’کہیں میرا حال بھی ملالہ جیسا نہ ہو‘

Image caption مریم تین ماہ کے فیشن ڈیزائننگ کورس کے لیے بھارت میں ہیں وہ اپنے ملک افغانستان واپسی پر اسے وہاں کی لڑکیوں کو سکھانا چاہتی ہیں

افغانستان سے تعلق رکھنے والی مریم ان دنوں بھارت میں فیشن ڈیزائننگ سیکھ رہی ہیں۔ ان کا یہ پیشہ ورانہ کورس تین ماہ پر محیط ہے اور جلد ہی مریم اپنا کورس مکمل کرنے والی ہیں۔

مریم کو جہاں اپنے کورس مکمل کرکے گھر لوٹنے کی خوشی ہے وہیں انہیں ایک خوف بھی ہے۔ انھیں اپنے ملک میں واپسی پر طالبان کا خوف ہے۔

بی بی سی ہندی کی دیپتی کرکی سے بات چیت کے دوران انھوں نے اپنے خدشات ظاہر کرتے ہوئے بتایا کہ طالبان ان کے اہل خانہ کو دھمکیاں دے رہے ہیں۔

مریم نے کہا ’میرے بھارت آنے کے بارے میں میرے اہل خانہ کے علاوہ اور کوئی نہیں جانتا تھا۔ نہ جانے طالبان کو میری بھارت آمد کا کس طرح علم ہو گیا اور اب وہ میرے گھر والوں کو دھمکیاں دے رہے ہیں‘۔

’طالبان کہتے ہیں کہ اگر میں واپس نہیں گئي تو وہ میرے بھائیوں کے ساتھ برا سلوک کریں گے۔ وہ اس بات پر نالاں ہیں کہ میرے اہل خانہ نے مجھے بھارت آنے کی اجازت کیوں دی ہےاور میرا خاندان مجھے پڑھنے کی اجازت کیوں دے رہا ہے‘؟

مریم نے مذید کہا ’میں اس بات سے بہت خوفزدہ ہوں۔ مجھے طالبان کی دھمکیوں سے ڈر لگتا ہے۔ مجھے خدشہ ہے کہ جو سلوک ان لوگوں نے ملالہ یوسف زئی کے ساتھ کیا تھا کہیں میرے ساتھ بھی کچھ ویسا ہی نہ کر گزریں‘۔

انھوں نے کہا کہ وہ اس خوف کی وجہ سے بھارت میں تو نہیں رہ سکتیں ’آخر مجھے گھر تو واپس جانا ہی ہے۔‘

مریم کہتی ہیں کہ ان کےاہل خانہ کو طویل عرصے سے طالبان کی جانب سے دھمکیاں مل رہی ہیں۔

وہ کہتی ہیں ’ہم ہر چھ ماہ میں نقل مکانی پر مجبور ہیں تاکہ طالبان کو ہمارے بارے میں علم نہ ہو لیکن پھر بھی وہ ہمارے بارے میں کہیں نہ کہیں سے پتہ لگا لیتے ہیں‘

ان کے اہل خانہ طالبان کے نشانے پر کیوں ہیں اس سوال کے جواب میں مریم نے کہا’میرے والد افغان حکومت کی وزارت دفاع میں کام کرتے تھے۔ دو بار سرکاری کام کے سلسلے میں وہ امریکہ گئے تھے۔ وہ گوانتاناموبے بھی گئے تھے۔ طالبان چاہتے ہیں کہ گوانتاناموبے میں قید ان کے ساتھیوں کے بارے میں میرے والد کے پاس جو بھی معلومات ہے وہ انھیں فراہم کردی جائيں‘۔

انھوں نے کہا ’طالبان میرے والد پر ہر طرف سے دباؤ ڈال رہے تھے۔ میرے والد نے واضح انداز میں بتا دیا تھا کہ ان کے پاس طالبان کو دینے کے لیے کوئی معلومات نہیں ہے لیکن طالبان نہیں مانے۔ میرے والد کی موت ایک بم دھماکے میں ہوئی۔ اب طالبان ہمیں بھی پریشان کر رہے ہیں۔ وہ ہم سے بھی وہی معلومات مانگتے رہتے ہیں۔ وہ ہم سے کہتے ہیں کہ اگر ہمارے پاس اس علاقے کا کوئی نقشہ یا تصاویر ہیں تو ہم انھیں دے دیں لیکن ہمارے پاس طالبان کو دینے کے لیے کوئی معلومات ہے ہی نہیں‘۔

طالبان کے خطرے کے باعث اپنے مستقبل کے بارے میں مریم نے کہا کہ گریجویشن کے بعد وہ ایک ٹیچر بننا چاہتی ہیں۔

Image caption اطلاعات کے مطابق اس کورس میں شامل زیادہ تر طلبہ کے اہل خانہ طالبان کے حملے کا شکار ہوئے ہیں

انھوں نے کہا’افغانستان جا کر میں اپنے جیسی لڑکیوں کی مدد کرنا چاہتی ہوں۔ میں بھارت میں فیشن ڈیزائننگ کا جو ہنر سیکھ رہی ہوں اسے اپنے ملک جا کر وہاں کی لڑکیوں کو سكھاؤں گي تاکہ وہ خود کفیل ہو سکیں‘۔

طالبان سے لڑنے کی ہمت کے بارے میں کیے گئے سوال کے جواب میں مریم نے کہا ’جب میں آئے دن اخباروں میں یہ پڑھتی ہوں کہ طالبان افغان خواتین پر کتنا ظلم ڈھا رہے ہیں تو مجھے بہت غصہ آتا ہے۔ حال ہی میں میں نے پڑھا کہ کس طرح ایک سکول جانے والی لڑکی کو طالبان نے پتھروں سے مار ڈالا۔ ہم کب تک طالبان کی یہ زیادتیاں برداشت کرتے رہیں گے۔ جب بھی میں ایسا کچھ دیکھتی ہوں تو میرے اندر طالبان سے لڑنے کی ہمت میں اور بھی اضافہ ہو جاتا ہے‘۔

اسی بارے میں