معاملے کی سماعت کے دوران وفاقی حکومت نے اس تجویز کی مخالفت کی تھی کیونکہ اس کا موقف تھا کہ اس نئے بٹن یا آپشن کو شامل کرنے سے ووٹر کنفیوز ہو جائیں گے۔

اسی بارے میں