BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Wednesday, 09 August, 2006, 10:52 GMT 15:52 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
بمبئ بم دھماکے: اب تک کی تحقیقات
 

 
 
فائل فوٹو
ترانوے کے دھماکوں میں 257 افراد ہلاک جبکہ 317 زخمی ہوئے تھے۔
ممبئی کی ایک خصوصی عدالت تیرہ برس سے زیادہ چلنے والے انیس سو ترانوے کے بمبئی بم دھماکوں کے مقدمے کا فیصلہ توقعہ ہے کہ دس اگست کو سنایا گی۔

انیس سو ترانوے میں ممبئی شہر میں دو گھنٹے دس منٹ کے اندر بارہ سلسلہ وار بم دھماکے ہوئے۔ ان دھماکوں میں 257 افراد ہلاک جبکہ 317 زخمی ہوئے اور ستائیس کروڑ روپے سے زائد کی املاک تباہ ہوئیں۔

پہلے مختلف پولیس اسٹیشنوں میں کیس درج ہوئے اور تفتیش شروع ہوئی لیکن بعد میں جب معلوم ہوا کہ ان دھماکوں میں پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی بھی مبینہ طور پر ملوث ہے تو کیس سی بی آئی کے سپرد کر دیا گیا۔

ماہم میں ٹائیگر میمن کے الحسینی بلڈنگ میں گھر پر چھاپہ مارا گیا۔ پولیس اور سی بی آئی کے مطابق یہاں مبینہ طور پر بم گاڑیوں میں نصب کیئے گئے۔ پہلی گرفتاری مشتاق عبدالرزاق عرف ٹائیگر میمن کے مینجر اصغر مقادم کی ہوئی۔

انسداد دہشت گردی کے ٹاڈا قانون کے تحت 192 ملزمان کے خلاف کیس درج ہوئے۔مافیا سرغنہ داؤد ابراہیم، ان کے چھوٹے بھائی انیس ابراہیم، ٹائیگر میمن انور تھیبا، محمد عمر ڈوسا سمیت تیس ملزمان کو مفرور قرار دیا گیا۔ داؤد ابراہیم، انیس، ٹائیگر میمن، محمد ڈوسا، انور تھیبا پر ملک کے خلاف سازش اور جنگ، اسلحہ دھماکہ خیز اشیاء جمع کرنے، ملک میں فرقہ وارانہ فساد پھیلانے جیسے الزامات عائد کیئے گئے۔

جسٹس جے این پٹیل کو کیس کی سماعت کے لیئے مقرر کیا گیا۔ یکم اپریل کو آرتھر روڈ جیل میں ہی ایک خصوصی سیل قائم کیا گیا جہاں ملزمان کو قید رکھا گیا اور اسی کے احاطے میں عدالت قائم کی گئی۔

انیس اپریل 1993 کو فلم اسٹار سنجے دت کو پولیس نے گرفتار کیا۔ ان پر غیرقانونی طور پر اے کے 56 رائفل رکھنے کا الزام تھا۔ پانچ مئی کو ہائی کورٹ نے انہیں ضمانت دی لیکن جولائی 1994 کو انہیں دوبارہ گرفتار کیا گیا۔ سولہ ماہ جیل میں رہنے کے بعد سپریم کورٹ نے انہیں ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا۔

گرفتار ملزمان میں سے دو محمد عثمان جان خان اور محمد جمیل سرکاری گواہ بن گئے۔ دس اپریل 1995میں عدالت نے چھبیس ملزمان کو بری کر دیا۔ دو ملزمان ابو عاصم اعظمی اور امجد مہر بخش کو سپریم کورٹ نے باعزت بری کیا۔

1995 میں سی بی آئی نے عدالت میں فرد جرم دائر کی۔ اسی سال تیس جون کو پہلی گواہی شروع ہوئی۔ عدالت میں 686 گواہ پیش ہوئے۔ سرکاری وکیل نے سولہ ڈپٹی پولیس کمشنروں کی بھی گواہی قلمبند کی۔

انیتس مارچ انیس سو چھیانوے کو جسٹس پی ڈی کوڈے کو چارج دیا گیا۔ دوران سماعت گیارہ ملزمان کی پولیس مڈبھیڑ، گینگ وار اور بیماری کی وجہ سے موت واقع ہوگئی۔

اداکار سنجے دت سمیت 194 ملزمان ضمانت پر رہا ہیں۔ چھتیس ملزمان گرفتاری کے بعد سے اب تک جیل میں ہیں پولیس، سی بی آئی تفتیش اور گواہیاں 64 ہزار صفحات پر مشتمل ہیں۔

اس دوران سی بی آئی مافیا سرغنہ اور بم دھماکہ کیس کے ملزم ابو سالم، اعجاز پٹھان اور مصطفی ڈوسا کو ممبئی لانے میں کامیاب ہوگئی۔ ان کے کیس دیگر بم دھماکہ ملزمان سے علیحدہ کر دیئے گئے ہیں لیکن ابو سالم نے ہائی کورٹ میں عدالت کے اس فیصلہ کو چیلنج کیا ہے اور اپنا کیس بھی ان میں شامل کرنے کی درخواست دی ہے جس کی سماعت چودہ اگست تک ملتوی کر دی گئی۔

بم دھماکہ سازش

سی بی آئی نے عدالت میں جو فرد جرم دائر کی ہے اس کے مطابق داؤد ابراہیم، ٹائیگر میمن، محمد ڈوسا نے 1992 دسمبر میں انڈیا سے باہر دبئی میں بم دھماکوں کی سازش تیار کی۔ دبئی میں ایک ملاقات میں داؤد اور انیس ٹائیگر میمن کے علاوہ مبینہ طور پر پاکستان کی خفیہ انٹیلیجنس ایجنسی آئی ایس آئی کے ممبران بھی شامل تھے۔ سی بی آئی کے مطابق چند ملزمان کو تربیت کے لئے براستہ دبئی مبینہ طور پر پاکستان بھیجا گیا تھا۔

 مہاراشٹر کے ساحل سمندر دیگھی پر نو جنوری کو اسلحے کا ذخیرہ اتارا گیا۔ اس لینڈنگ میں مبینہ طور پر اسسٹنٹ کسٹم کلکٹر رنجیت کمار سنگھ اور کسٹم سپرنٹنڈنٹ سید سلطان ملوث تھے۔ کسٹم انسپکٹر جینت کیشو گورو نے مبینہ طور پر سرکاری گاڑی میں اسلحہ بھرا اور خود ڈرائیور کی سیٹ پر بیٹھ گئے۔ اس معاملے میں ڈرائیور اتم پوددار اور پولس سب انسپکٹر وجے پاٹل کو بھی ملزم قرار دیا۔
 
سی بی آئی
مہاراشٹر کے ساحل سمندر دیگھی پر نو جنوری کو اسلحے کا ذخیرہ اتارا گیا۔ سی بی آئی کے مطابق اس لینڈنگ میں مبینہ طور پر اسسٹنٹ کسٹم کلکٹر رنجیت کمار سنگھ اور کسٹم سپرنٹنڈنٹ سید سلطان ملوث تھے۔ کسٹم انسپکٹر جینت کیشو گورو نے مبینہ طور پر سرکاری گاڑی میں اسلحہ بھرا اور خود ڈرائیور کی سیٹ پر بیٹھ گئے۔ اس معاملے میں سی بی آئی نے ڈرائیور اتم پوددار اور پولس سب انسپکٹر وجے پاٹل کو بھی ملزم قرار دیا۔

سی بی آئی کے مطابق آر ڈی ایکس، اے کے 56 رائفلز، پستول ہینڈ گرینیڈ، ڈیٹو نیٹر پر مشتمل دھماکہ خیز اشیاء کی دوسری کھیپ دو فروری سے آٹھ فروری کے درمیان رائے گڑھ کے شیکھاڑی ساحل پر اتاری گئی۔

سی بی آئی کے ہی مطابق ملزم شریف پرکار نے کسٹم افسر محمد سید سلطان کی ایک میٹنگ ٹائیگر میمن کے ساتھ دو فروری کو کروائی تھی۔ اس معاملے میں سی بی آئی نے ایڈیشنل کسٹم کلکٹر سومناتھ تھاپا پر بھی اس سازش کا حصہ بننے کا الزام عائد کیا۔

سی بی آئی کے مطابق تمام دھماکہ خیز اشیاء اور اسلحہ ٹائیگر میمن کی ماہم کی عمارت الحسینی بلڈنگ کے زیر زمین گیراج میں جمع کی گئیں اور گیارہ اور بارہ مارچ کو یہاں میٹنگ ہوئی اور مبینہ طور پر تمام گاڑیوں میں بم نصب کئے گئے۔ اس کام کے لیئے سی بی آئی نے اٹھائیس ملزمان کو قصوروار قرار دیا ہے۔

سی بی آئی کے مطابق ٹائیگر میمن کے خاندان کو مبینہ طور پر ان باتوں کا علم تھا اور ان اس لیئے ان کی والدہ، والد، بھائی اور ان کے خاندان نے یکم سے بارہ مارچ کے دوران بمبئی چھوڑ دیا تھا اور وہ دبئی چلے گئے تھے۔

سی بی آئی کا کہنا ہے کہ کام ختم کرنے کے بعد بارہ مارچ کی صبح ٹائیگر میمن، انور تھیبا، جاوید چکنا، یعقوب ایڑا، محمد ڈوسا سمیت اہم ملزمان ملک چھوڑ کر فرار ہوگئے۔ پولیس آج تک انہیں گرفتار نہیں کر سکی ہے۔

( تحقیقات کی اوپر دی گئی تمام تفصیل پولیس تفتیش اور سینٹرل بیورو آف انوسٹی گیشن (سی بی آئی) کی عدالت میں داخل کردہ فرد جرم کی کاپی پر مبنی ہے۔)

 
 
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد