’میں بہت مجبور محسوس کر رہا ہوں‘

بی ایس ایف کے سپاہی ساجد
Image caption مشتعل ہجوم نے ساجد کا گھر جلا دیا

’میں سرحد پر رات آٹھ گھنٹے کھڑا رہتا ہوں، میں اس لیے ڈیوٹی کرتا ہوں تاکہ میرے ہم وطن، میرے گھر والے سکون سے سوسکیں، لیکن جب میں ہی اپنے ملک میں محفوظ نہیں ہوں تو عوام کس طرح محفوظ رہے گی‘۔

یہ بی ایس ایف کے ایک سپاہی ساجد کے الفاظ ہیں جو پندرہ دن کی چھٹیاں لے کر گھر آئے تھے اور فسادات کا شکار ہو گئے۔

آٹھ ستمبر کی شام کو ساڑھے پانچ بجے وہ اپنے اہل خانہ کے ساتھ گھر پر بیٹھے تھے کہ کسی نے انہیں بتایا کہ مسلح بھیڑ ان کے گھر کی طرف آ رہی ہے۔

ساجد اپنے اہل خانہ اور پڑوسیوں کو ساتھ لے کر کھیتوں میں چھپ گئے انہیں تلاش کیا گیا لیکن وہ کسی کو نہیں ملے۔

مشتعل ہجوم نے ان کا گھر جلا دیا۔ رات کو کھیتوں میں چھپتے چھپاتے وہ اسلام پورگاؤں پہنچے۔

یہاں سے انہوں نے کسی طرح اپنی بٹالین کو فون کیا جنہوں نے جموں آئی جی کو فون کیا۔

جموں آئی جی نے میرٹھ کے آئی جی کو فون کیا اور اس طرح پولیس کی مدد ان تک پہنچی۔

پولیس اسلام پور سے ساجد، ان کے اہل خانہ اور پڑوسیوں کو محفوظ نکال کر امدادی کیمپ میں لے آئی۔

نالہ گاؤں کے ساجد اب اپنے اہل خانہ کے ساتھ كادھلا کے ریلیف کیمپ میں رہ رہے ہیں.

ساجد جیسے ہزاروں لوگ ہیں جو فسادات کے دو ہفتے بعد بھی امدادی کیمپوں میں ہیں اور اپنے گاؤں واپس نہیں جانا چاہتے۔

موجودہ حالات پر ساجد کہتے ہیں کہ لوگوں کو آپس میں لڑایا جا رہا ہے. میرے دل پر چوٹ لگی ہے پہلے مجھے یہاں کی نظام پر یقین تھا لیکن اب لگ رہا ہے کہ سب کو ووٹوں کی خاطر آپس میں لڑایا جا رہا ہے. یہ ملک کے لیے بہت خطرناک ہے‘۔

آٹھ ستمبر کو جب مظفرنگر کے گاؤں میں تشدد پھیل رہا تھا اس وقت ہمسائیہ ضلع شاملی کے گاؤں بھی اسی آگ میں جل رہے تھے۔

ساجد کا گاؤں نالہ شاملی ضلع میں ہی پڑتا ہے۔

سرحد پر ڈٹے رہنے والے اس جوان نے اس دن موت کو انتہائی قریب سے دیکھا۔

اس بحران کی وجہ سے ساجد نے اپنی چھٹیاں ایک مہینے کے لیے بڑھوا لی ہیں۔ وہ امدادی کیمپ میں اپنے اہل خانہ کے ساتھ ہی رہ رہے ہیں.

Image caption کیا ساجد کے لیے ان حالات کو بھولنا آسان ہوگا؟

ساجد کہتے ہیں، ’ہمیں لوگوں کی جان بچانا سکھایا جاتا ہے ہماری گولی ہندو یا مسلمان میں فرق نہیں کرتی یہ فرق کی کھائی تو لیڈروں نے پیدا کر دی ہے لیکن یہ سب ہونے کے باوجود میں پوری ایمانداری سے اپنا فرض ادا کرتا رہوں گا‘۔

لیکن کیا ان کے لیے ان حالات کو بھولنا آسان ہوگا؟

بھرائی آواز میں وہ کہتے ہیں،میں بی ایس ایف کا جوان ہوں، سرحد پر ڈٹا رہتا ہوں اور یہاں میرے والد کو لائن میں لگ کر کمبل لینا پڑ رہا ہے. کسی بھی بیٹے کے لیے اپنے اہل خانہ کو ایسے حالات میں دیکھنا مشکل ہے۔ میں بہت مجبور محسوس کر رہا ہوں‘۔

ساجد چاہتے ہیں کہ ان کے گھر کو جلانے والوں کو سزا ملے۔

." وہ کہتے ہیں، ’نہ ہماری ایف آئی آر درج ہو رہی ہے اور نہ ہی انتظامیہ کوئی مدد کر رہا ہے میں نے ایف آئی آر درج کروانے کے لیے شکایت دی ہے لیکن ابھی تک مجھے رسید نہیں دی گئی ہے. جن لڑکوں نے میرا گھر جلایا ہے وہ گاؤں میں فٹ بال کھیل رہے ہیں‘۔

ساجد کو خواہ پولیس اور انتظامیہ سے شکایت ہو لیکن انہیں انصاف کے نظام پر مکمل یقین ہے۔

وہ کہتے ہیں، "اگر یہاں کارروائی نہیں ہوئی تو میں اوپر تک جاؤنگا. امید ہے میری بٹالین کے افسران میری مدد کریں گےمجھے انصاف کے نظام پر اب بھی مکمل یقین ہے اگر مجھے انصاف نہیں مل پایا تو باقی فساد متاثرین کو کس طرح ملے گا؟۔