کیرن سیکٹر میں سات دراندازوں کی ہلاکت کا دعویٰ

Image caption کیرن سیکٹر میں گزشتہ بارہ دن سے جھڑپیں جاری ہیں

بھارت کے زیرِانتظام کشمیر میں فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ لائن آف کنٹرول کے قریب کیرن سیکٹر میں جس مقام پر بارہ روز سے جنگی نوعیت کا طویل تصادم جاری ہے، اس کے قریبی علاقوں میں سات مسلح دراندازوں کو ہلاک کردیا گیا ہے۔

جموں میں تعینات بھارتی فوج کی شمالی کمان کے ترجمان کرنل راکیش کالیا نے بی بی سی کو بتایا کہ ’پہلا تصادم جمعے کو گوجر ڈھوک میں ہوا جس میں تین دراندازوں کو مارا گیا، دوسری جھڑپ سنیچر کی صبح فتح گلی میں ہوئی جس میں چار درانداز مارے گئے۔ ہم نے بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولی بارود برآمد کیا ہے۔ فوجی ترجمان نے ہلاک ہونے والے افراد کی شناخت یا لاشوں کے بارے میں تفصیلات نہیں دیں۔

کیرن سیکٹر میں اب تک کے اس طویل ترین محاصرے کے بارے میں فوج نے وضاحت کے ساتھ تفصیلات جاری نہِیں کی ہیں جس کی وجہ سے اس آپریشن سے متعلق مختلف خبریں گردش کر رہی ہیں۔ بھارتی میڈیا اس امکان کو خوب اُچھال رہا ہے کہ پندرہ سال قبل کارگل کی پہاڑیوں پر لڑی گئی جنگ اس بار شمالی کشمیر کے کپواڑہ ضلع میں لڑی جائے گی۔

فوج نے چوبیس ستمبر کو شالہ بھٹھو کے قریب بارہ دراندازوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا تھا، تاہم ان کی لاشوں کا کوئی پتہ نہیں ہے۔ سرینگر میں تعینات بھارتی فوج کی پندرہویں کور کے سربراہ لیفٹننٹ جنرل گورمیت سنگھ نے بتایا: ’میرے لیے یہ معنی رکھتا ہے کہ ہم نے کتنے حملہ آوروں کو مار گرایا۔ آپریشن کے دوران لاش برآمد کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔‘

اس بارہ روزہ تصادم کے بارے میں بھارتی سکیورٹی اداروں کے معتبر ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ گزشتہ ماہ شمالی کشمیر کے کیرن سیکٹر میں بھارتی فوج کی ایک یونٹ کے تبادلے کے دوران نئی یونٹ نے کلہاڑی پوسٹ، کھوکری پوسٹ اور مٹھل ٹاپ پر کوئی مورچہ نہیں بنایا۔ سکیورٹی انتظامیہ سے وابستہ ایک افسر نے بتایا کہ ’ہوسکتا ہے انہیں بھول گیا یا رابطے میں کوئی گڑبڑ ہوگئی اور مسلح دراندازوں نے اس کا فائدہ اُٹھایا‘۔

خفیہ ایجنسیوں کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستانی علاقے سے مسلح افراد نے لائن آف کنٹرول عبور کر کے شالہ بھٹ نامی ایک غیرآباد گاؤں پر قبضہ کرلیا اور ان تینوں پوسٹوں کے قریب مورچہ بندی کرلی۔ ذرائع کے مطابق یہ سب کچھ ستمبر کے پہلے دو ہفتوں کے دوران ہوا۔

فوج کو اس بات کی خفیہ اطلاع بیس ستمبر کو ملی تو اکیس ستمبر کو سرینگر میں تعینات فوجی کمانڈر لیفٹنٹ جنرل گورمیت سنگھ نے شمالی کشمیر کی تمام فوجی یونٹوں کے سربراہوں کا اجلاس طلب کیا۔ بائیس ستمبر کو شالہ بھٹھو گاؤں اور اس سے ملحقہ مقبوضہ پوسٹوں کو خالی کرانے کے لیے وسیع آپریشن شروع کیا گیا، جو اب بھی جاری ہے۔ اس آپریشن کے دوران بعض فوجی اہلکاروں کے زخمی ہونے کی بھی اطلاع ہے تاہم فوج نے اس کی تصدیق نہیں کی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس مقام پر بھارتی فوج لائن آف کنٹرول کی خاردار تاروں کو ڈیڑھ کلومیٹر پیچھے لے آئی تھی۔ فی الوقت یہ تصادم کیرن سیکٹر کے غیرآباد گاؤں شالہ بھٹ کے قریب ہو رہا ہے۔ اس گاؤں کی دوسری جانب پاکستانی فوج کی چھ سو چھیالیس نمبر کی ’مجاہدین پوسٹ‘ واقع ہے۔

واضح رہے کہ شالہ بھٹھو گاؤں کے تمام باشندے اُنیس سو نواسی میں مسلح شورش شروع ہوتے ہی ہجرت کر کے پاکستانی زیر انتظام کشمیر چلے گئے تھے۔ اب یہ گاؤں ویران ہے۔ یہ علاقہ سطح سمندر سے گیارہ ہزار فٹ کی بلندی پر واقع ہے اور یہاں دس فٹ اونچی جھاڑیاں اور دیوہیکل چٹانیں ہیں۔ ایک اعلٰی پولیس افسر نے بتایا کہ یہ علاقہ گوریلا جنگ کے لیے موزوں ہے۔

تاہم پاکستان نے بھارت کے اس الزام کو مسترد کیا ہے کہ اس نے بھارتی کنٹرول والے علاقے میں دراندازی کر کے کسی علاقہ پر قبضہ کرلیا ہے۔