لالو کی سیاست کا خاتمہ؟

Image caption لالو پرساد پہلی بار 1977 میں پارلیمانی انتخاب میں کامیاب ہوئے تھے

لالو پرساد یادو کو بدعنوانی کے معاملے میں پانچ سال قید با مشقت کی سزا ہونے کے بعد ان کے سیاسی مستقبل کے بارے میں سوالات پیدا ہو گئے ہیں۔

ان کی سیاسی جماعت راشٹریہ جنتا دل کے وجود کو بھی مشکلات کا سامنا ہے۔

سزا پانے کے بعد لالو کئی برس تک جیل میں ہوں گے اور اگر وہ ضمانت پر رہا بھی ہو گئے تو بھی وہ انتخاب لڑنے کے اہل نہیں ہوں گے۔ وہ اپنی علاقائی جماعت کا محور ہیں اور پارٹی کی کمان کسی کے بھی ہاتھ میں ہو وفاداری ان ہی کے نام سے ہو گی۔

لالو کی جماعت راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) اس وقت ایک بحران سے گزر رہی ہے۔ اس بحران پر غور کرنے کے لیے اتوار کو پارٹی کا ایک ہنگامی اجلاس طلب کیاگیا ہے۔

پارٹی میں کئی قومی سطح کے رہنما موجود ہیں اور ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ پارٹی کی قیادت رگھونش پرساد سنگھ یا پربھوناتھ سنگھ جیسے بڑے رہنماؤں کو دی جائے گی یا ماضی کی طرح اس بار بھی لالو کے کوئی رشتے دار پارٹی کی کمان اپنے ہاتھ میں لیں گے۔

لالو نے حال ہی میں اپنے نوجوان کرکٹر بیٹے تیجسوی یادو کو سیاست میں متعارف کرایا تھا۔ ان کے سیاست میں آنے سے یہی نتیجہ اخذ کیا جا رہا تھا کہ وہ رفتہ رفتہ لالو کے جانشیں بنیں گے۔

چھ مہینے بعد ملک میں پارلیمانی انتخاب ہونے والے ہیں اور اس طرح کے اشارے مل رہے ہیں کہ بہار میں لالو کی جماعت کو کچھ حد تک دوبارہ مقبولیت حاصل ہو رہی ہے۔ پارٹی کے مستقبل کے لیے یہ ایک مثبت پہلو ہے۔ انتخابی امکانات کے سبب ان کی پارٹی کے منتشر ہونے کا فوری خطرہ نہیں ہو گا۔

لالو کو اگر ضمانت نہ مل سکی یا دیر سے ملتی ہے تو ان کی جماعت کو یہ انتخاب ان کے بغیر لڑنا ہو گا۔ بہار میں پارلیمنٹ کی 40 سیٹیں ہیں۔ بی جے پی اور کانگریس دونوں بڑی جماعتوں میں سے کسی کو بھی مرکز میں واضح اکثریت ملنے کی امید نہیں ہے۔ ان حالات میں ہر سیٹ انتہائی اہم ہو گی۔

لالو بھارتی طرز کے آخری سوشلسٹ رہنما ہیں۔ ان کا شمار ان چند رہنماؤں میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنے سیاسی نظریات کے تحت بی جے پی کے ساتھ کبھی کوئی سمجھوتہ نہیں کیا۔ اپنی اس ثابت قدمی کے سبب انہیں صرف بہار ہی نہیں پورے ملک کے مسلمانوں اور عیسائی مذہبی اقلیتوں میں مقبولیت اور عزت حاصل رہی ہے۔

Image caption لالو یادو سات سال بہار کے وزیر اعلی رہنے کے علاوہ وزیر ریل بھی رہ چکے ہیں

یہ توقع کی جا رہی ہے کہ کانگریس بہار میں لالو کی جماعت یا پھر وزیر اعلی نتیش کمار کی جماعت سے انتخابی معاہدہ کرے گی۔ سزایافتہ سیاستدانوں کو بچانے کا آرڈینینس واپس لینے سے کانگریس نے ابھی تک یہی اشارہ کیا ہے کہ وہ نتیش کمار کی جماعت جنتا دل کے ساتھ جا سکتی ہے۔ حالانکہ کانگریس میں بیشتر رہنما لالو کو سزا سنائے جانے کے باوجود ان کے ساتھ اتحاد کے حق میں ہیں۔ ریاست بہار کانگریس کے لیے بھی ایک چیلنج بنی ہوئی ہے۔

لالو کے سیاسی مستقبل کا بہت حد تک دارو مدار اس پہلو پر ہوگا کہ ان کی جماعت کو پارلیمانی انتخابات میں کتنی سیٹیں ملتی ہیں۔ اس کا انحصار اس پر بھی ہوگا کہ مرکز میں جو جماعت یا اتحاد اقتدار میں آتا ہے لالو کی جماعت سے اس کے کیا رشتے ہیں۔ مرکز میں بی جے کی زیر قیادت حکومت کی تشکیل بھی آر جے ڈی میں انتشار کا سبب بن سکتی ہے۔

لالو نے اپنی 40 سالہ سیاسی زندگی میں بہت سے نشیب وفراز دیکھے ہیں لیکن لالو پرساد یادو کا سیاسی مستقبل پہلی بار بے یقینی کے بھنور میں پھنسا ہے۔ بہرحال لالو ایک انتہائی تجربہ کار سیاست داں ہیں۔ وہ مشکلوں سے پہلے بھی کئی بار نکلے ہیں۔

اسی بارے میں