چھتیس گڑھ میں ہاتھی اور شہری ’مدِمقابل‘

Image caption ہاتھیوں اور مقامی کسانوں کے درمیان گذشتہ دس برسوں سے کشمکش جاری ہے

کیسا محسوس ہوتا ہے جب گھروں میں ہاتھیوں کے گھسنے کا خطرہ ہر وقت منڈلاتا ہو؟ یہ بھارت کی وسطی ریاست چھتیس گڑھ کے دھرم جے گڑھ کے دیہی علاقوں کے باشندوں سے بہتر کون بتا سکتا ہے۔

گذشتہ دس سالوں سے اس علاقے میں 150 ہاتھیوں کا جھنڈ کھلے عام گھوم رہا ہے اور گذشتہ دس برسوں سے ہی یہاں کے رہنے والوں اور ہاتھیوں کے درمیان جدوجہد جاری ہے۔

انسان اور جانور کے درمیان اس کشمکش میں اب تک 62 افراد مارے جا چکے ہیں جب کہ 23 ہاتھیوں کو بھی اپنی جان گنوانی پڑی ہے۔

اگر ہاتھیوں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے تو وہاں کے باشندوں کے برداشت کی حد بھی ختم ہو چکی ہے۔ اسی لیے شاید اب وہاں کے باشندوں نے ہاتھیوں کے خلاف محاذ تیار کر لیا ہے۔

ہاتھیوں کے آئے دن حملوں سے تنگ آ کر اب وہاں کے دیہی علاقوں کے لوگوں نے محکمۂ جنگلات کو خبردار کیا ہے کہ اگر اسی طرح ان کی جان اور مال کا نقصان ہوتا رہا تو وہ اس علاقے میں گھومنے والے تمام ہاتھیوں سے خود ہی نمٹنے کے لیے مجبور ہو جائیں گے۔

اس جدوجہد میں جان گنوانے والے افراد کے لواحقین کے لیے معاوضے اور یہاں کے باشندوں کے تحفظ اور سلامتی کے سوال پرگاؤں والے مستقل طور پر سرگرم ہیں۔

یہاں کے رہنے والوں کا کہنا ہے کہ اس علاقے میں حالات روز بروز بد سے بدتر ہوتے جا رہے ہیں یہاں تک کہ ہاتھیوں کے جھنڈ اب شہر میں گھس کر نقصان پہنچا رہے ہیں۔

Image caption کسانوں کا کہنا ہے کہ ہاتھی ان کے مکان تباہ کر دیتے ہیں لیکن محکمۂ جنگلات معاوضہ ادا نہیں کرتا

گذشتہ دو ماہ کے دوران بائیسي اور اس سے ملحقہ علاقوں جیسے ساگرپور، آم پلّي اور اونگنا میں ہاتھیوں نے تیس سے زیادہ مکانوں کو توڑ پھوڑ دیا ہے اور اس کے ساتھ ہی اس پورے علاقے میں فصلوں کو بھی نقصان پہنچایا ہے۔

اسی علاقے سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون پارول بیراگي نے بتایا کہ کس طرح ان کا خاندان رات کو سو رہا تھا کہ اچانک ہاتھیوں کے جھنڈ نے ان کے گھر کو توڑ ڈالا۔ اہل خانہ نے کسی طرح جان تو بچا لی۔ مگر گھر پوری طرح سے ٹوٹ پھوٹ گیا ہے۔ پارول کا کہنا ہے کہ اتنے نقصان کے باوجود محکمۂ جنگلات نے انہیں معاوضے کے طور پر ایک پھوٹی کوڑی تک نہیں دی۔

دوسرے بعض کسانوں نے بتایا کہ بعض معاملات میں محکمۂ جنگلات نے معاوضہ دیا ہے لیکن نقصان کے مقابلے معاوضہ انتہائی کم تھا۔

دھرم جےگڑھ کے فارسٹ آفیسر آر سی اگروال نے بی بی سی کوبتایا کہ مرنے والے پر منحصر افراد کو حکومت دو لاکھ کا معاوضہ دیتی ہے ساتھ ہی جن کی کاشت کو نقصان پہنچتا ہے انہیں فصل اور زمین کے حساب سے معاوضہ دیا جاتا ہے۔

اطلاعات کے مطابق اس علاقے کے زیادہ تر لوگ بنگلہ دیشی پناہ گزین ہیں جنہیں حکومتِ ہند نے یہاں بسایا تھا اور یہ تمام باشندے پوری طرح سے کاشتکاری پر تکیہ کرتے ہیں۔ ہاتھیوں کے حملے فصل کی کٹائی کے وقت بڑھ جاتے ہیں۔

چھتیس گڑھ بنگ (بنگال) نوجوان کمیٹی کے سجل مدھو نے بتایا کہ کہ فصلوں کو ہونے والے نقصان کی وجہ سے کئی کسان قلاش ہو گئے ہیں۔

Image caption ہاتھیوں کے مرنے کے کئی واقعات کے بعد محکمے نے کچھ لوگوں کے خلاف مقدمے درج کر رکھے ہیں

وہ کہتے ہیں: جب مکئی کی فصل تیار ہو گئی تو ہاتھیوں نے حملہ کر دیا اور سب کچھ تباہ برباد کر دیا۔ ہزاروں ایکڑ میں لگی دھان اور مکئی کی فصل برباد ہو گئی ہے اور ساتھ میں وہ کسان بھی برباد ہو گئے ہیں جو اس کے تیار ہونے کا انتظار کر رہے تھے۔‘

انھوں نے بتایا کہ اسی سبب علاقے کے کسانوں اور دوسرے لوگوں کا غیظ و غضب بڑھتا جا رہا ہے۔

سماجی کارکن دھیریندر سنگھ ماليا نے بتایا کہ ان علاقوں میں ہاتھیوں کے مرنے کے بعد کئی لوگوں کے خلاف محکمۂ جنگلات نے کیس درج کیے ہیں۔

بعض معاملے میں ہاتھیوں کی موت کی وجہ بتاتے ہوئے انھوں نے کہا کہ کھیتوں میں پانی پہنچانے کے لیے عام طور پر کسانوں نے بور ویل لگوا رکھے ہیں جو بجلی سے چلتے ہیں۔ بعض معاملات میں ایسا ہوا کہ ہاتھیوں کا جھنڈ کھیت میں دھان کھانے آیا۔ کھیت میں پانی بھرا ہوا تھا اور بور ویل میں لگا تار ٹوٹ گیا جس کی وجہ سے ہاتھی کرنٹ لگنے سے ہلاک ہو گیا۔

دھرم جے گڑھ میں محکمۂ جنگلا ت کے افسر آر سی اگروال نے بی بی سی کو بتایا کہ گذشتہ چند ماہ میں جن کھیتوں میں ہاتھیوں کی بجلی لگنے سے موت ہوئی ہے ان کے مالکان پر کیس درج کیے گئے ہیں۔ دوسری جانب وہاں آباد لوگوں کا مطالبہ ہے کہ اس طرح کے معاملات کو فوراً واپس لیا جائے۔

اسی بارے میں