سزایافتہ سیاستدانوں کو بچانے کا آرڈینینس رد

راہول گاندھی
Image caption 29 ستمبر کو راہول گاندھی نے اچانک ایک پریس کانفرنس میں آکر اسے ’نامعقول دستاویز‘ قرار دیا تھا

بھارت کی حکومت نے مجرمانہ معاملات میں اسمبلی اور پارلیمان کے سزا یافتہ ارکان کو سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے تک ارکان بنے رہنے دینے اور انتخاب لڑنے کا مجاز ہونے سے متعلق آرڈیننس واپس لے لیا ہے ۔

حکومت نے یہ فیصلہ گذشتہ ہفتے راہل گاندھی کی مخالفت کے بعد کیا ہے۔

وزیر اعظم کی صدارت میں دلی میں کابینہ کے ایک خصوصی اجلاس میں اس آرڈینینس سے پیدہ ہونے والے تنازعات اور اس کے بارے میں صدر مملکت کے تحفظات پر غور کیا گیا۔ اجلاس کے بعد نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے مرکزی وزیر منیش تیواری نے کہا: ’یہ آرڈینینس اور پارلیمنٹ میں اس سے متعلق پیش کیا گیا بل دونوں واپس لے لیے گئے ہیں۔‘

دلی میں نامہ نگار شکیل اختر کا کہنا ہے کہ دس جولائی کو سپریم کورٹ نے اپنے اہم فیصلے میں حکم دیا تھا کہ مجرمانہ معاملات میں سزا پانے والے ارکان پارلیمان اور اسمبلی کی رکنیت کسی بھی عدالت میں سزا کا فیصلہ آتے ہی ختم ہو جائے گی اور ایسے ارکان آئندہ چھ برس تک انتخاب لڑنے کے بھی مجاز نہیں ہوں گے۔

حکومت نے سپریم کورٹ کے اس فیصلے کو کالعدم کرنے کے لیے پارلیمنٹ میں ایک بل بھی پیش کیا تھا لیکن اسے مزید غور و خوض کے لیے قائمہ کمیٹی کے پاس بھیج دیا گیا۔ بعد میں حکومت نے تمام جماعتوں کے اتفاق سے ایک آرڈینینس جاری کیا تھا تاکہ وہ فوری طور پر سپریم کورٹ کے فیصلے پر روک لگا سکے۔

لیکن صدر مملکت نے اس آرڈینینس کے بارے میں بعض تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ سزا یافتہ افراد کو بچانے کی کوشش کے لیے میڈیا میں حکومت کی شدید نکتہ چینی کی گئی تھی۔

اس سے قبل عوامی نمائندگی کے قانون کے تحت جب تک سپریم کورٹ سے حتمی فیصلہ نہیں آ جاتا، تب تک ارکان کی رکنیت پر کوئی اثر نہیں پڑتا تھا اور وہ انتخاب بھی لڑنے کے اہل تھے۔

قانون میں اس لچک کے سبب پارلیمنٹ اور ریاستی اسمبلیوں میں سینکڑوں ایسے ارکان موجود ہیں جنہیں ذیلی عدالتوں سے سزائیں سنائی جا چکی ہیں اور ان کی اپیلیں ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہیں۔

گذشتہ ہفتے حکمراں کانگریس کے نائب صدر راہل گاندھی نے ایک اخباری کانفرنس میں انتہائی ڈرامائی انداز میں خود اپنی حکومت کے آرڈیننس کو ایک ’نامعقول دستاویز‘ قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ ’اسے پھاڑ کر ردی کی ٹوکری میں ڈال دینا چاہیے۔‘

راہل گاندھی کی مخالفت کے بعد ان کی جماعت اور حکومت نے اس آرڈینینس کو واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے ۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس آرڈینینس سے بھارت کی سیاست اور معاشرے کو پہنچنے والے نقصان کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ کل یعنی منگل کو کانگریس کے ایک سینیئر رہنما اور موجودہ رکن پارلیمان رشید مسعود کو بدعنوانی کے جرم میں چار برس کی سزا ہونے کے فوراً بعد انہیں جیل بھیج دیا گیا ہے۔ آرڈینینس کے نفاذ کی صورت میں وہ رکن بھی بنے رہتے اور انہیں انتخاب لڑنے کا بھی حق ہوتا۔

جمعرات کو یہی صورتحال لالو پرساد یادو کے ساتھ پیش آنے والی ہے۔ انہیں بدعنوانی کے ایک مقدمے میں کل سزا ہونے والی ہے اور سزا ملتے ہی پارلیمنٹ کی ان کی رکنیت ختم ہو جائے گی اور وہ چھ برس تک انتخاب لڑنے کے بھی مجاز نہیں ہوں گے۔

اسی بارے میں