BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Friday, 21 July, 2006, 08:43 GMT 13:43 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
ممبئی دھماکے:مقدمہ لڑنےسےانکار
 

 
 
راج ٹھاکرے نے کہا ہے کہ وہ دیکھیں گے کہ ٹرین دھماکوں  کے مشتبہ افراد کا مقدمہ کون وکیل لڑتا ہے۔
راج ٹھاکرے نے کہا ہے کہ وہ دیکھیں گے کہ ٹرین دھماکوں کے مشتبہ افراد کا مقدمہ کون وکیل لڑتا ہے۔
انیس سو ترانوے میں ہونے والے ممبئی دھماکوں کے اہم دفاعی وکیل نتن پردھان نے اب مقدمہ لڑنے سے انکار کر دیا ہے ۔وہ اس کیس میں اٹھارہ ملزمان کی پیروی کر رہے تھے۔نتن پردھان نے آرتھر روڈ جیل کے خصوصی سیل میں قید ملزما ن کو نوٹس کے ذریعہ اپنے اس فیصلے سے آگاہ کیا ہے ۔

وکیل نتن پردھان فوجداری مقدمات کے مانے ہوئے وکیل ہیں ۔بارہ مارچ سن انیس سو ترانوے میں پہلے انہوں نے اڑتالیس ملزمان کے خلاف مقدمے کی پیروی کی لیکن اب وہ مقدمے کے اٹھارہ اہم ملزمان کی پیروی کر رہے تھے۔

وکیل نتن پردھان کا یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب شیوسینا سے علیحدہ ہوئے راج ٹھاکرے نے اپنی ایک ریلی میں اعلان کیا کہ وہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ ٹرین دھماکوں کے مشتبہ افراد کا مقدمہ کون وکیل لڑتا ہے۔

نتن پردھان نے اس کیس سے خود کو الگ کر لینے کا جواز یہ دیا کہ گیارہ جولائی کو ممبئی کی ٹرینوں میں جو دھماکے ہوئے اس کی مسلمان تنظیموں اور مسلمان رہنماؤں نے کھل کر مذمت نہیں کی اور اب انہیں احساس ہو رہا ہے کہ اب تک وہ بم دھماکوں کے ملزمان کی پیروی کر کے غلط کام کر رہے تھے۔

اقلیتوں کوآزادی
 ہندوستان ہی دنیا بھر میں ایسا ملک ہے جہاں اقلیتوں کو ان کے حقوق ملتے ہیں اور ہماری ہی سوسائٹی ایسی ہے جو برداشت کرتی ہے اور اقلیتوں کے نخرے اٹھاتی ہے جبکہ دنیا کے کسی بھی ملک میں اقلیتوں کو اتنی آزادی نہیں ہے۔
 
نتن پردھان
وکیل پردھان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے انیس سو ترانوے کے بم دھماکوں کے ملزمان کا دفاع مسلمان تنظیموں اور علماء اور لیڈروں کے کہنے پر کیا تھا کیونکہ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے ان کے نوجوانوں پر ’ملک اور قوم کے خلاف جنگ ‘ جیسی دفعات نافذ کر دی تھیں ۔

پردھان نے، جو مافیا سرغنہ ابو سالم کے بھی وکیل ہیں، مزید کہا کہ انہوں نے سالم کا بھی کیس اس لئے لیا تھا کہ اس کے خلاف صرف فلم اسٹار سنجے دت کے گھر اسلحہ پہنچانے کا الزام تھا ۔ پردھان کا کہنا ہے کہ انہیں اب افسوس ہے کہ ممبئی میں انیس سو ترانوے کے بعد سے ہونے والے تمام دھماکوں میں ملزمان مسلمان ہی رہے ہیں۔

پردھان کے مطابق ’ہندوستان ہی دنیا بھر میں ایسا ملک ہے جہاں اقلیتوں کو ان کے حقوق ملتے ہیں اور ہماری ہی سوسائٹی ایسی ہے جو برداشت کرتی ہے اور اقلیتوں کے نخرے اٹھاتی ہے جبکہ دنیا کے کسی بھی ملک میں اقلیتوں کو اتنی آزادی نہیں ہے۔‘

ایڈوکیٹ فرحانہ شاہ جو خود انیس سو ترانوے کے بم دھماکہ کے ملزمان کی اہم وکیل ہیں ، پردھان کے اس فیصلہ پر کہا کہ ’شاید انہوں نے یہ فیصلہ کسی دباؤ میں کیا ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ پردھان کے ہاتھ کھینچ لینے سےاس آخری مرحلے میں کیس پر اثر نہیں پڑے گا کیونکہ وہ پردھان کے ان اٹھارہ ملزمان کا کیس دیکھ رہی ہیں۔

 جب تک کوئی بھی ملزم عدالت کی نظروں میں خطاوار نہیں ہوتا تب تک وہ معصوم ہے اس لیئے راج ٹھاکرے کا یہ کہنا کہ کوئی بھی وکیل مشتبہ ملزمان کا کیس نہ لڑے غلط ہے۔
 
وکیل پردیپ ہنور

فوجداری معاملات کے نامور وکیل پردیپ ہنور نے پردھان کے اس قدم پر حیرت ظاہر کی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ وکالت کے اصولوں کی خلاف ہے۔ ’جب تک کوئی بھی ملزم عدالت کی نظروں میں خطاوار نہیں ہوتا تب تک وہ معصوم ہے اس لیئے راج ٹھاکرے کا یہ کہنا کہ کوئی بھی وکیل مشتبہ ملزمان کا کیس نہ لڑے غلط ہے اور راج ٹھاکرے یہ کہنے والے کون ہوتے ہیں ۔ دوسرے یہ کہ پردھان کا یہ عمل ان کی نظروں میں سماج میں ایک غلط مثال پیش کرے گا اور کوئی بھی پھر اپنے وکیل پر بھروسہ نہیں کر سکے گا۔‘

ایڈوکیٹ مجید میمن نے، جو خود بھی انیس سو ترانوے بم دھماکہ کیس کے کئی ملزمان کی پیروی کر رہے ہیں، کہا کہ پردھان نے ایسا کیوں کیا اس کے بارے میں تو وہ نہیں بتاسکتے لیکن اتنا ضرور کہہ سکتے ہیں کہ ملک کا قانون انہیں کسی بھی ملزم کا کیس لڑنے کی اجازت دیتا ہے لیکن اس کے باوجود وہ اس مرتبہ ان ٹرین دھماکوں کے مشتبہ افراد کا کیس لڑنے والے شاید آخری وکیل ہوں۔

واضح رہے کہ بارہ مارچ انیس سو ترانوے کو ہوئے بم دھماکوں کا ابھی تک فیصلہ سامنے نہیں آیا ہے ۔حکومت نے جلد از جلد فیصلہ کرنے کے لیئے عدالت پر دباؤ ڈالا ہے ۔اس کیس میں ایک سو تئیس ملزمان پر مقدمہ چل رہا ہے جن میں فلم اسٹار سنجے دت اور مافیا سرغنہ ابو سالم بھی شامل ہے ۔ ان دھماکوں کے بعد سے ممبئی میں کئی دھماکے ہو چکے ہیں جن میں ٹرین دھماکوں کے علاوہ گیٹ وے آف انڈیا ، زویری بازار ، گھاٹ کوپر دھماکے بھی شامل ہیں۔

 
 
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد