BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت:
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
’اولاد کو نیلام کرنے والوں کی منڈی‘
 

 
 
بچے برائے فروخت
’مہربانی کے کے مجھے خریدیے‘
بھارت کے زیر انتظام جموں و کشمیرمیں انتہا پسندی سے متاثر ضلع ادھم پور کے سینکڑوں خاندانوں نے آج جموں میں اپنے بچوں کی نیلامی کے لیے ایک منڈی لگائی- جس کے لیے وہ دور دراز علاقوں سےایک جگہ جمع ہوئے تھے۔

ہندو مذہب سے تعلق رکھنے والے یہ خاندان ریاستی علاقے کے ایک مائیگرنٹ کیمپ تلوارہ میں مقیم ہیں اورگزشتہ سات برسوں سے وہ حکومت سے مالی امداد کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔
نقل مکانی کرنے والے ان خاندانوں کا کہنا ہے کہ غربت اور مفلسی سے تنگ آ کر اب وہ اپنے بچوں کو نیلام کرنے پرمجبور ہیں-

ان لوگوں کا کہنا ہے کہ مائيگرنٹ کیمپ کے تقریباً ایک درجن بچوں کو پہلے ہی یا تو بیچا گیا ہے یا پھر نیلام کر دیا گیا ہے-

کینٹی، مہورگا‎‌ؤں سے تعلق رکھنے والے دلیپ سنگھ کے چھ بچے ہیں جن میں سے دو محض بارہ ہزار روپے کے عوض ایک بنیے کے پاس گروي رکھے گئے ہیں۔ ’میں مزدوری کر کے اپنے خاندان کا پیٹ پالتا ہوں لیکن چھ بچوں کا بوجھ میرے لیے بھاری پڑ رہا ہے‘۔

دلیپ نے کہا کہ ضرورت پڑنے پر بنیے سے قرض لینا پڑا تھا اور اس کے عوض دو بچوں کو گروي رکھنا پڑاہے- ’تین سال سے میں یہ قر‍ض چکا نہیں پایا اور میرے بچے اب بھی بنیے کے گھر میں کام کرتے ہیں‘-

بارہ سالہ رادھا دیوی نے کہا کہ اس کی ماں اسے جموں میں بیچنے کے لیے آئی ہے تا کہ باقی گھر والوں کا پیٹ بھر سکے- ’ہمارے گھر میں کبھی کبھی چولہ بھی نہیں جلتا اور ہمیں بھوکا ہی سونا پڑتا ہے اس لیے میں کسی کے گھر میں کام کرنا چاہتی ہوں تا کہ میرا اور میرے گھروالوں کا گزارہ ہو سکے‘۔

دوسرے بچوں کی طرح ششما بھی اپنے ہاتھوں میں ایک تختی لیے ہوئے تھی جس پہ ہندی میں لکھا تھا ’مہربانی کے کے مجھے خریدیے‘- قریب ہی بیٹھی اس کی بہن نے کہا کہ وہ پڑھنا چاہتی ہے لیکن اس کے ماں باپ اس حالت میں نہیں کہ وہ دونوں بہنوں کو پڑھا سکیں۔

’پیٹ بھرکھانے کونہیں ملتا تو پڑھیں گے کیسے؟‘

تیرہ سالہ رجنی نے کہا ’پیٹ بھرکھانے کونہیں ملتا تو پڑھیں گے کیسے؟‘

ادھم پورحلقے سے رکن اسمبلی بلونت سنگھ منکوٹیا کے مطابق ان خاندانوں کو سال دو ہزار چار تک سرکار کی طرف سے امداد دی جارہی تھی جو بعد میں اچانک بند کر دی گئی۔ ’یہ لوگ نہایت ہی خستہ حالت میں زندگی گزار رہے ہیں اور حالات نے انہیں اپنے بچوں کو بیچنے کے لیے بھی مجبور کر دیا ہے۔

حلقےکے رکن پارلیمان اور کانگریس کے رہنما لال سنگھ جب ان لوگوں سے ملنے آئے تو کیمپ میں موجود سینکڑوں ناراض لوگوں نے ان پر حملہ کردیا جس کے سبب وہ واپس لوٹ گئے۔ بعد میں سنگھ نے بچوں کی نیلامی کو ایک سیاسی ڈرامہ بتایا اور کہا کہ ’حکومت پہلے ہی ان کے مطالبات پر‏‏غور کر رہی ہے‘-

ریاست جموں کشمیر کے نائب وزیراعلٰی نے کہا ہے کہ وہ اس پورے معاملے کی تفتیش کررہے ہیں۔ انہوں نے ان لوگوں کی مدد کا یقین دلایا ہے۔

 
 
اسی بارے میں
کشمیر میں فوج کی بھرتی
07 March, 2006 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد