’دیہاتی عورت‘ کہہ کر منموہن سنگھ کی توہین کی گئی: مودی

Image caption پاکستانی وزیر اعظم کو بھارتی وزیر اعظم کی توہین کرنے کی ہمت اس لیے ہوئی کیونکہ خود کانگریس پارٹی بھی منموہن سنگھ کی توہین کر رہی ہے: مودی

بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیڈر نریندر مودی نے کہا ہے کہ پاکستانی وزیر اعظم نے اپنے بھارتی ہم منصب کو ’دیہاتی عورت‘ کہہ کر بھارت کی توہین کی ہے۔ اور بھارتی عوام یہ توہین برداشت نہیں کرے گی۔

دہلی میں ایک بڑے انتخابی جلسے سے تقریباً ڈیڑھ گھنٹے کے خطاب کے دوران نریندر مودی نے پاکستان سے تعلقات اور نواز شریف سے آج شام امریکہ میں مسٹر منموہن سنگھ کی مجوزہ ملاقات پر تفصیل سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مسٹر نواز شریف بھارتی وزیر اعظم کی توہین اس لیے کرسکے کیونکہ ملک میں خود کانگریس پارٹی مسٹر سنگھ کی توہین کر رہی ہے۔

خبروں کے مطابق مسٹر نواز شریف نے ہندوستانی اور پاکستانی صحافیوں سے ’آف ریکارڈ‘ بات چیت کے دوران مبینہ طور پر کہا تھا کہ جب مسٹر منموہن سنگھ نےصدر براک اوباما سے ملاقات کے دوران پاکستان کی شکایت کی تو یہ بات ایسے ہی تھی جیسے کوئی دیہاتی عورت اپنے ذاتی اختلافات میں دوسرے لوگوں کو شامل کرلیتی ہے۔

یہ بات سینئر پاکستانی صحافی حامد میر نے ’لیک‘ کی لیکن اس ملاقات میں موجود این ڈی ٹی وی کی ایڈیٹر برکھا دت کا کہنا ہے کہ نواز شریف نے یہ بات اس انداز اور سیاق و سباق میں نہیں کہی تھی جس میں اب یہ پیش کی جا رہی ہے اور یہ کہ یہ بات مذاق میں کہی گئی تھی۔

نریندر مودی نے پاکستان کے ساتھ سخت موقف اختیار کرنے کی وکالت کی اور خود اپنی تقریر میں کافی سخت زبان استعمال کی۔ انہوں نے کہا کہ ’ہمیں شک ہے کہ جب آپ ( منموہن سنگھ) نواز شریف سے ملیں گے تو آپ ان سے یہ نہیں پوچھ پائیں گے کہ پاکستان مقبوضہ کشمیر ہمیں کب واپس ملے گا۔۔۔’ اور یہ کہ آپ کچھ اور لائیں یا نہ لائیں ’ان جوانوں کے سر ضرور لے آئیے گا جو پاکستانی فوجی کاٹ کر اپنے ساتھ لے گئے تھے۔‘

وزارت عظمی کے لیے بی جے پی کا امیدوار بنائے جانے کے بعد سے دلی میں مسٹر مودی پہلی مرتبہ کسی جلسے سے خطاب کررہے تھے۔ اپنی تقریر میں انہوں نے کانگریس کے نائب صدر اور سونیا گاندھی کے بیٹے راہول گاندھی کو بھی جم کر نشانہ بنایا اور کہا کہ وہ دلی میں خود اپنی ایک الگ حکومت چلا رہے ہیں۔

راہول گاندھی نے جمعہ کو ملک میں اس وقت ایکسیاسی طوفان کھڑا کر دیا تھا جب انہوں نے وفاقی کابینہ کے منظور کردہ ایک متنازع آرڈیننس کو ’بکواس‘ بتاتے ہوئے کہا کہ اسے پھاڑ کر پھینک دینا چاہیے۔ تب سے ہی بی جے پی یہ مطالبہ کررہی ہے کہ راہول گاندھی نے وزیر اعظم کی اتھارٹی کو زک پہنچائی ہے او رمسٹر سنگھ کو فوراً مستعفی ہوجانا چاہیے۔

بھارتیہ جنتا پارٹی سرحد پر حالیہ کشیدگی کے پس منظر میں پاکستان سے مذاکرات کے خلاف ہےاور اس ہفتے جموں میں فوج کے ایک کیمپ اور پولیس سٹیشن پر حملے کے بعد اس نے مطالبہ کیا تھا کہ مسٹر سنگھ کو نواز شریف سے اپنی ملاقات منسوخ کر دینی چاہیے۔

انھوں نے بھارتی وزیر اعظم کے امریکی دورے پر تبصرہ کرتے ہوئے ان پر ملک کی غربت کی مارکیٹنگ کرنے کا الزام لگایا۔

ان کا کہنا تھا: ’امریکہ کے صدر اوباما کے سامنے 125 کروڑ آبادی والے ملک کے وزیر اعظم گڑگڑاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ میں غریب ملک کا وزیر اعظم ہوں۔‘

انھوں نے حکومت پر بد عنوانی کا الزام لگایا اور کامن ویلتھ گیمز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’دس سال سے یہ ملک یو پی اے کو برداشت کر رہا ہے۔ دہلی میں ہم نے ڈرٹی ٹیم کے کارنامے دیکھے ہیں۔ دیش کو ڈریم ٹیم چاہیے نہ کہ ڈرٹی ٹیم۔‘

کامن ویلتھ کھیلوں میں مبینہ گھپلے پر انھوں نے کہا: ’جنوبی کوریا ترقی پذیر ملک تھا لیکن جب انہیں اولمپک کے انعقاد کا موقع ملا تو انہوں نے دنیا کو دکھا دیا۔ چین میں اولمپک ہوا تو چین نے اپنی برانڈنگ کی۔ہمیں اچھا موقع ملا تھا ، جسے ہم نے گنوا دیا۔ مالی خزانے پر ہی نہیں، بلکہ یہ ہندوستان کے مستقبل پر ڈاکہ ہے، ہندوستان کی عزت کو لوٹ لیا ہے۔‘

مودی نے یہ بھی کہا کہ کچھ سال بعد ملک کی آزادی کی 75 ویں سالگرہ منائی جائے گی۔ انہوں نے لوگوں سے پوچھا، ’ہمیں طے کرنا ہے کہ ہم ملک کو امرت فیسٹیول (یعنی پلیٹیمنم جوبلی) تک پہنچتے پہنچتے کہاں سے کہاں تک لے جانا چاہتے ہیں۔‘

اسی بارے میں