سنت آسارام کے خلاف ریپ کے مزید الزامات

Image caption آسارام باپو ایک نابالغ لڑکے کے ساتھ مبینہ جنسی تشدد کے الزام میں پولیس کی تحویل میں ہیں

بھارت میں مذہبی گرو آسام رام باپو کے خلاف ایک نابالغ لڑکی سے جنسی زیادتی کے الزام اور جیل جانے کے بعد ان کے خلاف ریپ کے مزید الزامات سامنے آئے ہیں۔

بھارت کی مغربی ریاست راجستھان کے جودھپور آشرم میں جنسی زیادتی کے ایک الزام کے بعد اب آسارام اور ان کے بیٹے نارائن سائیں پر ریاست گجرات کے معروف شہر سورت میں جنسی زیادتی کا نیا کیس درج ہوا ہے۔

سورت کے مقامی صحافی انکر جین نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ یہ تازہ کیس دو سگی بہنوں نے درج کرایا ہے۔

انھوں نے کہا: ’سورت کے جہانگیر پورہ تھانے میں درج کرائی گئی ایف آئی آر کے مطابق آسا رام باپو نے بڑی بہن جبکہ ان کے بیٹے نارائن سائیں نے چھوٹی بہن سے جنسی زیادتی کی۔‘

پولیس کے مطابق اس ایف آئی آر میں آسارام کی بیوی اور بیٹی کے نام بھی شامل ہیں۔

ایف آئی آر میں یہ الزام لگایا گیا ہے کہ ہندو مذہبی گرو آسا رام کے آشرم میں ان دونوں بہنوں کو آیورویدک (جڑی بوٹیوں سے یونانی قسم کی) دوائیں بنانے کا کام دیا گیا تھا جہاں ان کا جنسی استحصال کیا جاتا رہا۔ دونوں بہنوں کی اب شادی ہو چکی ہے۔

بڑی بہن کے مطابق آسارام نے احمد آباد کے موٹیرا آشرم میں 2001 سے 2007 کے درمیان انہیں کئی بار ریپ کیا۔

چھوٹی بہن کی شکایت کے مطابق آسارام کے بیٹے نارائن سائیں نے سورت کے جہانگیر پورہ آشرم کے علاوہ سابركانٹھا ضلع کے گانبھوئي آشرم، بہار کے پٹنہ آشرم، نیپال کے کھٹمنڈو آشرم اور مدھیہ پردیش کے میگھ نگر آشرم میں ان کا ریپ کیا۔

ایف آئی آر کے مطابق چھوٹی بہن 2002 سے 2004 تک آشرم میں سادھوی (روحانی طالبہ) رہیں۔ چھوٹی بہن کو تھوڑے عرصے کے لیے آسارام کے ہمت نگر آشرم کی منتظمہ بھی بنایا گیا تھاجبکہ بڑی بہن آسارام کے آیورویدک دوائیں بنانے کے کارخانے میں دوا بنانے میں مدد کرتی تھیں۔

دونوں بہنوں کا الزام ہے کہ انہوں نے جب ان کے جبرو ظلم کی مخالفت کی تو انہیں پریشان کیا گیا اور بعد میں چوری کے جھوٹے الزام لگا کر انھیں آشرم سے نکال دیا گیا۔

Image caption ان الزامات کے سامنے آنے کے بعد بھارت میں کئی جگہ ان کے خلاف مظاہرے بھی ہوئے

بڑی بہن تقریبا دس سال تک آسارام کے آشرم میں سادھنا یا عبادت میں مشغول رہیں لیکن 2007 میں انہوں نے آشرم چھوڑ دیا۔

سورت کے پولیس کمشنر راکیش ستھانہ نے آسارام اور ان کے بیٹے نارائن سائیں کے خلاف مقدمہ درج ہونے کی تصدیق کی ہے۔

بی بی سی سے بات چیت میں استھانہ نے کہا: ’نارائن سائیں کے خلاف سورت پولیس تفتیش شروع کر چکی ہے۔ آسارام کے خلاف درج ایف آئی آر کو احمد آباد پولیس کے لیے روانہ کیا جارہا ہے کیونکہ جرم احمد آباد میں ہوا ہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ پولیس جلد ہی نارائن سائیں کا بیان ریکارڈ کرے گی۔

رپورٹ کے مطابق یہ معاملہ 2002 سے 2004 کے درمیان پیش آیا۔ پولیس کو خدشہ ہے کہ جس دوران ان دونوں بہنوں کا جنسی استحصال ہوا ہو گا، اس وقت ان میں سے ایک بہن نابالغ رہی ہوگی۔

اسی بارے میں