راہول کا بیان من موہن سنگھ کے لیے سخت آزمائش

راہل گاندھی
Image caption راہول گاندھی اچانک صرف پانچ منٹ کے لیے ایک پریس کانفرنس میں پہنچے۔

بھارت میں کانگریس پارٹی کے نائب صدر اور سونیا گاندھی کے بیٹے راہول گاندھی نے آج ایک ایسا سیاسی طوفان کھڑا کردیا جو وزیر اعظم من موہن سنگھ کا سیاسی سفر ختم کرسکتا ہے۔

وہ اچانک ایک وفاقی وزیر کی پریس کانفرنس میں پہنچے اور اپنی ہی حکومت کے جاری کردہ ایک آرڈینسن کو ’بکواس‘ بتاتے ہوئے کہا کہ ’اسے پھاڑ کر پھینک دینا چاہیے‘۔

حکومت اس آرڈیننس کے ذریعے سپریم کورٹ کے اس تاریخ ساز فیصلے کا اثر ختم کرنا چاہتی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی قانون ساز کو دو سال سے زیادہ کی سزا سنائی جاتی ہے تو ان کی قانون ساز اسمبلی کی رکنیت خود بہ خود اور فوراً ختم ہو جائے گی۔

سپریم کورٹ کے اس فیصلے پر سبھی سیاسی جماعتوں کو تشویش تھی لیکن پارلیمان کے گزشتہ اجلاس میں اس سلسلے میں نیا قانون وضع کرنے کی کوششیں ناکام ثابت ہوئیں۔

پارلیمان کے اجلاس کے بعد حکومت نے آرڈیننس جاری کرنے کا فیصلہ کیا جو اب دستخط کے لیے صدر کو بھیجا جاچکا ہے لیکن حکومت کے اس فیصلے پر سخت تنقید ہوئی ہے۔ عام تاثر یہ ہے کہ وہ ایسے داغدار رہنماؤں کو بچانے کی کوشش کر رہی ہے جن کی آئندہ انتخابات میں اسے ضرورت پڑسکتی ہے۔

تجزیہ نگاروں کے مطابق آرڈیننس جاری کرنے کے فیصلے سے یہ پیغام بھی جاتا ہے کہ بدعنوان اور جرائم پیشہ لوگوں کو سیاست سے الگ کرنے میں حکومت کی کوئی دلچسپی نہیں ہے۔

اس پس منظر میں آج راہول گاندھی اچانک صرف پانچ منٹ کے لیے ایک پریس کانفرنس میں پہنچے جس سے وفاقی وزیر اجے ماکن خطاب کر رہے تھے۔

انھوں نے کہا ’جہاں تک اس آرڈیننس کا سوال ہے ، میری ذاتی رائے یہ ہے کہ یہ بالکل بکواس ہے، اسے پھاڑ کر پھینک دینا چاہیے۔ میں آپ کو بتاتا ہوں کہ ہمارے اپنی جماعت کے اندر آرڈیننس جاری کرنے کا کیا جواز پیش کیاجا رہا ہے۔ جواز یہ ہے کہ سیاسی وجوہات سے یہ ضروری ہے، یہ سب کرتے ہیں۔ لیکن اب اس بکواس کو بند کرنے کا وقت آگیا ہے۔ اگر ہم بدعنوانی ختم کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں اس طرح کے سمجھوتے بند کرنا ہوں گے‘۔

راہول گاندھی کے اس بیان کے سنگین سیاسی مضمرات ہوں گے کیونکہ یہ آرڈیننس وفاقی کابینہ نے خود وزیر اعظم من موہن سنگھ کی سربراہی میں منظور کیا تھا۔

راہول گاندھی کی جانب سے اتنے سخت الفاظ میں مخالفت کے بعد یہ بات تقریباً طے ہے کہ یہ آرڈیننس واپس لے لیا جائے گا اور ایسے میں وزیر اعظم کی پوزیشن بہت کمزور ہوجائے گی کیونکہ انہیں پارٹی کے نائب صدر کے فیصلے کے سامنے جھکنا پڑے گا۔

سیاسی جماعتوں کا کہنا ہے کہ راہول گاندھی اس وقت کہاں تھے جب پہلے مجوزہ قانون اور پھر آرڈیننس کو حتمی شکل دی جارہی تھی۔ کیا انہیں اس بات کا علم نہیں تھا کہ حکومت یہ قدم اٹھانے جا رہی ہے اور یہ کہ اب کھل کر اس کی مخالفت کر کے وہ نقصان کو کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اور وہ وفاقی وزرا جو کل تک ٹی وی چینلوں پر آرڈیننس کا جم کردفاع کر رہے تھے، اب راہول گاندھی کے بیان کی تعریف کر رہے ہیں۔

ایک امکان یہ ہے کہ شاید یہ سب ایک سوچی سمجھی حکمت عملی کا حصہ ہے جس کے تحت پارلیمانی انتخابات سے پہلے راہول گاندھی کی تاجپوشی کی تیاری کی جا رہی ہے کیونکہ بی جے پی کے لیڈر نریندر مودی اب ہر طرف چھائے ہوئے ہیں۔

یہ سب جانتے ہیں کہ من موہن سنگھ صرف اسی وقت تک وزیر اعظم رہ سکتے ہیں جب تک سونیا گاندھی چاہتی ہیں، لہٰذا ان کی قیادت کو اس طرح ایک پریس کانفرنس میں چیلنج کرنے کا مقصد فی الحال سمجھ میں نہیں آتا۔

لیکن اس سب سے زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ خود وزیر اعظم من موہن سنگھ اب کیا کریں گے؟ ان کے سامنے کیا راستے ہیں؟

من موہن سنگھ وزیر اعظم تو ہیں لیکن سیاست دان نہیں۔ اب انہیں ایک انتہائی مشکل آزمائش کا سامنا ہے۔ عہدے پر قائم رہیں یا استعفی دیدیں؟

انہیں دو ہزار چار میں سونیا گاندھی نے وزیر اعظم بنایا تھا، گزشتہ نو برسوں میں وہ کئی مشکل مراحل سے گزرے ہیں، لیکن یہ پہلی مرتبہ ہے کہ گاندھی فیملی کی طرف سے اس انداز میں ان کی اتھارٹی کو چیلنج کیا گیا ہے۔

ان کا جواب ملک کے سیاسی مستقبل کی سمت طے کرے گا۔

اسی بارے میں