’چاند کا ٹکڑا اور تلخ زمینی حقائق‘

لداخ بھارت کے زیرِانتظام کشمیر میں تقریباً 12 ہزار فٹ کی اونچائی پر آباد ہے۔یہاں آنے کے بعد ابتدا میں آپ کا سامنا کسی انسان سے نہیں بلکہ یہاں کے قدرتی مناظر سے ہوتا ہے۔

چاروں طرف اونچے اونچے پہاڑ ، ہوا میں تھوڑی خنکی۔ یہ نظارے میدانی علاقے سے آنے والے کسی بھی باشندے کا دل جیتنے کے لیے کافی ہیں۔

لداخ میں رہنے والے سینیئر تاریخ دان اے جي شیخ نے ایک دلچسپ بات بتائی اور وہ یہ کہ لداخ کو چاند کا ٹکڑا کہا جاتا ہے۔ اس کا سبب بتاتے ہوئے کہتے ہیں ’ایک سیاح نے لداخ کے بارے میں لکھا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ کسی دوسرے سيارے سے کچھ بستياں لے کر لداخ پر چپكا دی گئی ہوں۔‘

لداخ پر بدھ مت کی ثقافت کی گہری چھاپ ہے تاہم جہاں جگہ جگہ بدھ مت خانقاہیں ہیں وہیں پڑوس کے گرودوارے سے ارداس اور پاس کی مسجد سے آتی اذان یہاں کی کثیر جہتی ثقافت کی عکاس بھی ہیں۔

سیاحوں اور یہاں چند دن گزار کر چلے جانے والے مجھ جیسے لوگوں کے لیے لداخ کا دوسرا پہلو جاننا بھی ضروری ہے۔

یہاں کے پہاڑ، ایڈونچر ٹریلز (مہمات سے پُر راستے)، یہاں کی روحانیت ، دنیا کی سب سے اونچی سڑک اور اس پر سرپٹ گاڑی چلانے کی مہم جوئی یہ سب اپنی جگہ ہے لیکن یہاں کی زندگی مشکلات کا مرقع ہے۔

موسم سرما میں یہاں درجۂ حرارت صفر سے کئی درجے نیچے ہوتا ہے اور اس دوران یہ علاقہ ملک کے باقی حصوں سے کٹ جاتا ہے۔

لداخ کے افسانوی سفر کے دوران یہاں کی حقیقت سے مجھے افضل خان نے روشناس کرایا۔ افضل خان یہیں پلے بڑھے ہیں۔

انہوں نے کہا ’موسمِ سرما میں یہاں بہت مشکلات ہوتی ہیں۔ سردی کے موسم میں پانی کی بھی قلت ہو جاتی ہے۔ نلوں میں پانی جم جاتا ہے۔ بعض اوقات بھارتی فضائیہ کے اہلکار دہلی یا چندی گڑھ سے سبزیوں اور دوسرا سامان ہم تک پہنچاتے ہیں اور اسی سے ہمارا کام چلتا ہے۔‘

یہاں کے بعض لوگوں کی دوسری شکایات بھی ہیں، بطور خاص اپنی شناخت اور بولی کے بارے میں۔

لداخ میں رہنے والے ٹی سمپل جیسے لوگ یہاں کی بولی کو بھارتی آئین کے آٹھويں شیڈول میں شامل کرنے کا مطالبہ کرتے آئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا ’پورے ہمالیائی علاقے میں تقریباً دس لاکھ 80 ہزار لوگ بوٹی زبان کا استعمال کرتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ اسے بھارتی آئین کے تحت تسلیم کیا جائے۔‘

پاکستان اور چین کی سرحد سے ملحق ہونے کی وجہ سے بھارت کے لیے لداخ کی کافی عسکری اہمیت بھی ہے۔

میں نے یہاں بہار اور اترپردیش جیسی ریاستوں کے لوگوں کی بڑی تعداد دیکھی، جو روزگار کی تلاش میں آتے ہیں۔

کام کاج کے درمیان لداخ کو جاننے سمجھنے کے لیے پانچ دن ناكافي سے رہے۔

یہاں میری آخری شام ٹھٹھرنے والی سردی میں باغوں کے درمیان الاؤ کے سامنے ہاتھ سینکتے اور اس کےگرد ناچتےگاتے مقامی لداخیوں کے درمیان گزری۔ اس خطے کو مزید جاننے کے لیے ایک بار پھر سے وہاں جانے کا خیال سر ابھار رہا ہے۔

اسی بارے میں