BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Wednesday, 21 April, 2004, 19:28 GMT 00:28 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
سنیل دت الیکشن میں تُرپ کے پتے
 

 
 
پہلی بار سنیل دت کی انتخابی مہم میں ان کا بیٹا سنجے دت بھی حصہ لے رہا ہے
ممبئی میں باندرہ ، سانتا کروز اور اندھیری جیسے اعلیٰ اور متوسط طبقہ کے علاقوں میں فلم اداکار سنیل دت انیس برس سے کانگریس کی طرف سے لوک سبھا کے لیے منتخب ہوتے چلے آرہے ہیں اور چھبیس اپریل کو عام انتخابات کے دوسرے مرحلہ میں وہ پانچویں بار پھر اپنی نشست کا دفاع کررہے ہیں۔

سنہ انیس سو ننانوے کے عام انتخابات میں جب بھارتی جنتا پارٹی اور شوسنیا کے اتحاد نے ممبئی کی لوک سبھا کے لیے چھ میں سے پانچ نشتیں جیت لی تھیں تو اس وقت بھی سنیل دت ہی کانگریس کے واحد امیدوار تھے جو یہاں سے کامیاب ہوئے تھے اور وہ بھی پچپن ہزار ووٹوں کے فرق سے۔

اس بار چوہتر سالہ سنیل دت کا مقابلہ شو سنیا کے نائب صدر اور دوسری مرتبہ راجیہ سبھا کے رکن بننے والے انتالیس سالہ سنجے نروپن سے ہے جن کا تعلق بنیادی طور پر بہار سے ہے اور وہ شو سنیا کے ترجمان اخبار ’دوپہر کا سامنا‘ کےمدیر رہ چکے ہیں۔

اندھیری (مشرقی) میں وجے نگر کے علاقہ میں سنجے نروپن کا انتخابی دفتر ہے جہاں ان کے چیف الیکشن ایجنٹ واگھ مئیر کا کہنا ہے کہ ان کے امیدوار کا سب سے مضبوط نکتہ یہ ہے کہ وہ جوان ہے اور متحرک ہے جبکہ مقابلے میں ایک عمر رسیدہ امیدوار ہے۔

شوسنیا کی انتخابی مہم میں سنیل دت کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ وہ لوک سبھا سے غائب رہتے ہیں اور عام لوگوں کا ان سے ملنا دشوار ہے۔

سنجے نروپن کا کہنا ہے کہ سنیل دت نے پانچ سال میں صرف تین بار اسمبلی کی کارروائی میں حصہ لیا ہے اور لوک سبھا میں ایک بار بھی کسی بحث میں حصہ نہیں لیا اور نہ کوئی قرارد داد پیش کی۔

اس کے برعکس شوسنیا کے مطابق ان کا امیدوار راجیہ سبھا (سینیٹ) کے پچاسی فیصد اجلاس میں شریک رہا اور اس کی کارروائی میں بھرپور حصہ لیتا رہا۔

شوسنیا کا دعویٰ ہے کہ سنجے نروپن کا دفتر وجے نگر میں سڑک کے کنارے ہے جہاں عام لوگ آسانی سے ان سے مل سکتے ہیں اور اپنے مسائل پر بات چیت کرسکتے ہیں۔

شو سنیا کی سنیل دت پر تنقید اپنی جگہ لیکن سنیل دت کا قلعہ بھی خاصا مضبوط ہے۔ ایک تو ان کی شہرت عام لوگوں میں بہت اچھی ہے اور عام طور لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ اچھی فطرت کے آدمی ہیں اور شو سنیا کے برعکس مذہبی اور نسلی تعصبات سے بالا ہیں۔

دوسرے سنجے دت نے اپنے حلقہ میں خاصا ترقیاتی کام بھی کرایا ہے۔ سینتا کروز کے رضوی پارک میں سنجے دت کا انتخابی دفتر ہے جہاں ان کے میڈیا منیجر کرشنا ہیگڑے کا کہنا ہے کہ ہمارے امیدوار کو سب اچھی طرح جانتے ہیں ، وہ صاحب بصیرت ہیں اور مقامی مسائل کو جانتے ہیں۔

سنیل دت کا انتخابی پوسٹر

سنیل دت نے گجرات میں اور دوسری جگہوں پر جہاں فرقہ وارانہ فسادات ہوئے اپنے طور پر امدادی کام کیا۔ اپنے حلقہ میں انھوں نے مختلف فنڈز سے دو ارب روپے سے زیادہ کے ترقیاتی کام کرائے۔

