http://www.bbc.com/urdu/

Thursday, 10 August, 2006, 07:02 GMT 12:02 PST

ریحانہ بستی والا
بی بی سی اردو ڈاٹ کام ، ممبئی

بم دھماکہ کیس کے ملزم سنجے دت

فلم اسٹار سنجے دت بھی انیس سو ترانوے میں ممبئی میں ہونے والے بم دھماکوں کے مقدمے میں ایک ملزم ہیں ۔ 192 ملزمان میں ان کا نمبر 117 ہے۔ ان پر غیر قانونی طور پر ممنوعہ علاقہ میں اسلحہ رکھنے کا الزام ہے۔

سی بی آئی کے مطابق سنجے دت نے ملزم ابو سالم سے اے کے 56 رائفل لی تھی۔ ان پر تعزیرات ہند کی دفعہ 120(B) یعنی سازش، اسلحہ ایکٹ 25 , 1 (A) اور ٹاڈا کی دفعہ 3(3) کے تحت الزامات عائد کیئے گئے ہیں۔

اس وقت سنجے ملک سے باہر اپنی فلم کی شوٹنگ میں مصروف تھے ۔ انہوں نے وطن واپس آنے کا وعدہ کیا۔شوٹنگ روک کر وہ واپس آئے اور پولس نے انہیں سہارا ہوائی اڈے سے انیس اپریل 1993 کوگرفتار کیا۔

اس وقت کے اسسٹنٹ پولیس کمشنر والی شیٹی نے، جنہوں نے سجے دت کو گرفتار کیا تھا، بتایا کہ سنجے دت ہوائی اڈے سے پولیس کمشنر ہیڈ کوارٹر پہنچنے تک راستہ بھر روتے رہے۔ حراست میں جب انہیں دال چاول کھانے کے لیئے دیا گیا تو انہوں نے تین دنوں تک اسے نہیں کھایا تھا وہ کہتے رہے ’میں یہ نہیں کھا سکتا‘۔

اس دوران سنجے دت کو ’انڈہ‘ سیل میں رکھا گیا ۔انڈہ سیل کا مطلب ہے کہ چھوٹا سا کمرہ جس میں ہوا اور روشنی کا بھی گزر نہیں ہوتا اور اس ایک کمرے میں ملزم کو دیگر ملزمان سے علیحدہ رکھا جاتا ہے۔

سنجے دت کی وکیل فرحانہ شاہ کا کہنا ہے کہ ان کے موکل سنجے دت سے اس وقت کے ڈپٹی پولس کمشنر سنجے پانڈے نے مبینہ طور پر دھمکا کر بیانات پر دستخط کروا لیئے تھے بعد میں ان کے موکل نے عدالت میں اپنے بیان سے انحراف کیا تھا۔

جیل میں قید سنجے دت نے اپنی داڑھی بڑھا لی تھی۔ سولہ ماہ جیل میں قید رہنے کے بعد اکتوبر1995 میں انہیں چند شرائط کے ساتھ سپریم کورٹ سے ضمانت پر رہائی مِل گئی۔

جیل سے رہا ہونے کے بعد سنجے دت ٹاڈا کے قانون کے تحت بننے والی عدالت میں ہر سماعت پر حاضر رہتے ہیں۔ فلم کی شوٹنگ یا کسی بھی کام سے ملک سے باہر جانے کے لیئے انہیں عدالت سے خصوصی اجازت لینی پڑتی ہے۔

بم دھماکہ کیس کی خصوصی ٹاڈا عدالت کے جج پی ڈی کوڈے نے ستائیس جولائی کو اعلان کیا تھا کہ بم دھماکہ کیس کا فیصلہ وہ دس اگست کو سنائیں گے۔