سنجے دت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اس بار سنیل دت کو یہ بھی فائدہ ہے کہ کانگریس کا شرد پوار کی نیشنلسٹ کانگریس سے اتحاد ہے جو پہلے کانگریس کا حصہ ہوتی تھی لیکن گزشتہ انتخابات میں اس کے اور کانگریس کے ووٹ تقسیم ہوگۓ تھے۔اب یہ دونوں ووٹ پھر متحد ہوگۓ ہیں۔

سنیل دت کو نچلے طبقہ کے ووٹروں میں بھی ہمیشہ برتری رہی ہے۔ اب یہاں پر بھی سخت مقابلہ ہوسکتا ہے۔

شوسنیا کی پہچان دور سے تو اس کے سربراہ بال ٹھاکرے کے شدت پسند بیانات سے ہوتی ہے لیکن ممبئی میں حقائق کچھ اور بھی ہیں۔ یہاں پر شو سنیا کے دفاتر اور جلسوں میں غریب اور نچلے درمیانے درجہ کے ہندو کثرت سے نظر آتے ہیں۔

شو سنیا اپنے دورِ حکومت سے ممبئی کے جھوپڑپٹی کہلانے والے علاقوں میں رہنے والوں کے لیے ان کی رہائش کی جگہ پر کئی منزلہ فلیٹ بنا کر ہر جھونپڑی والے کو دو سو پچیس مربع فٹ کی رہائشی جگہ مہیا کرتی ہے۔

جہاں سنیل دت کو فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے لیے ایک نیک نام شخص کے طور جانا جاتا ہے اور ان کو شرد پوار اور کانگریس کے اتحاد کا فائدہ ہے وہاں شو سنیا کو اپنے اتحادی وزیراعظم واجپائی کی عوام میں مقبولیت اور اس عام تاثر کا فائدہ ہے کہ گزشتہ پانچ برسوں میں لوگوں کی اقتصادی حالت اچھی ہوئی ہے۔

مقابلہ کانٹے دار ہونے کا امکان ہے اور ترپ کا پتہ عیسائی اور مسلمان ووٹر ہیں۔

شو سنیا کے امیدوار کے ترجمان واگھ مئیر بھی مانتے ہیں کہ فیصلہ کن ووٹ اقلیتوں کا ہے جن کی ایک بڑی تعدا اس حلقہ میں رہتی ہے یہاں تقریبا چودہ لاکھ ووٹوں میں سے ایک لاکھ ووٹ مسلمانوں کے ہیں اور ستر ہزار ووٹ عیسائیوں کے ہیں۔

یہ اقلیتیں اب تک سنیل دت کو ووٹ دیتی آئی ہیں اور ان کے میڈیا منیجر کرشنا ہیگڑے کا کہنا ہے کہ مسلمان گجرات کیسے بھول سکتے ہیں اور بی جے پی کو کیسے ووٹ دے سکتے ہیں۔

دوسری طرف شو سنیا کے امیدوار کے ترجمان کا کہنا ہے کہ سنیل دت اب تک اقلیتوں کے ووٹوں کو یہ سمجھتے آئے ہیں کہ یہ تو ہیں ان ہی کے لیکن اس بارایسا نہیں ہے۔

شو سنیا اس بار مسلمانوں اور عیسائیوں کی حمایت کے لیے سخت جدوجہد کررہی ہے۔ اگلے روز کچھ مسلمان تنطیموں نے شو سنیا کے حق میں بیان جاری کیا جبکہ با اثرعیسائی مقامی رہنما جارج ابراہیم اور بلیرڈ بادشاہ فرئیرے نے سنیل دت کے مخالف شو سنیا کی حمایت کا اعلان کیا ہے جو ممبئی میں پہلی بار ہوا ہے۔

سنیل دت کے حریف سنجے نروپن کا پوسٹر

تاہم بہت سے لوگوں کو شک ہے کہ کچھ مسلمان تنظیمیں اور عیسائی بااثر افراد کے کہنے پر ان اقلیتوں کے عام ووٹر سنیل دت کے خلاف ووٹ ڈال سکیں گے جو انیس برس سے ان پر اعتماد کرتے چلے آئے ہیں۔

تاہم ممبئی کے شمال مغرب میں واقع اس حلقہ میں مقابلہ سخت ہے۔ سنیل دت جو عام طور فلمی ستاروں کو اپنی انتخابی مہم کے لیے کبھی نہیں لائے اس بار ان کے بیٹے اور فلم ہیرو سنجے دت بھی ان کے جلسے میں شامل ہوکر اپنے والد کی انتخابی مہم میں سرگرم ہوگئے ہیں۔

 
 
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد